اقبال بانو: مطربہ سے ایک ملاقات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال بانو کا یہ انٹرویو ان کی زندگی کے آخری ایام میں لیا گیا تھا، وہ اس وقت کم وبیش گوشہ نشینی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ کیونکہ پاکستان کا ثقافتی منظرنامہ دھندلا چکا تھا، میوزک کنسرٹ، موسیقی کی محافل ناپید ہو چکی تھیں۔ اقبال بانو نے پہلے تو کسی قسم کا انٹرویو دینے سے انکار کر دیا لیکن بعد ازاں وہ اس شرط پر مان گئیں کہ ان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے کوئی سوال نہ کیا جا ئے گا مثلاً یہ کہ کس سے محبت کی اور شادی کیسے ہو ئی۔ حالانکہ انہوں نے دبے لفظوں میں ان کا جواب بھی دے دیا تھا۔ جنرل ضیا کی آمریت کے زمانے میں وہ زیر عتاب بھی ہوئیں کیونکہ ان کی ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ قربت تھی اور وہ فیض احمد فیض کا انقلا بی کلا م گانے کے باعث بہت مقبول ہو چکی تھیں۔ پاکستان میں اقبال بانو کوانڈیا میں غزل کی گائیکہ بیگم اختر کے ہم پلہ قرار دیا جا تا تھا۔ 1935 میں دہلی میں پیدا ہو نے والی اقبال بانو کا انتقال 21 اپریل 2009 کو لا ہو ر میں ہو ا

یہ 1984ء کا زمانہ تھا۔ اسی زمانے میں پہلی بار فیض میلے کا انعقاد ہوا تھا جس میں مشاعرے کے بعد موسیقی کا اہتمام بھی تھا۔ رات کی خاموشی میں لاہور کے الحمراءمیں ایک آواز گونجی:

ہم دیکھیں گے….

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

”جب تخت گرائے جائیں گے،

جب تاج اچھالے جائیں گے“

وہاں پر موجود لوگوں کا فراواں ہجوم اس آواز میں ادا ہونے والے ہر لفظ پر فریفتہ ہو رہا تھا اور اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر اس دل میں گھر کر جانے والی آواز کو کچھ ایسے انداز میں داد دے رہا تھا جیسے یہ آواز ان کے دل کی آواز ہو۔ آواز کی لے بڑھتی گئی۔ لوگوں کا شوق بھی بڑھتا چلا گیا۔

اس آواز کے زیروبم میں حسن جیسی ملائمت، عشق جیسی تمکنت اور محبت جیسی وارفتگی ہے۔ وہ دل کے ہر نازک تار کو چھیڑتی ہے، جیسے خوشبو کا کوئی جھونکا ہو یا بہار کی خوشگوار صبح کا احساس۔ جس سے پورا وجود مہک اٹھے۔ وہ آواز رنگ و روشنی کا وفورہے، جس سے ہر کوئی جی اُٹھے۔ یہ آواز اقبال بانو کی آواز ہے جن کے گائے ہوئے گیت اور غزلیں دنیائے موسیقی میں ایک الگ شان کے ساتھ اپنی پہچان رکھتے ہیں۔ وقت نے ان کی تابندگی کو کبھی ماند نہیں پڑنے دیا بلکہ ان کو کچھ اور نکھار دیا ہے۔ اقبال بانو پہلے دن کے آغاز کے ساتھ بھی ہر کنسرٹ میں گاتی رہی ہیں اور ہزاروں لوگوں کی داد سمیٹتی تھیں۔ ان کی آواز پر مر مٹنے والے ملک میں اور ملک سے باہر یکساں طور پر موجود ہیں۔

سپید رنگت اور دلکش نقش و نگار کی حامل شخصیت اقبال بانو زبان کے خالص تلفظ کے ساتھ گفتگو کرتی ہیں۔ موسیقی کے اسرار و رموز اور گیتوں، غزلوں کی طرزوں کے جنم لینے کی داستان ان کے شوق کے مضامین ہیں، جنہیں چھوٹی بڑی تفصیل کے ساتھ سناتی چلی جاتی ہیں، مگر اپنی ذات کے بارے میں کچھ کہنے سے وہ گریز کر جاتی ہیں۔ اپنے انٹرویو سے پہلے انہوں نے مجھے تنبیہہ کر دی تھی کہ ”مجھ سے میری فیملی کے بارے میں کچھ نہ پوچھا جائے“۔

ایک بڑی فنکارہ اپنی ذات کو اوجھل کیوں رکھنا چاہتی ہے؟ جب میں نے ان سے دریافت کیا تو ان کا ناکافی جواب یہ تھا۔ ”میرا تعلق ایک کنزرویٹو فیملی سے ہے اور میں نے گانا ان کی مرضی کے خلاف سیکھا ہے“۔ مگر میرا خیال ہے کہ ان کا تعلق ایک کنزرویٹو سوسائٹی سے بھی ہے جو فنکار کے لیے ”دشت تنہائی“ ہے۔

اقبال بانو کا آبائی شہر ملتان ہے۔ جب وہ سات آٹھ سال کی تھیں تو وہ اپنے پڑوس سے سنائی دینے والی ایک تان کی جانب متوجہ ہوئیں۔ یہ زمانہ پاکستان بننے سے سات سال پہلے کا تھا۔ وہ کشاں کشاں اس طر ف چل پڑتیں …. اور استاد کی آواز کے ساتھ آواز ملانے لگیں۔

استاد نے ان لڑکیوں سے پوچھا کہ ”یہ لڑکی کون ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا کہ ”یہ ہمارے پڑوس میں رہتی ہے“۔ استاد کہنے لگے کہ اگر یہ لڑکی گانا سیکھ لے تو بہت اچھا گائے گی“۔ اگلے دو دن پڑوس نہ گئی جب وہ گئیں تو لڑکیوں نے بتایا کہ ”ان کے استاد چلے گئے ہیں اور ان کے تمہارے بارے میں بہت اچھے خیالات ہیں۔ “ تب بانو کے شوق کو استاد کی رائے نے جلا بخشی اور انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ ”میں نے گانا سیکھنا ہے۔“ شدید رسم و رواج کے پابند بانو کے خاندان کے لیے کمسن بچی کی یہ فرمائش سوہان روح تھی، چنانچہ جب سب گھر والوں نے اس کی مخالفت کی اور اس کا پڑوس میں جانا ممنوع قرار دے دیا گیا اور اس کے لئے گانا سننا اور سنانا بند کر دیا۔ جہاں سے چشمہ پھوٹ رہا تھا اس پر بھاری پتھر رکھ دیا گیا، مگر یہ بھاری پتھر اس چشمے کی بے تابیوں کو زیادہ دیر تک نہ روک سکا جسے آنے والے دنوں میں آبشار کی شکل اختیار کرنا تھی۔

”ان لڑکیوں کے والد میرے ابا کے دوست تھے۔“ اقبال بانو ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ”میں نے ان سے کہا انکل! آپ ہی میرے ابا سے کہیے کہ وہ مجھے اجازت دے دیں، میں گانا سیکھ لوں، مجھے بہت شوق ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ بیٹی! تمہاری آواز بہت اچھی ہے۔ میں خود تمہارے والد سے کہوں گا، چنانچہ انہوں نے میرے والد سے کہا اس بچی کو سیکھنے دیں۔ استاد میرے گھر آتے ہیں اگر آپ اپنے گھر نہیں سکھانا چاہتے تو میرا گھر حاضر ہے۔ میرے ابا نے کہا کہ ہماری فیملی میں گانے کا رواج ہی نہیں ہے۔ میں کیسے اجازت دے دوں؟ ایک بار پھر ہمارے پڑوسی نے زور دے کر کہا کہ یہ کوئی جرم نہیں ہے، یہ تو ایک فن ہے۔ قدرت نے اس کو اتنی اچھی آواز دی ہے۔ تم اسے کیوں ضائع کر رہے ہو۔ سیکھ لینے دو۔ اس لڑکی کا شوق ہے مگر ابا نے صاف انکار کر دیا۔ پھر میں اپنی والدہ کے سامنے بیٹھ کر رونے پیٹنے لگی کہ میں نے گانا ضرور سیکھنا ہے۔ والدہ کہنے لگی کہ میں کیا کر سکتی ہوں، تمہارے ابا نہیں مانیں گے۔ ‘ کمسن بانو شوق کی انگلی تھامے اپنی لگن کے آگے سرنگوں، کھیلنے کے بہانے پڑوس جا پہنچتی۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ استاد واپس آئے ہیں کہ نہیں اور وہاں اپنی ہمجولیوں کے ساتھ مل کر کچھ نہ کچھ گا لیتی۔ اقبال بانو کے والد نے جب یہ دیکھا کہ ان کی ضد کی وجہ سے بچی کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے، اسے مشروط اجازت دیتے ہوئے لاہور ریڈیو اسٹیشن پر بچوں کے پروگرام میں لے گئے۔ یہ رواجوں کے زندان میں مقید فن کی روشنی کے لیے ایک چھوٹا سا روزن ثابت ہوا۔ جہاں سے چہار سو پھیلنے کا یہ راستہ کافی تھا۔

ریڈیو پاکستان لاہور اسٹیشن سے بانو نے بچوں کے گیت سنانے شروع کیے۔ ریڈیو سے وابستہ کمپوزرز اس کی آواز کی جانب متوجہ ہوئے اور انہوں نے کہا کہ یہ لڑکی بہت باصلاحیت ہے، اس کی آواز بہت اچھی ہے، اس کو ٹرائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کچھ گیت کمپوز کر دئیے جو بانو نے گائے۔ پھر انہوں نے ایک غزل دی اور وہ بھی بانو نے اپنی مترنم آواز میں سنا دی۔ یہی وہ مقام تھا جب اقبال بانو کا خاندان ان کے شوق کی راہ میں مزید رکاوٹ نہ بنا اور انہوں نے خصوصی طور پر استاد سے سیکھنا شروع کر دیا۔ ”میرے باقاعدہ استاد چاند صاحب تھے اور وہ دہلی کے رہنے والے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد میں نے ایک اور استاد کریم خان صاحب سے سیکھا، ان کا تعلق پٹیالہ گھرانے سے تھا۔ میں نے دونوں سے کلاسیکل تعلیم حاصل کی۔ اقبال بانو اپنی موسیقی کی ابتدائی تعلیم کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ غزل ’ٹھمری‘ گیت، سیمی کلاسیکل سب میں نے سیکھا۔ کلاسیکل میں خیال، استھائی ہوتا ہے۔ میں نے یہیں سے شروع کیا۔ میرے اندر میوزک تھا۔ ریڈیو پر کمپوزر جب مجھے کوئی غزل دیتے تو وہ فوراً نغمے میں ڈھل جاتی۔ “

اقبال بانو نے آل انڈیا ریڈیو پر جا کر گایا۔ پا کستان بننے کے بعد وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ لا ہور آ گئیں۔ ان کی غزل گائیکی بہت معروف ہو چکی تھی۔ انہوں نے فلموں کے لیے بھی گیت گائے جن میں یہ گیت معروف ہوئے۔

الفت کی نئی منزل کو چلا

تو بانہیں ڈالے بانہوں میں

دل توڑکے جانے والے دیکھ ادھر

 ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے

تو لاکھ چلے رے گوری تھم تھم کے

محبت کر نے والے کم نہ ہو ںگے

تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہو ں گے

داغ دل ہم کو یاد آنے لگے

لوگ اپنے دئیے جلانے لگے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *