مثبت رپورٹنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم لوگ بحیثیت قوم انتہائی نا شکرے ہیں۔ ہر چیز پر تنقید کرتے ہیں کسی بات پر خوش نہیں ہوتے۔ کوئی سیاسی لیڈر جھوٹ بولے اور اس پر غصہ آئے تو بات تو سمجھ آتی ہے لیکن اگر کوئی لیڈر سچ بھی بول رہا ہو اور پھر بھی غصہ آئے تو اس پر کیا کہا جائے؟ اب ہمارے وزیر اعظم عمران خان کو ہی دیکھ لیں کم از کم ان کو یہ کریڈٹ تو جاتا ہے کھ قوم سے جھوٹ نہیں بولا۔ الیکشن سے پہلے ہی انہوں نے کہا تھا کھ کسی کو نہیں چھوڑوں گا سب کو رلاؤں گا۔

حکومت میں آنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اپنا وعدہ وفا کیا۔ حکومت مہنگائی ایسے کی کہ جیسے کرپشن کا سارا پیسہ عوام کے پاس ہو۔ مہنگائی اتنی کہ ہماری کرکٹ ٹیم بھی میچ جیتنے کے موڈ میں نہیں۔ اس بارے کرکٹ ٹیم کا موقف ہے کھ اتنی مہنگائی میں عوام پر مٹھائی خریدنے کا اضافی بوجھ ڈالنا مناسب نہیں۔ ویسے عمران خان نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کھ رولاؤں گا سب کو۔ بندہ تو کم از کم سچا ہے جھوٹ تو نہیں بولا تھا۔

کچھ عرصہ پہلے وزیر اعظم عمران خان نے قوم کو خوش خبری دی تھی کہ تیل کے ذخائر دریافت ہونے والے ہیں۔ ہم لوگ وزیر اعظم عمران خان کی بات کا مذاق اڑاتے تھے۔ ہمیں اس وقت وزیر اعظم کی بات میں گہرائی کا اندازہ نہیں تھا۔ لیکن وقت نے ثابت کر دیا کھ وزیر اعظم عمران خان کی بات 100 % درست ثابت ہوئی۔ پوری قوم سے تیل نکالا جا رہا ہے۔ ملک میں بد انتظامی اور مہنگائی کی وجہ سے جہاں عوام پریشان ہیں وہاں حکومت بھی عوام کی پریشانی سے با خوبی اگاہ ہے اور گاہے با گاہے ایسے انتظامات اور بیانات دیتے رہتے ہیں جس سے عوام کو تفریح فراہم ہو۔

بھلا اس سے پہلے کبھی حکومتی اراکین نے عوام کو اس طرح سے تفریح فراہم کی تھی؟ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کھ یہ نا اہل لوگ ہم پر مسلط ہو گئے ہیں لیکن وہ یہ بات بھول رہے ہیں کہ پی ٹی ائی کی قیادت نے تو کبھی بھی نہیں کہا تھا وہ اہل ہیں۔ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺍﻧﺼﺎﻑ ﻭﺍﺣﺪ ﭘﺎﺭﭨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺎﺑﻠﯿﺖ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻧﺎﺍﮨﻠﯿﺖ کے بارے بیانات دے کر بر سر اقتدار آئی۔ عمران خان نے ہمیشہ مدینہ کی ریاست کی بات کی۔ نہ صرف بات کی بلکہ تحریک انصاف نے زیادہ ٹکٹ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے ہجرت کر کے آنے والوں کو دے کر مواخات کی یاد تازہ کر دی۔

یہ پاکستان کو مدینہ ثانی بنانے کی طرف پہلا قدم تھا۔ موجودہ حکومت نے مساوات اور برابری کو اہمیت کو سمجھتے ہوئے غریب اور امیر دونوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا۔ یہی نہیں پہلے جہاں صرف سیاستدانوں کو گالیاں سننی پڑتی تھی اب موجودہ حکومت میں سیاستدانوں، عدلیہ، صحافیوں، بیرو کریسی اور محکمہ زراعت کو بھی برابر کی بنیاد پر گالیاں پڑھ رہی ہیں۔ حکومت میں آنے کے بعد اسلام کے خدمت کے لئے کہیں اگر خود ڈرائیور بھی بننا پڑھا تو ڈرائیور بن گیا۔

اگر ایک اسلامی برادر ملک نے کسی دورے پر جانے سے منع کیا تو اسلامی بھائی چارے کے تحت سفارتی تعلقات اور ملکی مفادات کو پس پشت ڈال کر اسلام کی خدمت کی۔ یہی نہیں بلکہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ تصوف اور روحانیت کو بھی ہمارے تعلیمی نصاب کا حصہ ہونا چاہیے۔ عمران خان بچپن سے ہی روحانی طاقتوں کے قائل ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ روحانی طاقت رکھنے والے ناممکن کو ممکن کرسکتے ہیں۔ اس سے پہلے بشریٰ بی بی کے حوالے سے یہ خبریں آئیں تھیں کہ وہ روحانی شخصیت ہونے کی وجہ سے غیب کا علم بھی رکھتی ہیں اور ان کے قبضے میں دو جنات ہیں جو کہ روحانیت میں ان کی معاونت کرتے ہیں۔

لہٰذا بحیثیت قوم ہم کو خوش ہونا چاہیے کھ ہماری رہنمائی ماورائی قوتیں بھی کر رہی ہیں۔ لہٰذا ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کھ روحانی طاقتیں ہمارے ساتھ ہیں۔ جبکہ ہماری اپوزیشن لیڈر یہ کہہ کر عمران خان پر تنقید کرتی ہے کہ عوام مشکل حالات میں موجودہ حکومت کے نا اہلی کی وجہ سے ہے۔ روحانیت کا سب سے پہلا سبق ہی انسان میں موجود ”میں“ کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ اگر عمران خان پر روحانیت کا ذرا بھی اثر ہوتا تو اس میں جو غرور ہے وہ بالکل ختم ہوجاتا اور عاجزی اُس کی جگہ لے لیتی۔

ان کی تقریر کو غور سے سُن لیں، ”میں“ سے شروع ہوتی ہے اور ”میں“ پر ہی ختم ہوتی ہے۔ موجودہ معاشی مشکلات کا سبب نہ اہل حکومت ہے جس کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان نے بڑے واضح انداز میں جواب دیا کہ زندگی کی اونچ نیچ اللہ تعالی کی طرف سے امتحان ہے اور فرمایا کہ اس فانی دنیا میں حقیقی خوشی کا کوئی وجود نہیں۔ جو سکون کی زندگی ہے وہ صرف قبر میں ہی ہوتی ہے۔ یعنی ہمارے وزیر اعظم نے بڑے صاف انداز میں کہہ دیا ہے کہ آپ لوگوں کو میں کوئی جھوٹی امید نہیں دوں گا۔

ہاں البتہ ڈیتھ سرٹیفیکٹ کی فیس 300 سے 1200 کرنے کی وجہ ابھی تک سمجھ نہیں آ رہی۔ یہ قبر میں سکون کے بیان کے خلاف سازش بھی ہو سکتی ہے۔ ایک لطیفہ موجودہ حالات کے حوالے سے یاد آ رہا ہے کھ قدیم نوادرات جمع کرنے کے شوقین ایک خاتون نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی دکان کے کاؤنٹر پر بلی کو جس پیالے میں دودھ پلا رہا ہے اس چینی کے قدیم پیالے کی قیمت تیس ہزار ڈالر سے کم نہیں۔ خاتون نے سوچا کہ شاید یہ شخص اس پیالے کی قیمت سے ناواقف ہے۔ اس خاتون نے اپنے طور پر بے حد چالاکی سے کام لیتے ہوئے کہا۔ جناب! کیا آپ یہ بلی فروخت کرنا پسند کریں گے؟ تو اس شخص نے کہا۔ یہ میری پالتو بلی ہے، پھر بھی آپ کو یہ اتنی ہی پسند ہے تو پچاس ڈالر میں خرید لیجیے۔

خاتون نے فوراً پچاس ڈالر نکال کر اس شخص کو دیے اور بلی خرید لی، لیکن جاتے جاتے اس دکان دار سے کہا۔ میرا خیال ہے کہ اب یہ پیالہ آپ کے کسی کام کا نہیں رہا۔ برائے کرم اسے بھی مجھے دے دیجیے۔ میں اس پیالے میں بلی کو دودھ پلایا کروں گی۔ دکان دار نے کہا۔ خاتون! میں آپ کو یہ پیالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ اس پیالے کو دکھا کر اب تک 300 بلیاں فروخت کرچکا ہوں۔

پاکستان میں بسنے والے ان باشعور عوام کے نام جنھیں کبھی عدالتی فیصلہ، کبھی ملکی مفاد کے نام پر اور کبھی مذہب کا استعمال، سے عوام کو بے وقوف بنایا جاتاھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply