غلط فہمیاں اور مذہبی انتہا پسندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز پہلے ملتان میں ختم نبوت سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے ملتان ہائی کورٹ بار کونسل کے الیکشن میں غیر مسلمانوں (احمدیوں ) کا الیکشن میں حصہ لینے کے خلاف احتجاج کیا۔ بلکہ غیر مسلم وکلاء کے الیکشن لڑنے پر پابندی لگائے جانے کی قرارداد بھی منظور کی۔ اس خبر کو پریس میڈیا نے شائع کیا۔ اوورسیز میں رہنے والے لبرل اور سیکولر سوچ رکھنے والے ایکٹیوٹس نے سوشل میڈیا پر احتجاج کیا۔ حساس ایشو ہونے کی وجہ سے پاکستان میں کسی نے اس پر تبصرہ نہیں کیا۔

بعد ازیں ملتا ن ڈسٹرکٹ بار کونسل نے اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر کی تردید یوں کی کہ ان کا مقصد الیکشن میں حصہ لینے والے مسلم امیدوارکو ختم نبوت کے حلفیہ بیان کا فارم پر کرنا لازمی ہونا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ غیرمسلم اس الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔ خیر ملتان کے وکلاء نے عقل مندی کا ثبوت دیا اور 13 دسمبر کوانسانی حقوق کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب میں ضلع اٹک کی اسسٹنٹ کمشنر جنت حسین نے تقریر کی کہ ہمیں غیر مسلم اقلیتوں کو برابر کے حقوق دینے چاہیں۔ ہم آپس میں تفرقہ بازی میں پھنس چکے ہیں کہ فلاں شیعہ ہے، فلاں سنی ہے، فلاں احمدی ہے اور فلاں وہابی ہے۔ ان سب اختلافات کو بھلا کراور تفرقات کی حد بندیوں سے نکل کر صرف اور صرف اپنی شناخت ایک مسلمان اور پاکستانی بنانے کی ضرورت ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ ویڈیو وائرل ہو گئی جس سے اسسٹنٹ کمشنر مشکل میں پھنس گئی۔ چند طلبا نے جارحانہ انداز میں ان کے ذاتی عقیدے کی وضاحت بھی مانگ لی کہ انہوں نے اتحاد کی بات کرتے ہوئے لفظ ’احمدی‘ کیوں استعمال کیا۔ جس پر انہیں اپنے الفاظ واپس لینے پڑ گئے۔ گویا احمدیوں نے نہ صرف مسلمانوں کے خلاف سرگرمیاں جا ری رکھیں بلکہ انہوں نے مسیحیت کے خلاف بھی بہت کچھ کہا اور شائع کیاہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں 1973 میں غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔

ہمارے ملک میں بہت سے عوامل ہیں جنہوں نے پاکستانی عوام میں مذہبی انتہا پسندی کا زہر انجیکٹ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جہالت کی انتہا ہے کہ عوام ایسے لوگوں کی باتوں میں بہت جلد پھنس جاتے ہیں اور مذہبی جذبات کی رو میں مشتعل ہو کردوسروں کا نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ جس میں گلوبل جنگیں اور پروپیگنڈا بھی شامل ہے۔ ماضی میں مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دینے میں جنرل ضیاء الحق کا بھی بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ 1980 اور 1986 کے درمیان جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے دور میں پاکستان کے قانون کی متعدد شقوں 295 بی اورسی کا اضافہ کیاگیا۔

جنرل ضیا الحق ان قوانین کو اسلام سے مزید مطابقت دینا چاہتے تھے اور احمدیہ برادری (جسے 1973 میں غیر مسلم قرار دیا جا چکا تھا) کو ملک کی مسلمان اکثریت سے علیحدہ کرنا چاہتے تھے تاکہ یہ شقیں احمدیوں کی مسلم مخالف سرگرمیوں کو روکتیں۔ مگر نا سمجھ علماء اورعلم سے عاری عوام نے ان قوانین کا استعمال مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں کے خلاف اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے شروع کر دیا۔ اس کے غلط استعمال نے نہ صرف مذہبی اقلیتوں کوبلکہ خود مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ یوں تو پاکستان بھر میں مذہبی انتہا پسندی کا زہر پھیل چکا ہے مگر صوبہ پیجاب، صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان میں مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے ہزاروں بیگناہ موت کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔

المیہ یہ ہے کہ ملتان جو اولیائے کرام کا شہر ہے یہاں عام لوگوں میں مذہبی انتہا پسندی کی شرح بھی زیادہ ہے اور ختمِ نبوت سے تعلق رکھنے والے وکلاء کی بھی اکثریت ہے۔ مدعا یہ ہے کہ بہت پڑھے لکھے اور وسیع سوچ رکھنے والے لوگ بھی اس مذہبی انتہاپسندی اور تعصب کا خمیازہ بھگت چکے ہیں جس کی زندہ مثال فْل برائیٹ اسکالرجنید حفیظ ہے جس کا تعلق پنجاب کے شہر راجن پور سے ہے۔ وہ 2010 میں امریکا کی جیکسن اسٹیٹ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان آیا۔ اور آج 6 سال سے توہین مذہب کے الزام میں جیل میں قیدِ تنہائی کاٹ رہا ہے اور طویل مدت تک اس کے کیس کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ ملتان میں انسانی حقوق کمیشن کے سرکردہ رہنما ارشد رحمٰن جنید کی مدد کو آئے توانہیں فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا۔

مذہبی انتہا پسندی کا زہر کچھ اس طرح سے معاشرے میں سرایت کر دیا گیا ہے اور قانون کو اپنے مقاصد اور مفادات کے لئے استعمال کرکے عام عوام کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ اب چاہے وہ مسلمان ہو یا اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو وہ غیر محفوظ ہے۔ اورحق کی آواز اٹھانے والے کو خاموش کر دیا جاتا ہے اور جب کبھی اقلیتیں اپنے ساتھ ہونے والی مذہبی انتہا پسندی سے نکلنے کی کوشش کرتی ہیں یا اقلیتوں کے تحفظ کے بل کو اسمبلی میں لانا چاہتی ہیں یاحکومت ان قوانین میں ترمیم کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ اس کے غلط استعمال اور مذہبی انتہا پسندی کو روکاجائے۔

تو سب سے پہلے مذہبی تنظیمیں مخالفت میں اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ ابھی تک تیاری کے باوجود اسلامی نظریاتی کونسل جبراً تبدیلی مذہب و نکاح جیسے اہم مسئلے کی سفارشات حکومت کوپیش نہیں کر سکی۔ نہ ہی اقلیتوں کے تخفظ کا بل قومی اسمبلی میں پیش ہو سکا۔ جب نیب کے اختیارات کو کم کرنے اور ترمیمی آرڈیننس کی بات چل رہی تھی۔ تو اسلامی نظریاتی کونسل نے فوری نیب میں غیر اسلامی شقوں کی نشاندہی کر دی۔ مگرشاید جب اقلیتوں کے حق کی بات آتی ہے تو اسلامی نظریاتی کونسل کسی مصلحت کا شکار ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذہبی انتہا پسندی میں کمی ہونے کی بجائے اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔

2010 میں برسرِاقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اس حوالے سے ایک بل متعارف کروایا۔ اس بل میں مذہبی جرائم کے حوالے سے پروسیجر میں تبدیلی کے لیے کہا گیا تھا تاکہ یہ کیسز اعلیٰ پولیس افسران کے پاس جائیں اور اعلیٰ عدالتیں ہی ان کیسز کو سنیں۔

مگر فروری 2011 میں مذہبی جماعتوں کے زبردست دباؤ کے بعد اس بل کو واپس لے لیا گیا۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ان قوانین کی حفاظت کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ دیکھیں وہ وعدہ کب پورا کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *