ذکر اس پری وش کا، پھر بیاں اپنا

عمومی طور پر جس جگہ بھی پہنچنا ہو تو لیٹ ہو جانا میرا معمول ہے جو کہ ایک خاصی بری عادت ہے۔ مگر اس لیٹ ہونے میں جو ذرائع و عوامل ہمیشہ انہونی طور پر شامل رہتے ہیں وہ زمانہ کہاں سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی کبھی ایسی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہے مگر یہ قابل فخر بات بھی نہیں۔ آج شاید کچھ زیادہ انہونی ہو گئی۔ طے کیے ہوئے وقت سے پندرہ منٹ پہلے منزل آ گئی۔ مقام

Read more

برج العرب سے برج خلیفہ تک

دبئی میں دن رات کی گھڑی اور اس کی رفتار کچھ حد سے زیادہ تیز ہے۔ مگر ہمارے والوں کو تو بیچنے کی حد تک ہی جچتی ہے۔ وقت کی رفتار کے مقابلے کی سوچ ابھی دور ہے۔ دن و رات کے آنے جانے میں بس سونے کا وقت مل جانا ہی موقع غنیمت ہوتا ہے۔ ایک عالمگیر قسم کے تجارتی و سیاحتی شہر سے توقع بھی یہ ہی کی جا سکتی ہے۔ شارجہ سے لے کر جبل علی تک

Read more

حیات بلوچ کے نام

ستم ظریفی ہے؟ انتہائے ظلم ہے؟ جبر ہے؟ یا شاید یہ الفاظ بھی بلوچستان کے دور ماندہ حصے میں اس گزرے واقع کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ دوسروں کی حیات کو اس طرح بے دردی اور سر عام ختم کرنے کے اختیاری گھمنڈ والی رسم کوئی نئی نہیں ہے۔ یہ دہائیوں سے چلی آ رہی ایک ذہنیت کا نام ہے۔ جسے سماجی و تہذیبی دائرے میں لانے کے لیے فلاحی ریاستوں کا تصور پیش کیا جاتا ہے۔ ریاست

Read more

مقتدر حلقے اور قاضی کا کٹہرہ

قاضی فائز عیسی بالآخر سرخرو ٹھہرے! سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کی طرف سے بدنیتی پر مبنی صدارتی ریفرنس بھی خارج کیا گیا اور جج صاحب کے خلاف شو کاز نوٹس بھی واپس لے لیے گئے۔ اور ان کی اہلیہ کی جائیداد کے معاملے کو 3۔ 7 کی اکثریتی رائے سے ایف بی آر کو بھجوا دیا گیا جو محض اب ایک ٹیکس کا معاملہ ہے۔ اور جس جائیداد کی منی ٹریل جج صاحب کی اہلیہ سپریم کورٹ کی کارروائی میں

Read more

بلاول کو ایک حکومتی پیغام ملنے کے بعد پیپلزپارٹی نے ترامیم واپس لیں

لاہور کی ہفتہ وار شامیں اکثر و بیشتر الحمرا یاترا کرواتی رہتی ہیں۔ آج بھی ایک ’تھنک فیسٹ‘ نامی محافل جمع تھیں وہاں۔ پہلی حاضری جس سیشن میں لگائی اس کا عنوان تھا، ”کیا پارلیمنٹ اب بھی متعلقہ ہے؟ “۔ میزبانی کے فرائض پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے سر انجام دیے جبکہ مہمانان خصوصی میں مشرف دور کے سابقہ سینیٹر و وفاقی وزیر جاوید جبار اور سابقہ وزیر تجارت و دفاع اور لیگی ایم این اے خرم دستگیر

Read more

یورپین سیر اور اسیران وطن

قطر ائیرویز کی پرواز نمبر 621 نے لاہور ائیر پورٹ سے صبح تین بجے اڑان بھری اور دوحہ ایئرپورٹ کی ایک اور یاترا کروا ڈالی۔ راستے بھر میں Air Turbulence کی شدت نے بھی نیند سے غافل ہونے نہیں دیا۔ شاید پاکستانی ہوائی معیشت کے اثرات اب ہوائی جھٹکوں کی صورت میں جہازوں کا بھی برا حال کرتے ہیں۔ مگر سونا تو ہم جیسوں کا قومی مشغلہ ہے، ظاہر ہے اب حامل ہذا کو مطالبے پر ادا کرنے سے تو

Read more