سرمد کھوسٹ: زندگی واقعی تماشا بن گئی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات کی وکالت ہرگز نہیں کہ آزادی اظہار کے نام پر کسی بھی مذہب کی توہین کی اجازت دی جائے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ڈیڑھ منٹ کے ٹریلر میں مولوی صاحب نے کیونکر یہ اندازہ لگا لیا کہ سرمد سلطان کھوسٹ کی فلم ”زندگی تماشا“ اسلام کے خلاف ہے؟

محض اس بات سے کہ فلم کا مرکزی کردار اپنا تعارف ایک نعت خواں کی حیثیت سے کروا رہا ہے؟

سرمد کھوسٹ صاحب کی وضاحتی ویڈیوز، انٹرویوز اور کُھلے خطوط دیکھ کے رنج ہوتا ہے۔ بے حد رنج۔ انہیں مکمل تفصیل سے بیان کرنا پڑا کہ مذکورہ فلم پاکستان سینسر بورڈز کے تمام تر معیارات پر پُورا اترتی ہے اور متعلقہ اداروں سے تشہیر کی قانونی اجازت بھی حاصل کر چُکی ہے۔ فلم میں ایسا کُچھ نہیں ہے جو اسلام کے خلاف ہو۔ لہٰذا فلم کو مقررہ تاریخ پہ ہی سینما گھروں کی زینت بننے کی اجازت دی جائے۔ بات اسی وضاحت و درخواست پر ختم ہو جاتی تو افسوس نہ ہوتا۔

سرمد سلطان کھوسٹ پرفارمنگ آرٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا اس خوبصورتی سے منوا چُکے ہیں کہ انہیں مزید کسی تصدیق کی ضرورت نہیں۔ لیکن افسوس، اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے انہیں اپنا تعلیمی کیرئیر بتانا پڑا، ذمہ دار شہری ہونے کی قسمیں کھانی پڑیں، اپنے ایمان کی شہادت دینی پڑی۔ انہیں حلف اٹھانے کی نوبت پیش آئی کہ یہ فلم کسی اسلام دشمن مُلک سے فنڈڈ نہیں، بلکہ اُس سفید پوش آرٹسٹ نے اپنا پلاٹ بیچ کر یہ شاہکار تخلیق کیا۔ لیکن مولوی کے کلیجے میں پھر بھی ٹھنڈا نہیں ہوا۔ کھوسٹ فیملی اور فلم کے دیگر آرٹسٹوں کو دھمکیاں جاری ہیں۔ ہڑتال کی کال دی جا چُکی ہے۔ حکومت گُھٹنے ٹیک چُکی ہے۔ فلم کی تشہیر تاحکمِ ثانی رُک چُکی ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ مولوی یا نعت خواں پر فلم کیوں نہیں بن سکتی؟ قصور میں ننھی زینب کا بے رحم و سفاک قاتل عمران، خوش الحان نعت خواں اور میلاد کی محافل کا نقیب تھا۔ مانسہرہ میں دس برس کے بچے کا بچپن لاتعداد بار مسلنے والا قاری شمس حافظِ قرآن ہے۔ یہ لوگ رسولؐ کی نعتیں پڑھ کے، سینے میں قُرآن محفوظ کر کے بھی انسانیت سوز مظالم کر سکتے ہیں لیکن اِن کی سیہ کاریوں کا تذکرہ سرِ بازار کیوں نہیں ہو سکتا؟ اِن پر فلم کیوں نہیں بن سکتی؟ اِن کی ذات خُدا کی نمائندہ ہستی کیونکر ہو گئی؟ یہ مذہب کے فوکل پرسن ہونے کا سرٹیفکیٹ کہاں سے لے کر آئے ہیں؟

عاطف توقیر صاحب یاد آ رہے ہیں۔

خوابِ وحشت میں تُو بھی شامل ہے

مسئلہ اب مِری بقا کا نہیں

مولوی بھی مکیں ہے مسجد کا

یہ مکاں اب فقط خُدا کا نہیں

اخبار میں لکھا ہے کہ پنجاب اور سندھ حکومت نے فلم کی تشہیر روک دی ہے۔ تین بار سینسر بورڈز سے پاس ہونے کے باوجود پھر سے نظرِثانی کی جائے گی اور اب کی بار اس کیمٹی میں تحریکِ لبیک کا نمائندہ بھی شامل ہو گا!

یہ دھونس، زیادتی رُک سکتی تھی۔

یہ طوائف الملوکی رُک سکتی تھی، اگر گزشتہ حکومت میں انتخابی اصلاحات میں ترمیم پر اس پریشر گروپ کے آگے گُھٹنے نہ ٹیکے ہوتے۔ اگر اِن فسادیوں کو وطن کی حفاظت کے ضامن رقم کے لفافے تھماتے ہوئے یہ نہ کہتے کہ ہم بھی آپ کے کچھ لگتے ہیں۔ یہ غُنڈہ گردی رُک سکتی تھی اگر اُس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ سرگودھا کے ایک پیر صاحب کے سامنے یہ مان کے نہ آتے کہ وزیرِ قانون آپ کی قائم کردہ کمیٹی کو اپنے ایمان پر مطمئن کریں گے۔

یہ بدمعاشی رُک سکتی تھی اگر ریاست گزشتہ ماہ اٹک کی اسسٹنٹ کمشنر جنت حُسین کے ساتھ کھڑی ہو جاتی اور انہیں اپنی جان بچانے کے لیے فرسٹ ائیر کے چند بدتمیز اور اوباش نوجوانوں کے سامنے اپنے بیٹے کا نام بتا کر ایمان کی گواہیاں نہ دینی پڑتی۔ یہ لاقانونیت اُس وقت بھی تھم سکتی تھی اگر تبھی قانون کے تقاضوں کے مطابق اِس پریشر گروپ کا مستقل بندوبست کر لیا جاتا جب آرمی چیف اور سابق چیف جسٹس کے قتل کے فتوے جاری کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

جنرل ضیاء الحق کا دور بلاشبہ بہت زیادہ تاریک ہو گا تبھی حبیب جالب اصرار کرتے رہے،

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

یہ ڈرتے ہیں نہ نادم ہیں

ہاں کہنے کو یہ خادم ہیں

یہاں اُلٹی گنگا بہتی ہے

اس دیس میں اندھے حاکم ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

لیکن ہماری عمر کم ہے، زندگی کا تجربہ کم ہے، شاید اسی لیے اُمید کی کُچھ کرنیں ابھی باقی ہیں۔ اپنی آواز گاہے گاہے بلند کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں۔ خدارا اس وطن میں قانون کی عملداری یقینی بنائی جائے۔ ہمارا اس سے زیادہ کچھ مطالبہ بھی نہیں۔ ہمیں ”زندگی تماشا“ دیکھنی ہے۔ وقت کے ایک ذہین ترین فنکار کا فن بغیر داد وصول کیے ضائع نہیں ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *