میرے گاؤں میں بولے جانے والے چند کلیشے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اپنے گاؤں کے لئے کچھ نہیں کر سکا۔ میں نہ تو سماجی ورکر ہوں نا کوئی کونسلر یا کوئی سیاستدان۔ ایک عرصہ تک میرے گاؤں پر دشمنی کے بادل چھائے رہے۔ اللہ کا شکر ہے اب ایسی کوئی صورتحال نہیں اور امن ہے۔ دکانیں دیر تک کھلی رہتی ہیں اور لڑکے آگے نکل کر ملک کی اچھی جامعات اور کالجوں میں پڑھ رہے ہیں۔

ایک دفعہ میرے گاؤں میں ایک سنوکر کلب کھلا اور ہم سارے لڑکے وہاں اکٹھے ہو جاتے۔ گیموں پر گیمیں لگتی اور جگتوں پر جگتیں۔ ایک دن کسی فائنل شارٹ پر کسی کم بخت لڑکے کے منہ سے نکل گیا کہ کوئین نہیں جائے گی۔ پلیئر نے رک کر دیکھا اور شارٹ کھیل دی۔ کوئین اندر چلی گئی۔ یہ عصر کی اذان کا وقت تھا اور پلیئر نے عشاء کے بعد تک اس لڑکے کو جگتیں ماری۔ یہاں تک کہ لائٹ چلی گئی۔

انہیں دنوں ایک لڑکے نے یہ افوا اڑا دی کہ امریکہ میں ایک ایسا پلیئر ہے جو پہلی سٹروک پہ پورا سیٹ اندر ڈال دیتا ہے اور اس کا نام رابرٹ ہے۔ پھر اس کے بعد رابرٹ غیر معمولی کا استعارہ بن گیا اور ہمارے گاؤں کی ڈکشنری کا مین لفظ بھی۔ ایسے ہی کئی الفاظ اور ڈائیلاگ اس سے پہلے یا بعد میں مشہور ہوئے، جو صرف ہمارے گاؤں کے لوگ جانتے ہیں۔

اسی طرح جب کچھ لڑکے کسی دوست کی دعوت پر اس کے گاؤں گئے اور اس نے کھانے کے دوران کولڈ ڈرنک نہ رکھی تو ایک لڑکے کے منہ سے نکل گیا۔ ”زینی نوں گھلو، کاشو کول“ (زینی کو کوشف کے پاس بھیجو) ۔ اور باقی ہنس ہنس کر دوہرے ہو گئے کہ زینی کسی مہمان کے آنے پر کریانے والے سے کولڈ ڈرنک لے کے آتا تھا۔

بات شروع ہوئی تھی میرے گاؤں کے لئے کچھ نہیں کر سکنے سے تو ایسا ہے کہ میں نے سوچا کہ چند ڈائیلاگ اور مکالمے آپ کو سناؤں جو سنتے سنتے ہم بڑے ہوئے اور آج بھی اسی شد و مد سے ادا کیے جاتے ہیں۔ یہی ڈائیلاگ ہم کبھی کبھار واٹس ایپ پر اپنے پردیسی کزنوں اور دوستوں کو سینڈ کرتے ہیں۔

”حضرات اک ضروری اعلان سماعت کرو۔ پھریدا تیلی، اوندی دکان تے بکرے دا تازہ گوشت آ گیا اے۔ جناں صاباں خریدنا ہووے اوناں دی دکان توں جا کے لیا سکدا اے۔ “

چڑھدے پاسے (مشرقی طرف)

لاندے پاسے (مغربی طرف )

آن دا سان دا، جنہاں جنہاں ہنواں کڈھانیاں نیں (ایک ہنقارا جو ایک دانت نکالنے والا لگاتا ہے

بابے نور شاہ کول ( دربار کے پاس)

درس آلی سائیڈ تے ( درس گاہ والی طرف)

ٹبے تے گیا اے ( ایک مرکزی طبیلا، جس کے اطراف کبھی ایک گراؤنڈ ہوتا تھا، اور ایک بڑا قبرستان)

وڈے سکول کول ( ہائی سکول کے ساتھ)

لکھو کے ڈیرے تے ( ایک چھوٹا سا ڈیرہ جو نہر کنارے آباد ہے )

کلسیں، اسویں، موگے تے ( تین ملحقہ گاؤں )

جیہڑی ہو گئی تکھے آلیاں نال ( ساری ذلت تکھے والوں کے حصہ میں آئی)

انو جی ( چلیں )

دانے بھنا لیا جانو کولوں ( جانو ماچھن سے دانے بھنوا لاؤ)

گوگی کول جیز کیش ہونا ایں؟ ( گوگی بنیا ہے )

کنڈی نا لایا جے۔ چھاپا پؤنا ایں اج واپڈا دا ( آج کوئی بجلی چوری نہیں کرے گا)

کمان آلیاں دا بھلا ( کمانے والے کی عزت ہے )

اللہ تینوں پاس کرے ( اللہ کامیاب کرے )

افنی لٹ گیا ایں ( آج کا دن تمہارا ہے )

کی مڑ کھکھڑ کھیا کیتا ہاجے ( کیا خاطر مدارت کی)

مونگ پھلی پھڑی لیاویں آؤندا ہویا۔ ( مونگ پھلی لیتے آنا)

سیم دی پل تے ( نہر کے پل پہ )

حُسڑ پیا ایں ( اداس ہو گئے ہو )

طافے اج سموسے کڈے نے کوئی نا ( دوپہر کو بولا جانے والا سب سے عام ڈائیلاگ )

باسطی توں پتہ کریں چارجر ہئیسو باریک پن آلا ( کسی بھی الیکٹرونک ایشو کو بیان کرتے وقت )

لئے جا مگروں ساڈیوں ( ہماری جان چھوڑو )

بڑا بے سوادا ایں یار ( بہت بور کرتے ہو تم )

چاچا سناؤ۔ بچے ے ے او ( ایکسٹرا عزت دیتے وقت )

بڑا کم کیتا سو۔ دے بھئی اینوں کتے آلا کپ ( کتوں کی ریس میں جیتا جانے والا کپ جو طنزً کسی کو مخاطب کرتے وقت بولا جاتا ہے )

ماجا موچی ( جب اصل آدمی کا نام نہ لینا ہو )

اور کچھ ایسی بھی باتیں جو میں بوجوہ سنسرشپ نہیں لکھ سکتا اور اس لیے بھی کہ ابھی مجھے گاؤں رہنا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *