بھٹو کب تک زندہ رہے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے سامنے مضامین اور کتب کا ایک پلندہ ہے، کچھ میری دائیں طرف پڑی ہیں اور کچھ بائیں جانب، ان سب کتابوں کا عنوان ایک ہی ہے۔ میر ذوالفقار علی بھٹو۔ اب مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں اسے ایک متکبّر جاگیردار سمجھوں یا ایک سیاست فہم، ذہین اور انسانی نفسیات سے کھیلنے والا بہترین مقّرر لکھوں۔ اس کو آمریت کی آغوش میں پلنے والا سر شاہنواز بھٹو کا ہونہار فرزند کہوں یا آمریت کے سامنے سر نہ جھکا کر امر ہونے والے ایشیا کے عظیم سیاسی رہنما کا خطاب دوں۔

قلم کی روشنائی جب تاریخ کے صفحات پر پھیلتی ہے تو قاری کے لئے گو کشش کا باعث بنتی ہے لیکن محرر کے ہاتھ میں انصاف کا ایسا ترازو پکڑا دیتی ہے جس کا احساس ایک دردِدل رکھنے والا انسان ہی کر سکتا ہے۔ بھٹوایک جاگیردارانہ سوچ رکھنے والا، مغرور، ظالم اورمنتقم مزاج شخص تھا، یہ ہیں وہ الفاظ جو اکثر منفی تاثرات رکھنے والے اصحاب کے ذہن میں ہیں لیکن اس بھٹو میں کون سی خوبی ایسی ہے جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت کے دل میں بھٹو بستا ہے؟

یہ وہ بھٹو ہے جس کو ضیاء کی آمریت، نواز شریف کی سیاست، عمران خان کی انقلابیت اور زرداری کی کرپشن بھی نہیں مار سکے۔ آج بھی جب کہیں سے نعرہ لگتا ہے کہ ”تم کتنے بھٹو مارو گے“ ہر طرف سے یہی صدا آتی ہی۔ ”ہر گھر سے بھٹو نکلے گا“۔ مجھے سیاست کی شد بد حاصل کیے چند ہی سال ہوئے ہیں لیکن گزشتہ الیکشن میں ایک ایسے پولنگ اسٹیشن پر پیپلز پارٹی کی کامیابی کے نتائج میرے سامنے سب کا منہ چڑا رہے تھے جہاں امیدوار کا کوئی پولنگ ایجنٹ بھی نہیں تھا لیکن یاد رہے کہ اس پولنگ اسٹیشن کی اکثریت بے زمین، بے گھر اور غریب خاندان تھے۔

راوی لکھتا ہے کہ بھٹو نہ صرف الفاظ کامداری تھا بلکہ وہ عوام کے دلوں سے کھیلنا بھی جانتا تھا۔ اوریانہ فیلاسی ماضی کے زلفی، حال کے ”بھوتو“ (یاد رہے کہ اہل عرب ذوالفقار علی بھٹو کو بھوتو کہہ کر بلاتے ہیں ) اور مستقبل کے شہید بھٹو کے بارے میں لکھتی ہیں وہ ایک متضاد شخصیت کے مالک تھے، وہ دولت مند تھے لیکن غریبوں کے ہمدرد، وہ ایک جاگیر دار تھے لیکن ساتھ ہی سوشلسٹ، اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک کٹر مسلمان تھے لیکن آزاد خیال بھی تھے۔

5 جنوری 1928 ء کو سر شاہنواز کے گھر پیدا ہونے والے ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ کھلنڈرا سا زلفی مستقبل قریب میں اتنا ذہین و فطین ثابت ہو گا کہ عوام کی امنگوں اور جذبات کا ترجمان بن کر ایک تاریخ رقم کر جائے گا۔ ابتدائے جوانی میں ہی سرمایہ دارانہ نظام سے نفرت اس کی گھٹی میں پڑی تھی اس کے قریبی ساتھی عمر قریشی لکھتے ہیں کہ وہ نو آبادیاتی نطام کے سخت خلاف تھا، وہ طلباء یونین کے کیفے ٹیریا میں بیٹھ جاتا اور امریکہ و اسرائیل پر سخت تنقید کرتا تھا، وہ کہا کرتا تھا ”یہ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ نہیں بلکہ جیونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ ہے۔”

مجھے یہ لکھتے ہوئے عجیب سی حیرت ہو رہی ہے کہ ایک جملہ جس سے وہ متاثر تھا اور اکثر اپنی تقریروں اور مباحثوں میں حوالہ دیا کرتے تھے، وہ تھا کہ“ ہر آنکھ کا ہر آنسو پونچھ ڈالیں گے ”وہ ہر آنکھ کا آنسو تو نہ پونچھ سکا لیکن پاکستان کی 70 فیصد سے زائد غریب آبادی کے لئے وہ کچھ اقدامات کر گیا جس کی وجہ سے آج بھی ہر آنکھ اس کے لئے اشک بار ہے۔ بھٹو کے مخالفین ایک الزام یہ بھی لگاتے ہیں کہ بھٹو نے ایوب خاں کی آشیر باد سے سیاست میں قدم رکھا لیکن ان کے والد سر شاہنواز پہلے ہی سیاست میں سرگرم تھے، سیاست میں پہلا قدم بھٹو نے 1957 ء میں رکھا جب وزیر اعظم حسین شہید سہروردی کی کے دور میں پہلی بار اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

قیام پاکستان سے قبل قائد اعظم محمد علی جناح کو ایک نوجوان طالب علم نے خط تحریر کیا جس میں لکھا ”میں ابھی اسکول میں پڑھتا ہوں اس لیے اپنے مقدس وطن کے قیام میں عملی طور پر مدد نہیں کرسکتا لیکن وہ وقت آنے والا ہے کہ جب میں پاکستان کے لئے جان قربان کر دوں گا۔ “ یہ الفاظ بمبئی میں زیر تعلیم 16 سالہ طالب علم ذوالفقار علی بھٹو نے نے 26 اپریل 1946 کو تحریر کیے، جو غریب عوام کی جنگ لڑتے ہوئے آخرکار 4 اپریل 1979 ء کو پھانسی پر چڑھ کر تاریخ میں امر ہو گیا۔

بھٹو کی جد وجہد تاریک رات کو اجالوں میں بدل دینے والی ہے لیکن مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ ان کا مزاج آمرانہ اور سوچ جاگیردارانہ تھی، ان کی زندگی میں ڈاکٹر نذیر احمد، جمعیت علمائے ا سلام کے مولوی شمس الدین، صادق آباد کے ممتاز طبیب ڈاکٹر محمد سلیم باجوہ جیسے لوگوں کے قتل کے الزامات اور مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے رسوائے زمانہ ایف ایس ایف (فیڈرل سیکورٹی فورس) کی تشکیل بھی ہے لیکن مجموعی طور پر جب ہم دیکھتے ہیں تو آئین پاکستان کے خالق، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی اور چین و عرب کے دوست رہنما کی خوبیاں ہمیں بے ساختہ اس کی تعریف پر مجبور کر دیتی ہیں۔

وہ ایک ایسا رہنما تھا جو ہمیشہ عوام کی آواز بنا بلکہ ہر شعبہ زندگی میں اور ہر موقع پر پاکستانی عوام کا ترجمان بن کر بڑے بڑے ایوانوں میں اپنی گھن گرج سے طاغوتی طاقتوں پر اپنی ہیبت بٹھا تا گیا۔ اگر ہم نواز شریف اور عمران خان کا موازنہ بھٹو جیسے شخص سے کریں تویہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ نواز شریف اور عمران خان کو گو راج سنگھاسن پر بٹھا دیا گیا لیکن ان میں وہ خداداد صلاحیت موجود نہیں تھی جس کے ذریعے وہ مخالفین تک عوام کے دل کی آواز پہنچا سکیں۔

حال ہی کی بات ہے جب وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی تقریر کا بہت شور مچا لیکن بھٹو کی 22 ستمبر 1965 ء کو سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی تقریر کے یہ الفاظ سن کر آج بھی ہر غیرت مند پاکستانی بے اختیار بھٹو کو داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ ”ہم ہزار سال تک لڑیں گے، ہم اپنے دفاع میں لڑیں گے، ہم اپنے وقار کے لئے لڑیں گے، ہم زندگی کو نشوو نما دینے والے لوگ ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارا نام و نشان مٹا دیا جائے۔

ہم نے اپنے وقار کے لئے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان کی خاطر لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ”گو یہ تقریر انگریزی میں ہے لیکن جو لوگ انگریزی نہیں جانتے وہ بھی بھٹو کی آواز کے زیرو بم اورلہجے سے بے اختیار جھومنے لگتے ہیں۔ وہ عوام کا لیڈر تھا، اسے مزدور کی محرومیوں، کسانوں کے مسائل اور طلباء کے جذبات و احساسات کا بخوبی علم تھا اس لئے بھٹو ان کے حقوق کا داعی بن کر نکلا اور ہر محروم طبقے کی آواز بنتا گیا۔ وہ نچلی سطح کے لوگوں کے دل کی دھڑکن تھا اسے بخوبی علم تھا کہ ایک غریب کے چولہے کا کتنا خرچ ہے؟

وہ مستقبل کے معمار کو اپنے جمہوری حق کے لئے تو تیار کرنے میں پیش پیش تھا لیکن وہ اہل عرب کی دل کی آواز تھا، سابق سفیر کرامت اللہ غوری لکھتے ہیں کہ عرب بھٹو کی شہ زوری سے بھی متاثر تھے۔ بھٹو نے مغربی دنیا کی تمام تر کوششوں اور دباؤ کے باوجود پاکستان کو جوہری طاقت بنانے کے لئے جو نعرہ لگایا تھا وہ عربوں کے لئے بہت پر کشش تھا اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عربوں کو کوئی ایسا ملک نظر نہیں آتا تھا جو اسرائیل کے مقابلے میں ایٹمی ہتھیاروں کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

بھٹو کو عرب کا منظور نظر بنانے میں ان کی شعلہ بیانی اور سوشلسٹ نظریات بہت کارگر ثابت ہوئے۔ سب جانتے ہیں کہ بھٹو ایک جذباتی اور جوشیلے انسان تھے اور بھٹو کی طرح عرب بھی بہت جذباتی واقع ہوئے ہیں لہذا عرب آراء کا پلڑا بھٹو کے حق میں جھک جانا کوئی تعجب خیز امر نہیں ہے۔

یہ میرا مشاہدہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے اپنے ہر دور حکومت میں غریب کی فلاح و بہبود اور روزگار کے لئے نہ صرف عملی اقدامات کیے بلکہ ان کو ہر قسم کی سہولیات بہم پہنچائیں درجہ چہارم اور کلر ک جیسی چھوٹی نشستوں پہ ہمیشہ تعیناتی کی جس کی وجہ سے آج بھی غریب طبقے کی سیاسی ہمدردیاں بھٹو کی پارٹی کے ساتھ ہیں بلکہ ان کاووٹ بھی صرف پیپلز پارٹی کا ہے۔ میرے خیال میں جب تک پاکستانی سیاست میں بھٹو کا کوئی متبادل نہیں ملتا، بھٹو اسی طرح لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گا اورایسا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کوئی ایسا لیڈر آئے جو بھٹو سے زیادہ ذہین و فطین اور غریبوں کا ہمدرد ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کی آواز میں اپنی آواز ملا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *