قائدِ اعظم محمد علی جینا یا جناح؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قازکستانی مفکر جناب سلیمان اولیانوف جو اکثر شاعری بھی کرتا تھا، اس نے ایک جگہ کیا خوب لکھا ہے کہ: ”کارواں میں ہمیشہ آخری اونٹ پر قافلہ کوچ کرنے سے پہلے کچھ لادا نہیں جاتا! ہاں البتہ جب منزل قریب آتی ہے تب دیکھتے ہیں کہ وہ ہی اونٹ سب سے زیادہ سامان اٹھائے ہوئے ملے گا۔ ایسا اس لیے کہ سفر کے دوران اگلے اونٹوں سے جو چیزیں گرتی جاتی ہیں، قافلہ والے وہ چیزیں اس آخری اونٹ پر رکھتے ہیں۔ اسی بات کو مدٍ نظر رکھتے ہوئے اگر ہم سب اپنے آپ کو اپنی نسل، قوم یا نوع کی آخری“ جاتی ”سمجھیں اور اپنے گذشتہ پشتوں کی چھوڑی ہوئی نامکمل باتیں پوری کریں، اور غلطیاں درست کریں تو قافلہ اپنی منزل پر صحیح سلامت پہنچ سکتا ہے مع اپنی سب ملکیت کے! “ بات بڑی پتے کی کر گیا اولیانوف صاحب!

اور جب میں یہاں اپنی درسی کتب میں بابائے قوم قائدٍاعظم محمد علی جینا صاحب کی نامکمل خاندانی تاریخ دیکھتا ہوں تو سچ میں دکھ ہوتا ہے۔ میں نے اپنے طور پر سندھ اسمبلی کے سیکریٹری صاحب کو 1998 ع میں ایک خط بھی لکھا تھا۔ جس خط نے سرخ فیتہ کی زیارات کرتے کرتے اپنی منزل تو پا لی لیکن تھوڑی ادھوری۔

کیونکہ پچھلی دہائی میں محترمہ حمیرہ علوانی صاحبہ (ایم پی اے سندھ) نے یہ بل اسمبلی میں رکھا تھا کہ قائد اعظم صاحب کی ٹھٹہ ضلع کے ایک چھوٹے سے دیہاتی شہر ”جھرک“ میں پیدائش ہوئی تھی، اور سندھ ٹیکسٹ بوک بورڈ کے نصاب اور جنرل رجسٹر پرائمری اسکول جھرک میں داخلہ سرٹیفکیٹ ثبوت کے طور پر بھی پیش کردیے ہیں لہٰذا سرکاری طور پر یہ تاریخ کی تصحیح کی جائے۔ لیکن پھر ہُوا کچھ بھی نہیں۔ اور اب میں نے یہاں اس لفظ ”جناح“ کی تصحیح کرنے کے لیے یہ کالم لکھا ہے۔

اس بات سے کسی صاحب کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا کہ پاکستانی بھائیوں کی اکثریت قائد اعظم صاحب کے خاندان کے متعلق بس کہ نہ برابر ہی جانتی ہے۔ جس کا ثبوت کچھ برس پہلے میں نے طارق عزیز صاحب کے شو میں دیکھا کہ چار حاضرین کو قائدٍ اعظم صاحب کے والدٍ محترم کا نام تک نہیں آرہا تھا۔ انتہائی محتاط طریقے سے طارق صاحب نے پھر کچھ فقرے کسے تھے جس کا آسان مقصد یہی بن رہا تھا کہ ”شرم تم کو مگر نہیں آتی! “

تو لیجیے حاصلٍ موضوع! بابائے قوم قائدٍ اعظم محمد علی صاحب ”جھرک“ قصبہ (ضلع ٹھٹہ) کے ایک گجراتی اور اسمٰعیلی (جن کو مقامی طور پر شش امامی شیعہ کہا جاتا ہے ) اس خاندان کے ایک کھالوں کے بیوپاری محترم جناب جینا بھائی پونجا کے گھر 25 دسمبر 1876 ع کو پیدا ہؤا۔ ہم جب لفظ ”جینا“ پکارتے ہیں تو مہربانی کرکے یہ بات ملحوظٍ خاص رکھی جائے کہ یہاں ”جینا“ والی ”نا“ جس طرح پنجابی زبان میں ”مکھنا“ کی ”نا“ کہی جاتی ہے، اسی طرح کہی جاتی ہے۔ چونکہ اردو زبان میں اس طرح کی کوئی آواز نہیں ہے جس میں زبان کو تالو سے لگا کے اس ”ن“ کو بولا جائے، اس لئے یہاں ”جینا“ ہی لکھا جا رہا ہے۔ (پروانی صدیوں میں سندھیوں میں بیٹوں پر جینا اور بیٹیوں پر جیونی نام عام طور پر رکھا جاتا تھا، جس کا تعلق بڑی زندگی سے ہوتا ہے۔ یعنی جینے والا یا والی)

سندھی میں سیدھا سیدھا ”جیٹا“ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ بہرحال، جینا نام ہے، بھائی احترام کے ساتھ اور پونجا نسلی نام ہے۔ پورا نام ہوگا ”جینا بھائی پونجا“۔ قائدٍ اعظم صاحب کی والدہ کا نام ”مٹھی بائی“ تھا۔ سندھی میں ”مٹھی“ اور اردو میں ”میٹھی“ ایک ہی بات ہے۔ بعد میں یکہٍ بعد دیگر جینا بھائی پونجا صاحب کو چھ اولاد ہوئی جن میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہوئی، ان سب کے نام، احمد علی، بندے علی اور رحمت علی اور بیٹیوں کے مریم، فاطمہ اور شیریں رکھے گئے۔ جب جناب محمد علی صاحب ابھی سولہ برس کا ہؤا تو ماں کے اسرار پر اس کی شادی محترمہ ”امی بائی“ سے کروائی گئی جو کہ اس وقت وہ صرف چودہ برس کی تھی، اصل میں محترمہ ”مٹھی بائی“ (قائدٍ اعظم صاحب کی ماں ) کو ڈر بیٹھ گیا تھا کہ کہیں ان کا چہیتا بیٹا انگلینڈ جاتے ہی کسی گوری میم سے نہ شادی کردے۔

بہرحال قائدٍ اعظم صاحب جیسے ہی انگلینڈ روانہ ہوئے تو اس کے چند ہی ہفتوں کے بعد ”امی بائی“ انتقال کرگئی۔ بعد میں 19 اپریل 1918 ع قائدٍ اعظم صاحب نے ایک غیر مسلم لڑکی ”رتنی بائی“ سے دوسری شادی کی جس کا اسلام قبول کرنے کے بعد ”مریم“ نام رکھا گیا۔ لیکن یہ رشتہ بھی صرف تھوڑے ہی عرصہ پر محیط رہا۔ جس کی کوکھ سے ”دینا“ نے جنم لیا، شادی کے ٹھیک ایک برس کے بعد!

یہ ہے قائدٍ اعظم محمد علی جینا صاحب کے اپنے گھر کی باتیں۔ اب سوال یہاں صرف یہ ہے کہ انگریز بہادر تو اپنی زبان کے آگے مجبور تھے کہ اسے ”جناہ“ کہ کر پکارتے تھے۔ لیکن سرکار قائدٍ اعظم صاحب نے ہمارا کیا بگاڑا تھا کہ ہم اس کے والد صاحب کے نام کو بگاڑ کر بولتے ہیں؟

جب کہ اس دور میں سرکار قائد اعظم صاحب کا جب مسلم لیگ کے ابتدائی دنوں میں نیا نیا بول بالا ہو رہا تھا تب بھی اس کو ”جینا صاحب“ ہی پکارا جاتا تھا، جس بات کا ثبوت برِ صغیر پا ک و ہند کے معروف سیاستدان اور صحافی جناب سید سلیمان ندوی نے 1916 ء میں مسلم لیگ کے لکھنؤ اجلاس میں قائدِ اعظم کی شان میں یہ نذرانہ عقیدت پیش کیا تھا جس سے آپ سب دیکھ کر ضرور میری بات کو تسلیم کریں گے۔

اک زمانہ تھا کہ اسرار دروں مستور تھے

کوہ شملہ جن دنوں ہم پایہ سینا رہا

جبکہ داروئے وفا ہر دور کی درماں رہی

جبکہ ہر ناداں عطائی بو علی سینا رہا

جب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسے

جس پہ اب موقوف ساری قوم کا جینا رہا

بادہئی حبِ وطن کچھ کیف پیدا کر سکے

دور میں یونہی اگر یہ ساغر و مینا رہا

ملتِ دل بریں کے گو اصلی قوا بیکار ہیں

گوش شنوا ہے نہ ہم میں دیدہء بینا رہا

ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید

ڈاکٹر اس کا اگر ”مسٹر علی جینا“ رہا!

مزید آپ جینا صاحب کے نکاح نامے کی کاپی پر بھی دیکھ سکتے کہ جناب کو اس وقت کس نام سے رقم کیا جاتا تھا۔

جب ممبئی (موم بائی کا شہر) انگریزوں نے بگاڑ کر بمبئی کیا تھا اور آج اس کو تمام بھارتی اپنی اصل صورت یعنی ممبئی میں لے آئے ہیں تو ہم نے بھلا انگریزوں سے کوئی وظیفہ لیا تھا کہ جناب آپ جائیے، اور فکر نہ کریں ہم اپنی زباں کو ٹھیک اسی طرح بولینگے جس طرح آپ اس کا اپنی زبان میں بول کر ستیا ناس کرتے تھے! کیا ہم آج سے یہ نہیں عہد کرسکتے کہ اپنے محسن اور بابائے قوم کو ”قائدٍ اعظم محمد علی جینا“ پکارینگے، بجائے اس کے کہ ”قائدٍ اعظم محمد علی جناح“؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *