ادبی جمود، ادیب اور عادت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانوں کی تو کئی قسمیں ہو سکتی ہیں مگر میرے خیال میں لوگوں کی صرف تین ہی قسمیں ہوتی ہیں۔ خاص لوگ، عام لوگ اور ادیب لوگ۔ خاص لوگ ہمیشہ خاص باتیں، عام لوگ ہمیشہ عام باتیں اور ادیب لوگ ہمیشہ ادب پے چھائے جمود کی باتیں کرتے ہیں۔ ادیب لوگ جب بھی ادبی جمود کی بات کرتے ہیں تو مجھے شمالی علاقہ جات کے برف سے ڈھکے ہوئے بلکہ جَمے ہوئے پہاڑ یاد آ جاتے ہیں۔ پھر جب اس پہاڑ کا سوچتا ہوں جو ہمارے ادب پر بے نیازی سے براجمان ہے تو میں جلدی سے ایسے طریقے سوچنا شروع کر دیتا ہوں جس سے ادبی پہاڑ پہ جمی برف پگھل سکتی ہو لیکن میرے خود کے منجمند دماغ میں کوئی سوچ بھی تو نہیں آتی۔

بس جمود ہے جو ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ بہرحال ہمارے ایک قلم سے عاری دوست کے خیال میں ادب پر جمود اس لئے بھی طاری ہو گیاہے کہ ادبی محفلوں اور مشاعروں میں سامعین سے زیادہ مہمانِ خصوصی اور اعزازی مہمان ہوتے ہیں۔ اگر اتنی کثیر تعداد میں مہمانِ خصوصی بنائے جا سکتے ہیں تو پھر حاضرینِ خصوصی کیوں نہیں ہو سکتے؟ تو اس تناظر میں نظامت کرنے والوں کو میزبانِ خصوصی کا عہدہ ملنا چاہیے۔ اب ایسے قلم سے عاری بندے کو بندہ کیا جواب دے؟

ادبی جمود تو ایک طرف ادیبوں اور شاعروں کی زبوں حالی کے بارے میں بھی کافی فکر مند ہوں۔ زبوں حالی پر مجھے ایک شاعرہ و قلمکار محترمہ یاد آ رہی ہیں جو ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک نمائندہ و منفرد مقام رکھنے والے شاعر سے پوچھنے لگی کہ حضرت! آپ کام کیا کرتے ہیں؟ تو شاعر صاحب نے بھی بڑے جوش میں جواب دیا کہ محترمہ میں شاعر ہوں اور شاعری کرتا ہوں۔ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔

ادیبوں کے علاوہ دنیا میں کچھ لوگ بھی بڑے عجیب ہیں اور ان کی عادتیں تو ان سے بھی زیادہ عجیب، جیسا کہ کبھی بھی کسی کتاب کو تو چھوڑیں اشتہارات تک نہ پڑھنے والا جب سفر پر جائے گا تو اخبار یا رسالہ اپنے ہاتھ میں ضرور رکھتا ہے۔ جن کی اپنی بات گھر میں کوئی نہیں سنتا وہ دوسروں کو مشورہ دینا اپنا فرض عین سمجھیں گے۔ جن سے کوئی بات کرنا مناسب نہیں سمجھتا وہ بھری محفل میں موبائل پر اونچی اور بے تکی باتیں کرتے نظر آئیں گے۔

ایسے بھی لوگ ہیں جن کو فون کی جائے تو آگے سے یہی جواب آئے گا۔ محترم آپ کو ہی یاد کر رہا تھا۔ ایسے بھی لوگ موجود ہیں جن کے سامنے کوئی بھی بات کریں وہ عادتا اس بات میں کیڑا ضرور نکالیں گے۔ اس طرح کی بہت سی عجیب عادتیں لوگوں میں موجود ہیں۔ ایک دو آپ بھی بتادیں تاکہ سند رہے۔ ایسی عادتیں عام لوگوں کے علاوہ ہمارے صحافی اور ادباء سمیت شاعروں میں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اپنی شاعری اور لکھائی کو سب سے اعلٰی و ارفع اور اؤل نمبر دیں گے جبکہ دوسروں کے لکھے کو بے دلی سے دیکھیں گے۔

بہر حال یہ بھی حقیقت اور سو فیصد سچ ہے کہ عام لوگوں سے ہٹ کر فنون لطیفہ کی ہر اصناف پر قدرت رکھنے والے لوگوں کوقدرت نے بے بہا ذہانت سے نوازا ہوتا ہے۔ آپ کو ادبی دنیا میں خال خال کچھ ایسے ادیب ملیں گے جنہیں غزل، نظم، ناول، افسانہ، سفرنامہ، خود نوشت، انشا پردازی، خاکہ نگاری، ڈرامہ، طنز و مزاح، مزاحمتی ادب، تنقید و تحقیق میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ جو اپنے خوبصورت کام اور نام کی طرح اپنی روزمرہ زندگی اور خاص کر ادبی تخلیق کے لمحات میں کرنے والے کاموں اور عجیب و غریب اور دلفریب عادات کی وجہ سے کافی مشہور تھے۔

جو لکھتے وقت نہایت منفرد اور دلچسپ انداز اختیار کرتے تھے۔ گو آج یہ ادیب جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں مگر ان کی لکھت، ان کی فکر، ان کے نظریے، ان کے تخیل، ان کے الفاظ اور ان کی یادوں نے شعر و ادب کی دنیا کو آج تک اپنے حصار میں لیا ہوا ہے۔ لیکن لکھتے وقت یہ بڑے ادیب جو عجیب و غریب طریقے اختیار کرتے تھے ان سے بہت کم لوگ واقف ہیں۔ حالانکہ وہ نہایت دلچسپ ہیں اور لکھتے وقت نہایت منفرد اور دلچسپ انداز اختیار کرتے تھے۔ آپ بھی یقینا جاننا چاہتے ہوں گے کہ یہ مشہور و معروف ادیب اپنی کون سی عادات کے سہارے اتنی منفرد و شاہکار تحریریں تخلیق کرتے تھے۔

اردو کی مشہور و معروف اور منفرد افسانہ نگار، ڈراما نگار محترمہ عصمت چغتائی صاحبہ اوندھی لیٹ کرلکھتی تھیں اور لکھتے ہوئے عموماً برف کی ڈلیاں چباتی جاتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈلیاں چپانے سے میرے ذہن میں نت نئے خیالات آتے ہیں۔ اب ان کے قاری ہی بتا سکیں گے کہ برف کی ڈلیوں کی بدولت ان کی لکھت کے کمال تخیل کیسے ہیں۔ اُردو ادب کے منفرد اور ممتاز مزاح نگار اور قلمکار جناب شفیق الرحمٰن صاحب ہمیشہ کھڑے ہوکر لکھا کرتے تھے۔ مشہور و معروف، متنازعہ لیکن منفرد اسلوب کے منفرد افسانہ نگار جناب سعادت حسن منٹو لکھتے وقت صوفے پر بیٹھ کر دونوں گھٹنے سکیڑ لیتے اور ایک چھوٹی سی پنسل سے لکھتے۔ افسانہ شروع کرنے سے پہلے وہ 786 ضرور لکھتے تھے جوکہ علم العداد کی رُو سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے ہم معنی سمجھا جاتا ہے۔

اُردو کے مشہور افسانہ نگار اور ناول نگار کرشن چندر تنہائی میں کمرا بند کرکے لکھتے تھے۔ ایک بار ان کی بیگم نے چپکے سے کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ کرشن چندر اردگرد سے بے خبر اپنے لکھنے کے پیڈ پر جھکے ہوئے تھے۔ اس لمحے ان کا چہرہ بہت گمبھیر، بھیانک اور اجنبی سا لگا، تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں، ہونٹ بھینچے ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں قلم خنجر کی طرح نظر آرہاتھا۔ کچھ دیر بعد کرشن چندر کمرے سے نکلے اور سیدھے کھانے کی میز کی طرف آئے۔

اس وقت ان کا چہرہ پُرسکون، تازہ اور بہت معصوم تھا۔ نامور اور مشہور قلمکار حکیم محمد سعید عام طور پر رَف لکھتے وقت اشتہارات کے پچھلے حصے کا اِستعمال کرتے تھے۔ حکیم صاحب کے بقول۔ ”یہ قوم ابھی اتنی امیر نہیں ہوئی کہ بہترین کاغذ کا اِستعمال کرسکے“۔ ممتاز مفتی مرحوم نے ایک جگہ لکھا تھا کہ لکھتے وقت ان کے پاس ریڈیو لگا ہوتا تھا جس پر کسی بھی قسم کی کوئی موسیقی ہلکی آواز میں چل رہی ہوتی تھی۔

ایک زمانہ تھا، جب ادیب اتنے نازک مزاج ہوتے تھے کہ بلی کی میاؤں میاؤں اور مُرغ کی ککڑوں کوں سے پریشان ہوجاتے اور ایک دم ان کے قلم رُک جاتے۔ آپ اسے ملکہ وکٹوریہ کا دور کہہ سکتے ہیں۔ تاہم آج کے بیشتر ادیب لکھتے وقت اردگرد ہلکا پھلکا شور گوارا کرلیتے ہیں، شاید وہ شور کے عادی ہوگئے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *