محل کی شہزادی کی کہانی دوبارہ لکھی جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لڑکے چاہتے ہیں کہ ہم شہزادوں کی طرح زندگی گزاریں، لڑکیوں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی شہزادی کی طرح ایک محل میں رہیں اور دنیا بھر کی اس سب سے عمومی خواہش کے برعکس ایک حقیقی شہزادہ ہیری اپنی شہزادی میگھن کو لے کر محل سے دور جاناچاہتا ہے، وہ شاہی خاندان کی چھاپ سے ہٹ کر اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہے، یہ ایک دلچسپ صورت حال ہے۔

اگر شہزادہ محل چھوڑتا ہے تو وہ ایک عام آدمی بن جائے گا، اسے اپنی آمدنی اور بچوں کے مستقبل کا سوچنا اور پھر اس کے لئے تگ و دو کرنا ہوگی گویا شہزادہ وہی کرے گا کہ جس سے بچنے کے لئے ہم شہزادوں جیسی زندگی کے خواب دیکھتے ہیں، یہ حقیقتاًایک منفرد معاملہ ہے کہ ہم عام انسانوں کی زندگی کے خواب ایک شہزادہ دیکھ رہا ہے۔

شہزادے نے ان تمام کہانیوں کو جھوٹا کردیا، جو ہم نے بچپن سے پڑھی تھیں اور جن کو پڑھ کر محل اور محل والوں کی چاہ میں اضافہ ہوتا تھا، عام زندگی میں ایسی کیا کشش ہے جو ہم عام زندگی گزارنے والوں کو نہیں معلوم اور ہم میں سے اکثر اس سے چھٹکارے کی تمنا کرتے ہیں جبکہ ایک شہزادہ ہمارے طرز زندگی کی تمنا کررہا ہے۔

شہزادہ اور شہزادی شاہی زندگی سے اس لئے دور جانا چاہتے ہیں کیونکہ وہ شاہی زندگی میں خوشی محسوس نہیں کرتے، اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ خوشی دراصل کیا ہے، یہ کیسے ملتی ہے، جب ایک شہزادہ اور شہزادی محل میں خوش نہیں ہیں تو آخر خوشی کا حقیقی مطلب کیا ہے۔

خوشی کی تلاش کے حوالے سے آگاہ کرتا دنیا میں ایک Motivational Speakers کا گروہ کافی مقبول ہے جن میں سے بیشتر دولت کے حصول اور کیرئیر میں کامیابی وغیرہ کو خوشی کا ذریعہ بتاتے ہیں، مذہبی طبقہ فنا فی الذات کو خوشی کے حصول کا ذریعہ بتاتاہے، ان تمام نظریات کے ساتھ خوشی کے حصول کے حوالے سے دنیا میں ایک زبردست تحقیق بھی موجود ہے، اس تحقیق کا آغاز 1938 میں ہوا، ہارورڈ یونی ورسٹی کے Study Of Adult Development نے یہ تحقیق کی جس میں یونی ورسٹی کے 268 طلبہ کی زندگیوں پر 80 برس تک تحقیق کی گئی، ان طلبہ میں امریکی صدر جان ایف کینیڈی بھی شامل تھے، معروف صحافی بین بریڈلی بھی اس تحقیق کا حصہ تھے، اس زمانے میں خواتین یونی ورسٹی میں نہیں پڑھتی تھیں تو وہ اس تحقیق کا حصہ نہیں بنیں تاہم تحقیق کے دائرے میں آنے والے طلبہ نے جب شادیاں کیں تو ان کی بیویوں اور بعد ازاں بچوں کو تحقیق میں شامل کیا گیا، یہ تعداد 268 طلبہ سے 1300 افراد تک پہنچ گئی جن کے مسلسل انٹرویوز ہوئے، ان کو سوالنامے دیے گئے اور ان کی زندگیوں سے متعلق ڈیٹا اپ ڈیٹ رکھاگیا، طلبہ کی ہینڈ رائٹنگ سے لے کر ان کے ڈی این اے رپورٹس تک کو پرکھا گیا۔

یہ تحقیق کافی پھیلی ہوئی تھی، اس میں افراد کی صحت کا ڈیٹا بھی مرتب کیا گیا، شادی اور کیرئیر سے متعلق زندگی کی کامیابیوں اور ناکامیوں کو بھی جانچا گیا، رابرٹ والڈنگر اس اسٹڈی کے ڈائریکٹر ہیں، انہوں نے اس تحقیق کے نتائج دنیا کو بتائے، اس وقت تک صرف اس تحقیق میں شامل 19 طلبہ حیات تھے، رابرٹ والڈنگر نے Ted Talk میں بھی اس تحقیق کے نتائج کو شیئر کیا، جس کی یوٹیوب پر موجود ویڈیو کو آج تک کی تاریخ تک 15 ملین لوگ دیکھ چکے ہیں۔

ہارورڈ یونی ورسٹی کی اس غیرمعمولی تحقیق کے مطابق انسان خوشی اسی وقت محسوس کرتا ہے کہ جب اس کے قریبی رشتوں سے اچھے تعلقات ہوں، جن افراد کی شادیاں کامیاب رہیں، ان کی صحت بڑھاپے تک بہتر رہی، جن کی شادیاں ناکام ہوئیں، وہ جسمانی وذہنی عوارض میں مبتلا ہوئے اور ان میں سے بیشتر تنہائی کا شکار ہوکر شراب کے سہارے زندگی گزارنے لگے، تحقیق سے یہ بھی پتہچلا کہ تنہائی انسان کے لئے سب سے مضر ہے، تنہائی نہ صرف خوشیوں کو کم کرتی ہے بلکہ ذہنی و جسمانی صحت کو بھی تباہ کرتی ہے۔

شہزادہ اور شہزادی کی شاہی زندگی چھوڑنے کی خواہش بظاہر ذاتی رشتوں پر شاہی لوازمات کے اثرانداز ہونے کی وجہ سے سامنے آئی ہے، ہیری کے لئے بظاہر شہزادہ ہونے سے زیادہ اہم ایک شوہر اور باپ ہونا ہے اور یہی رشتہ اسے خوشی دے سکتا ہے، اسی طرحمحل کی پرتکلف آسائشات میں گھری میگھن ہر لمحہ عوامی توجہ کا مرکز ہے، اس کے لئے زیادہ خوشی کی وجہ شوہر اور بچوں کیتوجہ کا مرکز بننا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی خوشی کو ترجیح دی اور محل چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

ہارورڈ یونی ورسٹی کی تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا کہ جو لوگ اپنے قریبی رشتوں بشمول والدین، بہن بھائیوں، شوہر بیوی یا بچوں سے ازحد لگاؤ رکھتے ہیں، ان کی یاداشت بھی دوسروں سے بہتر رہتی ہے، یہ بات بتاتے ہوئے رابرٹ والڈنگر کا کہنا تھا کہ قریبی رشتوں سے خوش گوار نوعیت کے تعلقات ہمارے جسم کو ہی نہیں بلکہ ذہن کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں، اس تحقیق کے حوالے سے یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ تحقیق فوراً اپنے نتیجے پر پہنچ گئی، کلارک ہییٹ اس تحقیق کے پہلے ڈائریکٹر تھے، ان کا خیال تھا کہ شخصی و جسمانی قابلیت خوشیوں کا سبب بنتی ہے، کلارک ہییٹ نے 1938 سے 1954 تک اس اسٹڈی کی سربراہی کی، جارج ویلینٹ نے اس اسٹڈی کو 1972 میں جوائن کیا اور ان کے دور میں ہونے والی پیش رفت سے یہ نتیجہ بتدریج اخذ ہوتا گیا کہ قریبی رشتوں سے بہترین تعلقات ہی انسانی زندگی میں خوشیوں کا مؤجب بنتے ہیں۔

جارج ویلینٹ نے Aging Well کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی تھی، یہ کتاب اسی تحقیق کی روشنی میں لکھی گئی تھی، اس کتاب میں جارج ویلینٹ نے ایک اچھی زندگی کے لئے چند پہلوؤں کو اہم قرار دیا، پہلی جسمانی مشقت، دوسری شراب اور سگریٹ کے زیادہ استعمال سے گریز، زندگی کے نشیب و فراز سے مقابلہ کرنے کے لئے ایک پختہ رویے کا مظاہرہ تیسرا پہلو تھا جبکہ جارج ویلینٹ کے مطابق ایک خوش گوار زندگی کی چوتھا پہلو متناسب وزن اور خوش گوار شادی ہے۔

جب ہم شہزادہ ہیری اور شہزادی میگھن کے عمل کو دیکھتے ہیں تو یہ ان کا انتخاب ہے کہ خوشیاں حاصل کرنے کے لئے شاہی زندگی کو چھوڑ دیا جائے اور یہی ہماری زندگیوں کی خوشیوں کا راز ہے کہ ہم اپنے لئے کیا انتخاب کرتے ہیں، دنیا کی کوئی بھی صورت حال، مسئلہ، فرد یا حالات ہماری خوشیوں پر اثرانداز نہیں ہوسکتے، دولت کی کمی، کم تعلیم یا کیرئیر میں کسی ناکامی کا بھی خوشیوں سے کوئی تعلق نہیں، خوشی کا تعلق آپ کے انتخاب سے ہے اور یہ انتخاب آپ کو اپنے قریبی رشتوں سے خوش گوار تعلقات استوارکرکے کرنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *