بوٹ کی عزت کا معاملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مین سٹریم میڈیا سمیت شوشل میڈیا اور عوامی سطح پر بوٹ کی خوب چرچا ہے۔ اصولی طور پر تو ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ اداروں مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ کا احترام بہت ضروری ہے۔ ریاست آئین سے وجود میں آتی ہے۔ ریاست پر حکمرانی بھی آئین کی ہوتی ہے۔ آئین سے ہٹ کر حکومت غیرآئینی اور قبضہ تصور ہوتاہے۔ کسی بھی ریاست کے لئے آئین مقدس ترین دستاویز ہوتی ہے۔ بوٹ کی عزت کے معاملہ پر آئین کا احترام نہیں کیا گیا اور نہ کیا جارہا ہے۔

بنیادی وجوہات سیاسی ہیں۔ مقننہ کا حصہ بننے والی سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت اور آئین کی پاسداری اورنظریات کا شدید فقدان ہے۔ مقننہ کے ارکان جو آئین سازی کرتے ہیں۔ آئین بناتے ہیں وہی لوگ جب حصول اقتدار اور اقتدار بچانے کے لئے آئین کا احترام نہیں کرتے ہیں تو پھر آئین کی وقعت ختم ہو جاتی ہے اور طاقت، فاشزم کو فروغ ملتا ہے۔ وطن عزیز میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک یہی پریکٹس ہوئی ہے کہ آئین کی حکمرانی اور عوامی طاقت کی بجائے سیاستدانوں نے محلاتی سازشوں کے ذریعے اقتدار کی راہ ہموار کی ہے۔ محکمہ فوج کے جرنیلوں سے ساز باز کرتے رہے ہیں۔ جس کے نتائج مارشل لاء کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں جس سے آئین بے توقیر ہو کر رہ گیا ہے۔ ریاست کمزور ہوتی گئی ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال ابتر ہوئی ہے۔ مہنگائی، بے روزگار، غربت، دہشت گردی، عدم برداشت اور تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاست کھوکھلی ہو چکی ہے۔

اب یہ بات سرایت کر چکی ہے کہ اقتدار تک آئینی طریقے سے پہنچنا ممکن نہیں رہا ہے۔ یہاں تک کہ مقننہ میں جانے کے لئے بھی عساکر کی حمایت و تعاون ضروری ہے بصورت دیگر ایم این اے بھی نہیں بنا جا سکتا ہے۔ پیپلزپارٹی سمیت تمام جماعتوں میں اب یہ کلچر و سوچ موجود ہے کہ اقتدار کے لئے عساکر کی خوشنودی ضروری ہے۔ حکمران جماعت نے اس سوچ اور رجحان پر مہرثبت کرکے اس امرکو مستند بنادیا ہے۔ حکمران سیاسی جماعت کے وزیر فیصل واڈا کا ٹی وی پروگرام میں فوجی بوٹ کے ساتھ آنا اس بات کی بین تصدیق ہے کہ ملک میں سیاست نظریات اور آئین کے مطابق نہیں ہے۔

بوٹ کی اس طرح سے پذیرائی اور اخترام پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بقول شیخ رشید بڑے بڑے سیاستدان جی ایچ کیو کے گیٹ فور کی پیداوار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئین کی بجائے محکمہ فوج کو تقدس حاصل ہے۔ اس تقدس کی دلیل میں کہا جاتا ہے کہ فوج قربانیاں دیتی ہے۔ سرحدوں کی محافظ ہے۔ فوجی جوان جانوں کے نذرانے دیتے ہیں۔ ناگہانی آفات میں فوج ہی کام آتی ہے۔ یعنی کہا جاتا ہے کہ فوج آئین سے بالا تر ہے اور مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ سے سپریم ہے۔

بوٹ کی عزت سے اختلاف رکھنے والوں کا واضح موقف ہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم اور بطور سرکاری محکمہ کو سیاست میں مداخلت سے باز رہنا چاہیے۔ بوٹ کی عزت اور مورال تبھی قائم و دائم رہ سکتا ہے جب تک وہ اپنے پیشہ وارانہ امور تک محدود رہے اور ملک پر حکمرانی کا خواب چھوڑ دے۔ سیاست میں مداخلت بطور سرکاری ملازم اٹھائے گئے حلف کی ورزی اور قانونی طور پر جرم ہے۔

سیاسی جماعتوں کو بھی اس امر پر درست راستہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ اپنے ممبران کی سیاسی و جمہوری تربیت کریں۔ کرپٹ، رسہ گیر، بدمعاش اور بدعنوان عناصر کو پارٹی کا حصہ نہ بنائیں اور نہ انہیں پارٹی ٹکٹ دے کر اپنے امیدوار بنائیں۔ مقننہ میں دیانت دار اور سیاسی و جمہوری تربیت یافتہ لوگ ہوں گے تو ملک کی سمت درست ہو گی اور ملک ترقی کرے گا۔ بصورت دیگر حالات آج سے بھی زیادہ ابتر ہوں گے اور کوئی نئی پی ٹی آئی جنم لے گی۔ جس کے ارکان بوٹ لے کر پارلیمان میں آیا کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *