پاکستان ریلوے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھوکے سے پوچھا گیا ایک اور ایک کتنے ہوتے ہیں؟ بھوکا بولا دو روٹیاں۔ جب کسی نے کسی چیز سے فائدہ حاصل کرنا ہو تو وہ اس سے بالا تر کہ یہ کس سیاسی، دینی، یا لسانی گروہ کا کارنامہ ہے اسے حاصل کرتا ہے۔ سابقہ ادوار میں نا معلوم ریلوے پر کس نے کتنا کام کیا کسی مسافر کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وہ غم کا مارا، کسی خوشی میں شامل ہونے کی آرزو میں، محنت مزدوری، یا کسی اور وجہ سے سفر کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ ویسے تو سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے مگر جب غربت، لاچاری اور نامساعد حالات ہوں تو سفر وسیلہ غضب ہوجاتا ہے۔

ایسے میں ان سے سانس لینے کے علاوہ ہر چیز پر ٹیکس ادا کرنے والے کو مزید لوٹا جائے تو کیا کہ سکتے ہیں۔ لاہور سکھر تک کرایہ بذریہ ڈیوو اور کسی نارمل ٹرین میں لوئیر اے سی کرایہ تقریبا برابر ہے۔ ایک مسافر بس سروس میں ہنگامی بنیاد پر سفر کرنا چاہے تو اسے بر وقت سیٹ بھی میسر آجاتی ہے اور ٹائم کی پابندی بھی۔ سنگل فرد کے لیے تو بس سروس بہت اچھی مگر کمسن بچوں کے ساتھ اور دور کے سفر کے لیے ہمارے ہاں یقینا بذریعہ ٹرین ترجیح دی جاتی ہے۔

ریلوے کا کسٹمر ہفتہ پہلے اپنی بکنگ کے چکروں میں پڑتا ہے بذریعہ ایپ تقریبا بمشکل پانچ فیصد لوگ بکنگ کرواتے ہوں گے باقیوں کو بکنگ کے لیے اسٹیشن میں خوار ہونا پڑتا ہے، گھنٹوں ٹرین کا انتظار کرتا ہے۔ روڈ ٹرانسپورٹ کو رش وغیرہ کے مسائل ہوتے ہیں جبکہ ٹرین کو ایسے مسائل سے دوچار نہیں ہوناپڑتا پھر بھی ٹرین لیٹ ہوتی ہے۔ اعلی اقدار کے لوگوں کو غریب عوام پر ترس آیا تو ریلوے میں جدت لائی گئی پاکستان ریلوے نامی ایپ متعارف کروائی گئی۔

آپ پلے سٹور سے ایپ ڈونلوڈ کرتے ہیں اپنا ڈیٹا لگا تے ہیں آپ سے تصدیق کے لیے آپ کا موبائل نمبر درج کرنے کے بعد اس سے تصدیقی کوڈ جوکہ ریلوے ایپ کی جانب سے آپ کو سینڈ کیا جاتا ہے کوڈ بھی درج کرنے کے بعد ای میل دریافت کیا جاتا ہے کیوں؟ ای میل کے بعد اس پر مزید تصدیقی کوڈ؟ کیوں؟ دنیا میں بہت سی ایپ فیس بک، ٹویٹر، یا کسی اورلنک سے تصدیق درکار ہوتیں ہیں اور بس۔ کیاصرف بذریعہ فون نمبر تصدیق کافی نہیں؟ اس کے لیے نکاح نامہ جیسی شرائط کیسی؟

آپ بذریعہ ایپ کراچی سے بکنگ کرواتے ہیں یا تین سو کلو میٹر دور اندرون سندھ کے کسی ریلوے اسٹیشن سے کرایہ برابر وصول کیا جاتا ہے۔ سکھر سے پہلے کسی بھی اسٹیشن سے بکنگ کروائیں کرایہ کراچی تک ادا کرنا پڑے گا۔ چند دن پہلے بھریا روڈ اسٹیشن جو ضلع نوشہرو فیروز میں واقع ہے سے لاہور کی بکنگ کروائی کراچی سے لاہور کا کرایہ وصول کیا گیا۔ کیوں؟ تین سو اسی کلو میٹر کا سفر ہے کراچی سے بھریا روڈ کا اور تین سو کرایہ فی سواری زائد وصول کیے گئے اور کیے جا رہے ہیں۔

ایک عام آدمی کب تک لٹتا رہے گا؟ کیا یہ کا رکردگی ہے حکومت کی جہاں حکومتی ادارے خود کرپٹ ہوں تو آہ وفغا کون سنے گا۔ کون سا ریلیف ملا عام انسان کو۔ آخر کب یہ نظام درست ہوگا؟ اتنے اضافی پیسے کمانے کے بعد بھی ادارے خسارے سے نہیں نکل پارہے۔ یہ سرکاری بھتہ خوری کب بند ہو گی۔ ایک سے بڑھ کر ایک انداز ہے لوٹنے کا۔ کیا عوام کا لوٹا ہوا پیسہ واپس ہوگا؟ کب ہو گا؟

میں ڈھڈوں بھکا ظالما میرے بکھ نے کڈے ساہ

مینوں جنت حوراں دسنا ایں، کوئی چج دا لارا لا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *