سلمان رشدی کے نئے ناول ”کی شوٹ“ کا کچھ تذکرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سلمان رشدی کا نیا ناول (Quichotte (kee SHOT ابھی مارکیٹ میں آیا ہے جس کی کچھ ہی دن پہلے امریکہ میں رونمائی ہوئی ہے۔ یہ سلمان رشدی کا چودھواں ناول ہے۔ زیر نظر ناول سلمان رشدی نے میگوئیل دے سروانتس ؔکے کلاسیکی ناول Don Quixote سے متاثر ہو کر لکھا ہے۔ Don Quixote کواردو میں ڈان کیخوتے وغیرہ ترجمہ کیا گیا وجہ سامنے تھی کہ یہ نام سپینش زبان کا ہے اور اردو دَاں طبقہ سپینش زبان سے واقف نہیں۔ اب گوگل ٹرانسلیٹ نے یہ مسئلہ تو کسی حد تک حل کر دیا ہے کہ اب ہم مختلف زبانوں کا صحیح تلفظ سن او رپڑھ سکتے ہیں۔

رشدی نے اس سپینش لفظ کی ادائیگی کے متعلق ایک پورا صفحہ لکھ کر اس مسئلے کو حل کر دیا ہے اور مختلف زبانوں میں اس کی ادائیگی کے متعلق بتایا ہے۔ رشدی نے لکھا ہے کہ Don Quixote کہ سپینشن میں ادائیگی ”کی۔ جَوتے“ یا ”کی۔ہوتے“ ؔہے اور یہی نام فرنچ میں ”کی شوٹ“ ہو جاتا ہے۔ جس کے معنی خدائی فوجدار کے ہیں۔ ”ڈان کی ہوتے“ کو سنہری سپینش دور کا ایک شاہکار ناول سمجھا جاتا ہے۔ جب کہ مغربی ادب میں اسے پہلا جدید ناول خیال کیاجاتا ہے۔

”کی شوٹ“ ایک میٹا فکشنل کریکٹر ہے۔ میٹا فکشنل سے یہاں مراد ایک ایسا کردار ہے کہ جس کے متعلق قاری یہ جانتا ہے کہ یہ ایک افسانوی کردار ہے۔ اسے ایک پیروڈی بھی کہا جا سکتا ہے۔ میٹا فکشن ایک ایسا ادبی اظہار یہ ہے جس میں افسانے اور حقیقت یا زندگی اور آرٹ میں ایک تعلق قائم کیا جاتا ہے۔ ”کی شوٹ“ کا بنیادی کردار سیم ڈیوشامپ، بھارت میں پیدا ہونے والا ایک مصنف ہے جو امریکا میں قیام پزیر ہے اور کئی ناکام جاسوسی ناول لکھ چکنے کے بعد ”ایک ایسی کتاب جو کسی نے آج تک نہ لکھی“ ہو لکھنا چاہتا ہے اور اس تحریر کو لکھنے کی غرض سے وہ ایک کردار ”Ismail Smile“ تخلیق کرتا ہے۔

اسماعیل سمائل بمبئی میں پیدا ہوتا ہے، وہ فارماسوٹیکل کمپنی کا سیلز ایگزیکٹیو ہے جب کہ اس کی کمپنی کا نام بھی سمائل فارماسوٹیک ان کارپوریشن ہے۔ اپنی ہم نام کمپنی کی وجہ سے وہ اس بات پر فخر بھی کرتا ہے کہ اس کی کمپنی کا نام اور اس کا نام ایک جیسے ہیں۔ جب کہ سمائل، اسماعیل کا ہی امریکن ورژن ہے۔ اب آپ اسے اسماعیل۔ اسماعیل کہیں یا پھر متبادل طور پر سمائل۔ سمائل۔ بڑھاپے میں دل کے دورے کے بعد بہت زیادہ ٹی وی دیکھنے کی وجہ سے اسے ریالٹی ٹی وی کا نشہ ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں اسے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ نیویارک میں ڈیلی ٹاک شو کی میزبان سلمی آر۔

(سابقہ بالی ووڈ اداکارہ) کا دل وجان سے فریفتہ ہوگیا ہے۔ باوجودکہ وہ اُس سے کبھی نہیں ملا، اسے عشقیہ خطوط لکھتا ہے اور ان خطوط میں اپنا قلمی نام، سروانتس ؔکے ناول Quixote کی مطابقت سے ”“ کی شوٹ ”“ (Quichotte) استعمال کرتا ہے۔ سائبر سپیس ٹیکنالوجی کا یہ وہ دور ہے جب کچھ بھی ظہور پزیر ہو سکتا ہے۔ جب پرانے دوست نئے دشمن بن سکتے ہیں اور پرانے دشمن نئے دوست بلکہ محبوب بھی۔ اپنی نوکری ختم ہوجانے کے بعد سلمی۔

آر سے ملنے کی جستجو میں وہ امریکا بھر کے سفر کے لیے اپنی کار شیورولے کروز میں نکلتا ہے۔ اس سفر پر اپنے ہمراہ ”کی شوٹ“ اپنے ایک خیالی بیٹے سانچو کی تخلیق کرتا ہے۔ ناول کی کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے، توں توں ناول کا ایک کردار اور تخلیق کار اور اس کی زندگی، دو کہانیاں اور ان کا بیانیہ، آپس میں یوں گڈ مڈ ہوتا ہے کہ ایک ہونا شروع ہو جاتا ہے یعنی کردار ”کی شوٹ“ (اسماعیل اسمائل) اور مصنف ڈیوشامپ کی زندگیاں ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ”کی شوٹ“ کہانی کے اندر ایک کہانی کا کردار ہے جو اسے سروانتیس کے ناول ”کی جوتے“ کے قریب لے جاتا ہے اور یہی اس ناول کی خوب صورتی ہے۔

”کی شوٹ“ کو کچھ لوگوں کے نزدیک ایک مزاحیہ ناول کہا جا سکتا ہے جب کہ میرے نزدیک یہ ایک سنجیدہ ناول ہی ہے۔ یہ اس سوال کا جواب ہے کہ ایک ”پاگل آدمی“ کے نزدیک کیا حقیقی ہے اور کیا غیر حقیقی، یہ ایک یاد دہانی ہے کہ انسانی زندگی میں کیا ہے جو اسے متوازن بناتا ہے، یہ ایک ا ظہار ہے محسوس کرنے کا اور کہنے کا، محبت کا اور زبان دانی کا۔ ”کی شوٹ“ میں ایک عورت کا بیان ہوا ہے۔ ”کی شوٹ“ میں عصر حاضر کے امریکہ کو جہاں درپیش مسائل کا ذکر ہے وہیں نسلی امتیاز کا تذکرہ بھی ہے۔ یہاں امریکہ میں غیر قانونی طور سے اور میڈیکل کے نسخوں کی اڑ میں سکون آوار ادویات کے نشے کی حد تک بڑھتے ہوئے استعمال کا افسانہ ہے۔ یہاں انسان ہاتھی بن جاتے ہیں، یہاں گرگٹ لاطینی ہو جاتا ہے، یہاں پستول گفتگو کرتا ہے۔

زیر نظر ناول میں سترہویں صدی کے سپین کے خطے لامانچے کی بجائے ٹرمپ کا اکیسویں صدی کا امریکہ ہے جو سانس لیتا ہے۔ کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ مصنف کا انداز تحریر انسائیکلوپیڈی اک رہا ہے لیکن یہاں موصوف گوگل کے رسیا ہیں کہ اگرٹی وی پروگرامز کا ذکر آتا ہے تو بیسیوں پروگرامز کا ذکر موجود ہوتا ہے اور جب ٹی وی ڈراموں کا ذکر آتا ہے تو یہاں بھی کئی نام گنوا دیے جاتے ہیں اگر کسی کردار کی بات ہوتی ہے اس سے ملتے جلے کرداروں کی ایک لمبی فہرست موجود ہوتی ہے۔ فقروں کی بنت میں بھی بار بار تضاد معنی لے آتے ہیں جو اسے خوب صورت بناتا ہے۔ یہ چار سو سے زائدصفحات پر مشتمل ایک ضخیم ناول ہے جس کی پینگوئن بکس انڈیا اور برطانیہ میں رونمائی پہلے ہی ہو چکی ہے جب کہ امریکہ میں رونمائی ابھی حال میں ہی ہوئی ہے۔

امریکہ میں کتاب کی رونمائی کے موقع پر سلمان رشدی کی گفتگو دلچسپ تھی جسے میں نے یو ٹیوب پر دیکھا اور سنا۔ میں رشدی کے بارے میں اتنا ہی جانتا ہوں جتنا کہ کوئی عام پڑھا لکھا پاکستانی اسے جان سکتا ہے۔ یعنی ایک ناول ”شیطانی آیات“ کے منظر عام پر آنے کے بعد اس پر توہین مذہب کا الزام لگا اور امام خمینی نے قتل کا فتویٰ دیا۔ ایک عام پاکستانی کے طور پر اس کے ادبی مقام، ان کی شخصیت، ان کی زندگی کے بارے میں میں زیادہ نہیں جانتا لیکن موجودہ ناول نے مجھے اس کی تحریر کی طرف مائل کیا ہے۔

اس رونمائی کی تقریب میں سلمان رشدی کا کہنا تھا ”میرے بعض مبینہ دوست کہتے ہیں کہ۔۔۔“ اس دوران حاضرین نے مبینہ دوستوں کی اصطلاح پر خوب تالیاں بجا کر انہیں داد دی۔ رشدی نے کہا، ”میں جاسوسی ناول لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ بہت سے جاسوسوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ امریکی جاسوسوں کو، برطانوی جاسوسوں کو اور فرانسیسی جاسوسوں کو۔ فرانسیسی جاسوس بھی دوسروں جیسے ہی ہوتے ہیں، سوائے اس کے کہ نشے میں دھت رہتے ہیں۔“ اس پر سب خوب ہنسے۔

تقریب کی کمپئیر کیسی سیپ ؔ، جو کہ خود بھی ناول نگار ہیں، نے کی انہوں نے سوال کیا:کیا ناول نگار اپنی کہانی میں خود بھی موجود ہوتا ہے؟ آپ اس ناول میں کہاں ہیں؟ سامعین کا خیال تھا کہ رشدی کسی مرد کردار کا نام لے گا لیکن اس وقت حیرت ہوئی جب اس نے کہا، ”آپ بھول رہے ہیں کہ ناول کے ایک کردار کا نام سلمیٰ۔ آر ہے۔ میرے اور اس کے نام میں بس ایک ہی حرف تو کم ہے۔“ تو گویا سلمی آر ؔسلمان رشدی کا ہی ایک نسوانی پرتو ہے جسے اس نے اپنے ناول ”کی شوٹ“ میں بہترین طریقے سے بیان کیا ہے۔ ”کی شوٹ“ کو 2019 ء کے بُکر انعام کے لیے بھی منتخب کر لیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *