ایک ملکہ کی سواری واپس جاتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”امی میری گاڑی کو کیا ہوگیا۔ یہ نہیں چل رہی“۔ میرا چار سالہ بیٹا اپنی خوبصورت آنکھوں میں آنسو بھر کے تازہ بہ تازہ امریکہ سے آئی گاڑی اپنی انتہائی نان ٹیکنیکل ماں کے ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔ جیسے اس کی ماں کے پاس جادو کی چھڑی ہو۔ اسے تو نہیں لیکن مجھے پتہ ہے ہمارے گھر میں یہ چھڑی کس کے پاس ہے۔ میں اماں کی جانب گاڑی بڑھا دیتی ہوں۔ وہ جائےنماز لپیٹتے ہوئے کہتی ہیں ”رکھ دو۔ ہم دیکھ لیں گے“ اور کچھ ہی دیر میں وہ اپنے اوزاروں کے ڈبہ میں سے اسکرو ڈرائیور نکال کر گاڑی کو کھول کراسکی اندرونی صورتحال کا جائزہ لے کر اور اس کو ٹھیک ٹھاک کر کے اپنے پوتے یعنی میرے بیٹے خرم کو دے دیتی ہیں۔

خرابی باہر سے آئے کسی میکانیکی کھلونے یامشین میں ہو یا پھرگھر کے اندر بتی آنکھ مچولی کر رہی ہو۔ باہر سے الیکٹریشین کی مددمانگنے کے بجائے وہ خود ہی پورے سوئچ بورڈ کو بدل دیتیں۔ میں ان سے کہتی ”اماں آپ کو اگر تعلیم کا موقعہ ملتا تو۔ “ اورہمارے جملہ کے مکمل ہونے کا انتظار کیے بغیر وہ پورے اعتماد سے کہتیں ”تو ہم سول یا الیکٹریکل انجنیئر تو ہوتے ہی“ لیکن اپنی خداداد ذہانت کے سبب انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ دولت کی کمی اور حسن کی بیشی کی وجہ سے تیرہ برس میں شادی ہو تو اس عمر تک آٹھویں جماعت سے زیادہ کیا پڑھا جا سکتا ہے؟

یہ بات ہورہی ہے ”جگت اماں“ کی۔ جو میری ساس تو بعد میں بنیں مگر اس سے قبل بھی قریبی رشتہ دار کی حیثیت سے ان کی ہمارے گھر میں پزیرائی ہوتی رہی تھی۔ میری امی نے انہیں ہمیشہ ”دلہن“ کہہ کے مخاطب کیا اور پرانی ہونے کے بعد بھی نئی دلہن کی طرح اہمیت دی۔ جوابا انہوں نے بھی میری امی کو ”دلہن بھابی“ کے لقب سے پکارا۔ قصہ یہ تھا کہ دونوں ہی کی ڈولی لکھنومیں قائم ایک حویلی ”شہنشاہ منزل“ کے آنگن میں اتری تھی۔ جہاں کے بسے مخلوط خاندا ن میں وہ دونوں کچھ سالوں کے فرق سے بہو بن کے داخل ہوئی تھیں۔

اماں ہندوستان کے شہر لکھنو کے علاقے تالاب گنج کے انتہائی متوسط گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک اسکول میں آرٹ کے ٹیچر تھے۔ ایک بیٹے کی آمد کے بعد یکے بعد دیگرے ان کے گھر آنگن میں چار بیٹیوں کی سواریاں نازل ہوئیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک ملکوتی حسن کی مالک۔ والدین نے ان کے حسن کو داد دیتے ہوے بادشاہوں کے نام پہ نام رکھے بس ناموں کے آگے بیگم کے لاحقہ کا اضافہ ہو جاتا اللہ اللہ خیر صلی۔ اس طرح چوتھی اولاد یعنی اماں کا نام مغلیہ دور کے نامور بادشاہ شاہ جہاں (جن کی پرشکوہ عمارت کی عالم میں دھوم ہے ) کے نام پہ شاہ جہاں بیگم منتخب ہوا۔

آخر کیوں نہ ہوتا۔ اگر وہاں بادشاہ کی عمارات بالخصوص تاج محل، پرشکوہ تو یہاں ان کی اولاد کا جمال باکمال۔ وہاں عمارت کا نقشہ انسانی ہاتھوں کا تراشہ، ادھر ان کے چہرے کے فنکارانہ نقوش کی قدرتی تراش خراش متحیر کن۔ سنا ہے کہ جب تیرہ برس کی عمر میں رشتہ کرانے والی دیکھنے آئی تو ان کے دراز گیسو اور ملکوتی حسن کی تاب نہ لا کر ایک لمحہ کو چکرا کے بیٹھ گئی کیونکہ کسی نے یہ کہہ دیا تھا کہ لڑکی شکل و صورت کی بہت معمولی ہے۔ مگر ادھرتو معاملہ انتہائی الٹ نکلا۔

حسن امام صاحب یعنی اماں کے ہینڈ سم اور قابل شوہر جولکھنو کے ایک کالج سے اعلی تعلیم یافتہ تھے شادی کے بعد ملازمت کے سلسلے میں بیوی کے ساتھ کلکتہ میں جا بسے تھے۔ وہ جدید سوچ رکھنے والے، مطالعہ کے شوقین، تاریخ اور انگریزی ادب پہ قادر، خاموش طبع اور نیک صفت انسان تھے۔ انہوں نے لکھنو کے قدامت پسند گھرانے سے تعلق رکھنے والی بیوی کو پوری آزادی دی۔ وہ جو لکھنو میں پورے پردہ میں بھی بمشکل ہی ڈیوڑھی سے قدم رکھتیں اب کلکتہ میں برقعہ سے آزاد، بہترین اور اعلی قسم کی ساڑھیوں میں ملبوس ہوتیں۔

شاندار لباس میں شخصیت کارعب بھی دو چند ہوا۔ شوہر نے استانی رکھ کر بیوی کو انگریزی بہترکرنے کی بھی کوشش کی۔ چونکہ شادی کے سات برس بعد پہلی اولاد ہوئی تو گھومنے پھرنے کا بھی موقع ملا۔ خوب گھمایا، پھرایا، تھیٹرمیں فلمیں دیکھیں۔ اس کا نتیجہ تھا اعتماد اور رعب داب میں خوب اضافہ ہوا۔ کہ اب ملنے والوں کو اماں کے اعلی تعلیم یافتہ ہونے کاگمان ہی نہیں بلکہ یقین ہوتا تھا۔ اگر وہ اولادوں کے اسکول جاتیں تو لوگ ان کی شخصیت کے رعب و دبدبے سے متاثر ہو کے سمجھتے کہ وہ پرنسپل یا ٹیچر ہیں۔ ان کی ساڑھیوں کا انتخاب، لبہجہ اور با وقار انداز انھیں لاکھوں میں نمایاں کرتا۔

خدا جانے یہ نام کا اثر تھا یا اپنے والد کی فنکارانہ طبیعت کے میلان کا اثر، اماں یعنی شاہ جہاں بیگم نے اپنے شوہر کی زندگی میں ایک سول انجنیئر کی طرح مزدوروں کے سر پہ کھڑا ہوکے چھ سو گز کے پلاٹ پہ مکان تعمیر کر وایاگھر کا نقشہ بھی بہت حد تک انہی کا مشورہ تھا۔ کراچی کی چلچلاتی گرمیوں میں گھنٹوں کھڑے ہوکر مکان بنوانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ لیکن برداشت اور ہمت دونوں ہی ان کی بار عب شخصیت کا وصف تھے۔ بلا کے اعتماد اور صلاحیتوں نے انہیں ایک مضبوط سایہ دار درخت کی صورت دی۔ عموماً ہی یہ ہوا کہ ایسے گھنے درخت کے سایہ میں اگنے والے پودے اکثر پورے طور پنپ نہیں پاتے اور اونچا درخت اپنی بلند قامتی کے سبب اس حقیقت سے اکثر بے خبر ہی رہتا ہے۔ غالباکچھ ایسی ہی صورتحال یہاں بھی تھی۔

یہ بات المناک تھی کہ ادھر مکان تعمیر ہوا اور کرائے کے مکان سے نکل کر ذاتی مکان میں ابھی سکھ کا سانس بھی نہ لیاکہ اوپر سے میاں کا بلاوا آگیا۔ دو تعلیمی اور معاشی طور پہ غیرمستحکم اولادیں یعنی میرے شوہر عارف امام اور میری اکلوتی ننداورایک عدد خوبصورت اور ذہین بیوہ کو چھوڑ کے چلے جانا قسمت کی زیادتی نہیں تو اور کیا کہا جائے۔

لیکن نصیب کے لکھے پہ شاہ جہاں بیگم کبھی حرف شکایت لبوں پہ نہ لائیں۔ اسوقت بھی جب ان کے پانچ برس کے ہنستے کھیلتے بچے کو گاڑی نے ٹکر ماری اور بچے نے ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی ماں کی گود میں دم دے دیا۔ اس کے آخری الفاظ تھے ”اماں اماں“ جیسے کہہ رہا ہو مجھے بھولنا مت۔ انہوں نے بھی تمام زندگی بیٹے کی یاد کو کلیجہ سے تو لگایا ہی مگر مرنے کے بعد بھی ان کے پرس میں بیٹے کی مسکراتی اور بولتی ہوئی تصویر تھی۔ وقت کے ساتھ ان کے پرس میں رکھی تصویروں میں شوہراور بیٹی کی تصویروں کا اضافہ ہوتاگیا۔ مگر تمام تر المیوں کے باوجود ان کا رجائی انداز کمال کا تھا۔

ٹی وی پہ عام ڈراموں سے زیادہ اسپورٹس بالخصوص کرکٹ، باکسنگ اور قوالیوں سے شغف تھا۔ جو اس قدر ذوق و شوق سے دیکھتیں کہ ان کو دیکھ کر لطف آتا۔ اکثرکشتی دیکھتے ہوے احتجاجاکہتیں ”بالکل جھوٹ یہ تو نورا کشتی چل رہی ہے“۔ جب امریکہ میرے پاس آکر رہیں تو یہاں بھرپور طور پہ جینے اور خوش رہنے کی کوشش کی۔ امریکہ کے لوگوں کو پسند کرتی تھیں۔ ہمیشہ ان کے دوستانہ رویے کی تعریف کرتیں۔ خود بھی صبح وشام چہل قدمی کرتے ہوے انہیں ”ہائے“ کہنے میں پہل کرتیں۔

جب خاندان والے جمع ہوتے تو جم کے تاش کھیلتیں اور باوجود رعب دبدبے کے اپنا رویہ نرم اور پرسکون رکھتیں۔ عام خواتین کی طرح کسی بھی کرائسس میں ہائے ہائے کرنے کے بجاے تحمل سے صورتحال سے نبٹتیں اور جس حد تک ممکن ہوتا دوسروں کا ساتھ دیتیں۔ میں نے ہمیشہ ہی ملازمت کی۔ انہوں نے گھر اور بچے سنبھالنے میں اسوقت بھی میری مدد کی جب میں کراچی کے کالج میں بطورلیکچرر پڑھاتی تھی اور اس زمانے میں ساتھ دیا جب وہ کئی سال ہمارے ساتھ آکر امریکہ میں رہیں۔

لیکن جو ساتھ انہوں نے میرا امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے میں دیا اس کا احسان تو میں کسی طور چکا ہی نہیں سکتی۔ کراچی میں ایک کالج میں مائیکروبیالوجی پڑھاتی تھی مگر امریکہ آکر میری خواہش سوشل ورک میں ماسٹرز کی تھی۔ جب وہ آئیں اور میرے شوق کا اندازہ کیا تو کہا ”تم پڑھو ہم تمھارا گھردیکھیں گے“۔ اگر ان کی حوصلہ افزائی اور تعاون نہ ہوتا تو میری دوسری ڈگری ممکن نہ تھی۔ میں نے اپنی کتاب ”ذہنی امراض اور ان کا علاج“ جو ڈاکٹر خالد سہیل کے ساتھ لکھی ہے اظہارتشکر کے طور پہ اپنی ساس کے نام کی ہے۔

میں نے ان کے منہ سے دوسرے بزرگوں کی طرح امریکہ میں تنہائی کا رونا روتے نہییں دیکھا۔ وہ کام نکالتی رہتیں کبھی گھرکے اندر کے توکبھی گھر کے باہر بڑے سے لان کے۔ موسم کے پھل تو کبھی سبزیاں۔ کبھی گیراج سیل سے خریدی ہوئی سلائی مشین سے سلائی ہورہی ہے تو کبھی نت نئی کھانوں کی ترکیبوں پہ ہاتھ صاف ہورہا ہے اور کبھی بچوں کے ساتھ کیرم بورڈ یا دوسرے بورڈ گیمز کھیلے جا رہے ہیں۔ امریکہ میں ان کی موجودگی کو اگر میں اپنے خاندان کا سنہری دور کہوں تو غلط نہ ہوگا۔ افسوس یہ ہے کہ پاکستان میں بیٹی کی دید بیماری کے سبب انہیں اچانک ہی جانا پڑا۔ جاتے وقت وہ اداس تھیں۔ ایک طرف بیٹا اور اس کی اولادیں دوسری طرف بیٹی کا گھر اوراسکے محبتی بچے۔ ماؤں کے دل کیسے امتحانوں سے گزرتے ہیں۔

وہ اتنی زندہ دل اور چاق و چوبند تھیں کہ جب وہ چلی گئیں تو کبھی یقین ہی نہیں آتا تھا کہ وہ کبھی بوڑھی بھی ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے پاکستان جا کر بیٹی کی بیماری کو جھیلا اور پھر اسے دنیا سے رخصت کیا۔ اسی وقار اور بہادری کے ساتھ۔ پچھلے سال نندکے بیٹے کی شادی طے پائی۔ نند کے انتقال کے بعد اس شادی میں شرکت میں اہم فریضہ سمجھ کے ادا کرنا چاہتی تھی۔ گو وہاں سارا کام نپٹ ہی گیا تھا مگر انہیں کچھ رسوم کی تیاری کے لیے میرا انتظار تھا۔ کہتیں ”وہ آئے گی تو سب نپٹا لے گی“۔ جاتے وقت جانے کیوں بجاے خوشی کے میرا دل کچھ بجھا سا تھا جس کا اظہار میں نے اپنی دوست سے شکاگو میں کیا۔ اس نے کہا جہاز میں بیٹھو گی تو سکون آجائے گا۔ شکاگو سے میں نے کراچی کے لیے ٹرکش ایر لائن لی تھی کیونکہ ارادہ واپسی میں ترکی کے دورے کا تھا۔

ارادے تو بہت ہوتے ہیں مگر ہر کام ہمیشہ آپ کی مرضی کی مطابق بھلا کب ہوا ہے۔ پاکستان جاتے وقت استنبول پہ جہاز سے اترتے ہوئے پیر کا فریکچر ہوگیا اوراس طرح بجائے پیروں پہ چل کے جانے کے میں وہیل چئیرپہ ان کے پاس پہنچی۔ اپنی بے بسی پہ دکھ اور ندامت سی ہورہی تھی۔ وہ جو میرے ہر وقت میں دل و جان سے میرے لئے تیار کھڑی ہوتی تھیں۔ آج میرے انتظارمیں تھیں اور میں بے بس ویل چیر پہ بیٹھی تھی۔

میں نے غور کیا کہ ماں جن کو ہم تصور میں بھی ہم بوڑھا نہیں سوچتے تھے وہ واقعی عمر رسیدہ ہوگئی ہیں۔ اب وہ کچھ جھک کرچلنے لگی ہیں۔ بیٹی کی موت اور بیٹے سے دوری کے اثرات نے مضبوط عمارت کو ڈھا دیا تھا۔ انھیں جدائی کی دیمک نے چاٹ لیا تھا۔ جیسے کسی شاندار عمارت کا بیرونی پلا ستر آندھی بارش اور طوفان سے بری طرح اکھڑ جائے۔ گوری رنگت گہنا گئی تھی۔ گوآواز میں کمزوری تھی مگر ان کے اعتماد میں کمی اب بھی نہیں تھی۔

اس رات میں ان کے کمرے میں ہی سو گئی۔ صبح دیکھا تو میرے لیے چائے، پر اٹھا اور آملیٹ لیے کھڑی ہیں۔ مجھے انتہائی شرمساری محسوس ہوئی۔ اسی بوجھل لمحہ میں اچانک میری نظر ان کی پرانی الماری پہ لگے آئینہ پہ پڑی جو ان کی مسہری کے عین مقابل تھا۔ میں نے غور کیا کہ آیئنہ ایک بڑی سی چادر سے مکمل ڈھکا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا ایسا کیوں ہے۔ انہوں نے بے اختیار کہا ”صبح ہوتے ہی ہماری نظر اس آئینہ پہ پڑتی ہے ہمیں اپنی شکل بہت خراب لگتی ہے اسی لیے ہم نے اسے ڈھانک دیاہے۔

کمرے میں کچھ لمحوں کو خاموشی نے دبوچ لیا۔ اچانک مجھے اس رشتے کرانے والی عورت کا خیال آیا جو تیرہ سالہ شاہجہاں بیگم کے حسن کی تاب نہ لا کر تقریباً بے ہوش ہوگئی تھی اور پھرمیرے سامنے وہ آیئنہ بھی تھا کہ جس کی سچائی کی تاب نہ لاتے ہوئے اسے اندھا کردیا گیا۔ میں نے سوچا واقعی حسن کو ثبات نہیں۔ بے اختیار میں نے انہیں گلے لگا کر ان کی انمول اورخوبصورت عنایتوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا کہ جو میرے دل پہ نقش ہیں۔

میری نند کے بیٹے کی مہندی، شادی اور پھر تیرہ جنوری کو ولیمہ کی دعوت آخر کار اپنے انجام کو پہنچی۔ تاہم اب میرے فریکچر کے سبب ترکی میں گھومنا ممکن نہ تھا۔ لہذٰا ٹکٹ براہ راست ا مریکہ کا کروا دیا گیا تھا۔ کچھ دن میں ہمیں نکلنا تھا۔ مگر ایک بار پھر یہ ماننا پڑا کہ ہمارے پختہ ارادے بھی کس قدر شکستہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہوا یہ کہ انیس جنوری کی شب جب اماں اور دوسرے گھر والے ایک دعوت کے لیے تیار بیٹھے تھے کہ اچانک انہیں دل میں تکلیف محسوس ہوئی۔

انہیں فوری طور پہ اسپتال لے جایا گیا اور ہسپتال پہنچ کر ڈاکٹر سے اپنا حال بتاتے ہوئے ان کاسانس اکھڑ گیا۔ اور اپنے بیٹے کے ہاتھ میں ہاتھ دیے منٹوں میں انہوں نے بڑے وقار سے موت کو گلے لگایا۔ جیسے اسی رعب و دبدبہ سے پوچھ رہی ہوں کہ ”ارے ماں کو سپرد خاک کیے بغیربھلا کُیسے جا سکتے ہو؟ بس فقط کچھ دن رخصتی کی رسومات کا فریضہ نبھاتے جاؤ کہ تمہاری ماں شاہ جہاں امام کی سواری اپنے ابدی سفر کو واپس جاتی ہے۔

(شاہ جہاں امام میری ساس تھیں۔ جن کا انتقال پچھلے سال 2019 ؁جنوری کی انیس تاریخ کو کراچی میں ہوا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *