ونٹر ڈِپریشن سے کیسے بچیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یخ بستہ رُت اپنے جوبن پر ہے۔ پہاڑوں پر برف کے انبار اور میدانوں میں کہرے کی تہیں۔ دھند کی دبیز چادر کئی کئی دن تک سورج کی روشنی کو روکے رکھتی ہے کہ معمولات زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ملک کے پہاڑی علاقوں میں رِکارڈ برف باری اور برفانی طوفانوں سے درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ اداس شاعری اور ہجر فراق کا ذکر سردیوں ہی میں کیوں؟ سوشل میڈیا پر تو دسمبر کا مہینا اور اس سے وابستہ اشعار اب باقاعدہ ایک لطیفہ بن چکے ہیں۔ سرد موسم میں شاعروں اور ادیبوں پر جو درد فراق اور غمِ دوراں کا دورہ طاری ہوتا ہے، وہ بے سبب نہیں۔

ہمارا خطہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسموں کی زد پر ہے۔ گرمی سے تنگ آئے لوگ موسم سرما اور برف باری کا سال بھر انتظار کرتے ہیں مگر چند ہفتوں بعد ہی سردی سے اکتاہٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ دن کا دورانیہ کم اور طویل تر رات تو ہے ہی مگر گزشتہ چند سالوں سے ہر برس سردی کی شدت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے؛ جس سے معمولات زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سرد موسم جہا ں معمولات زندگی میں مشکلات کا باعث بنتا ہے، وہیں اس موسمیاتی تغیر کے باعث لوگ اب سردیوں میں ایک نئے مرض کا شکار ہو رہے ہیں، جسے سائنسی اصطلاح میں “سیزنل افیکٹو ڈس آرڈ” (Seasonal Affective Disorder) موسمی اثر سے پیدا شدہ بیماری یا ‘ونٹر ڈپریشن’ کا نام دیا گیا ہے۔ ان علامات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ‘سیڈ’ یعنی اداسی کا نام بھی دیا گیا ہے۔ ان امراض میں زیادہ تر وہ لوگ مبتلا ہوتے ہیں جو سورج کی روشنی کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ چوں کہ سردیوں میں دن کا دورانیہ چھوٹا ہو جاتا ہے اور شدید سردی کے باعث دھوپ کی شدت میں بھی کمی آجاتی ہے، اس لیے کئی ماہ تک ایسے ماحول میں رہنے سے لوگ ڈپریشن کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ اس سے ان کے روزمرہ کے کام کی رفتار اور موڈ دونوں میں واضح تبدیلیاں رُو نما ہوتی ہیں۔

سردیوں میں دن کا آغاز ہی دیگر موسموں کی نسبت مختلف انداز میں ہوتا ہے۔ شدید سردی میں بستر سے نکلنا کسی معرکے سے کم نہیں ہوتا۔ اس محاذ کو جیسے تیسے سر کر کے ہم روزمرہ کے کام شروع کرتے ہیں تو دیگر عوامل رکاوٹ بنتے ہیں۔ ہماری روزمرہ کی روٹین سے ہمارے اندر کی گھڑی کی ٹائمنگ سیٹ ہوتی ہے؛ اسے سائنسی اصطلاح میں ‘سرکیڈین کلاک’ کہا جاتا ہے۔ موسم سرما میں صبح کے وقت شدید سردی، کہر یا دھند کے باعث صبح نو بجے تک بہ مشکل سورج نکل پاتا ہے۔ ایسے میں دفتر، اسکول یا گھر کے کام کاج کے لیے وقت ہی پر اٹھنا پڑتا ہے، مگر ہماری سرکیڈین کلاک کہتی ہے، کہ ہمیں ابھی اور آرام کرنا چاہیے؛ کیوں کہ یہ گھڑی سورج کی روشنی پر چلتی ہے۔

اسی طرح رات جلدی ہو جاتی ہے اور شدید سردی میں لوگ گھروں میں ہیٹر یا انگیٹھی کے پاس مقید ہو جاتے ہیں۔ ابتدا میں مونگ پھلیوں، خشک میوے اور گرما گرم کھانوں کے ساتھ یہ سیشنز خاصے لطف دیتے ہیں، مگر آہستہ آہستہ بوریت اور اکتاہٹ بڑھنے لگتی ہے۔ اسی طرح سورج کی روشنی نہ ملنے سے جسم میں “سیروٹائن” اور “میلو ٹائن” نامی مادے کی کمی واقع ہو جاتی ہے، جس سے اعصابی نظام کے افعال پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ نیند میں خلل، اداسی اور مزاج کا اتار چڑھاو اسی سبب سے ہوتا ہے۔

اگر سرد موسم میں آپ بھی بے وجہ گھبراہٹ یا موڈ میں تبدیلی کا شکار رہتے ہیں، تو مندرجہ ذیل علامات کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے، کہ آیا آپ ونٹر ڈپریشن کا شکار ہیں یا موڈ میں یہ تبدیلی وقتی اتار چڑھاو ہے۔
1۔ کسی خاص واقعے یا وجہ کے بغیر گھبراہٹ محسوس ہونا جو سارا دن رہے۔
2۔ آہستہ آہستہ روزمرہ کے معمولات میں عدم دل چسپی اور وہ کام جو کبھی آپ شوق سے کرتے تھے کسی معقول وجہ کے بغیر ان کے انجام دینے میں عدم دل چسپی کا پیدا ہو جانا۔
3۔ جسم میں توانائی کی کمی کے ساتھ نیند کے اوقات میں تبدیلی، بہت زیادہ نیند آنا یا پھر ساری رات جاگتے رہنا۔
4۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنا جسے کنٹرول کرنے میں آپ کو دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔
5۔ زندگی سے مقاصد کا ختم ہو جانا اور غیر ضروری کاموں میں وقت برباد کرنا۔

ضروری نہیں کہ تمام لوگوں میں یہ علامات پائی جائیں، لیکن ماہرین کے مطابق اگر آپ میں ان میں سے تین علامات موجود ہیں، تو آپ ایک ہلکے سے ونٹر ڈپریشن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے لیے زیادہ تردد کی ضرورت نہیں، بس ہلکی پھلکی جسمانی ورزش اور دن میں کم از کم ایک گھنٹا سورج کی روشنی لینے سے بہ تر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

موسم کا انسانی مزاج پر اثر ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اپنے معمولات میں تھوڑی سی تبدیلی سے اس اثر کو نہ صرف خوش گوار بنایا جا سکتا ہے، بلکہ موسم سے لطف اندوز بھی ہوا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *