فیصل واوڈا نے بُوٹ کو تاریخی عزت دی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل اے آر وائی پر کاشف عباسی کے پروگرام میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا فوجی بُوٹ لے کر آ گئے اور انھوں نے اس کو اشارہ کر کے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ووٹ کو عزت دینے کی بجائے آرمی ایکٹ کی غیر مشروط حمایت کر کے در حقیقت اس بوٹ کو عزت دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اور بھی بہت غیر اخلاقی باتیں کیں جس پر پروگرام میں مدعو دیگر دو مہمان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما قمر الزمان کائرہ پروگرام چھوڑ کر چلے گئے۔

گو کہ فیصل واوڈا مسلم لیگ (ن ) اور دیگر اپوزیشن پارٹیز پر اپنے بیانیے سے انحراف کیے جانے پر درست تنقید کر رہے تھے۔ مگر تنقید کرنے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ آپ اس طرح کی اوچھی حرکتوں پر اتر آئیں۔ ان کی اس حرکت سے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی ساکھ تو شاید متاثر ہوئی ہو۔ مگر سب سے زیادہ اس سے فوج کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ کیونکہ فیصل واوڈا نے اپنے اس عمل نے یہ ثابت کیاہے کہ آرمی ایکٹ ترامیم پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے فوج کے کہنے پر ہی ووٹ دیا ہے۔

اور اس کے ساتھ ہمارے ملک کی سیاست میں بھی سب کچھ فوج کی مرضی سے ہی ہوتا ہے۔ بلاشبہ یہ ہماری سیاسی تاریخ کی ایک تلخ حقیقت ہے مگر اس طرح سے ایک لائیو پروگرام میں اس حقیقت کا اظہار کر کے اس پر فخر بھی کرنا کوئی قابلِ تحسین عمل نہیں ہے۔ میرے جیسے سیاسی بالادستی کے بیانیے کو سپورٹ کرنے والے لوگوں پر فوج پر تنقید کا الزام لگایا جاتا ہے۔ مگر اس سے پہلے بھی میں بار بار یہ بات واضح کر چکا ہوں کہ فوج سے کوئی ذاتی عناد نہیں ہے۔ اس کے اسی سیاسی کردار پر اعتراض ہے جس کا واضح ثبوت فیصل واوڈا نے پیش کیا۔ انھوں نے ان تمام فوجی جوانوں کی بھی توہین کی ہے جو یہ بُوٹ پہن کر ملک کی حفاظت کے لیے نا صرف اپنی جان کے نذرانے پیش کرتے ہیں۔ بلکہ ہر طرح کے مشکل حالات میں لوگوں کی مدد کے لیے بھی آتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ فیصل واوڈا کے اس فعل نے ان کی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف کو بھی بری طرح بے نقاب کیا ہے کہ ان کو حکومت بھی فوج کی اس طرح سپورٹ کرنے کی وجہ سے ہی ملی ہے۔ کیونکہ وہ برملا اس بات کا اظہار کررہے تھے کہ ان کو تو فوج کی سپورٹ کرنے پر فخر ہے۔ بلکہ ان کا یہ عمل شاید اس بوکھلاہٹ کا بھی اظہار ہے کہ آرمی ایکٹ پر ترامیم کی حمایت کے بدلے مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی اب حکومت کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہیں۔ اور ان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف اکیلی نہیں ہے جس کے ساتھ فوج کھڑی ہے۔ اگر موجودہ حکومت کی کارکردگی میں کوئی بہتری نہیں آتی تو پھر زیادہ دیر تک فوج کے لیے بھی اس حکومت کی حمایت برقرار رکھنا آسان نہیں ہو گا۔

کل کے اس واقعہ میں پروگرام آف دی ریکارڈ کے میزبان کاشف عباسی اور پروڈیوسر کا بھی رویہ بھی کوئی پیشہ وارانہ نِہیں تھا۔ کیونکہ انھوں نے نہ تو فیصل واوڈا کو سب کچھ کرنے سے منع کیا بلکہ جب دونوں سینئر سیاست دان، سینیٹر جاوید عباسی اور قمر الزمان کائرہ پروگرام چھوڑ کر جارہے تھے تو ان کو روکا بھی نہیں۔ اور بعد میں اکیلے فیصل واوڈا کے ساتھ پروگرام کرتے رہے۔ صحافت کی اخلاقیات کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ایسے ردعمل پر پروگرام ختم کردیتے مگر شاید انھوں نے ریٹنگ کو ترجیح دی، جو بہر حال آج کے میڈیا کا طرہ امتیاز ہے۔

باقی فیصل واوڈا کی طرف سے اس طرح کا تماشا لگانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ وہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے کئی تماشے لگاتے رہے ہیں۔ ہاں ان کے اس عمل سے بوٹ کو جو تاریخی عزت ملی ہے وہ شاید مسلم لیگ (ن) کے اپنے ووٹ کو عزت کے بیانیے سے انحراف سے بھی نہیں ملی۔ اور بوٹوں والے بھی یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کیسے لوگوں کو حکومت میں لے آئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *