کیا نواز شریف ابھی الیکشن نہیں چاہتے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارادہ تھا کہ اس بار پاکستان میں بار بار کی فوجی مداخلت پر لکھا جائے۔ پاکستان اور بھارت نے ایک ہی ملک سے آزادی حاصل کی ہے۔ دونوں ممالک کے فوجی افسران نے ایک ہی جگہ سے تربیت حاصل کی لیکن پاکستان میں آغاز ہی سے مداخلت شروع ہو گئی تھی اور بھارت میں آج تک کبھی کسی فوجی سربراہ کو مارشل لاء لگانے کی جرات نہیں ہوئی۔ قائداعظم جلدی رحلت فرما گئے تھے تو بھارتی رہنما گاندھی کا بھی جلد ہی انتقال ہو گیا تھا۔ ایک فرق جو محسوس ہوتا ہے وہ یہ کہ مسلم لیگ نے آغاز ہی سے تنظیم سازی پر دھیان نہیں دیا جبکہ کانگرس نے ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ بنایا تھا۔ ہمارے ہاں پاکستان بننے سے پہلے ہی ”الیکٹیبلز“ نے اس نظام کو ایسا جکڑا ہے کہ چھٹکارا مشکل نظر آتا ہے۔

ترکی میں فوجی مداخلت کے خلاف عوامی ردعمل ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے ملک میں جو مضبوط تنظیمی ڈھانچہ بنایا تھا یہ سب اسی کا کرشمہ تھا کہ صرف ایک ویڈیو پیغام پر لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ سینکڑوں لوگوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی لیکن مداخلت کے شوقینوں کو واپس پلٹنے پر مجبور کر دیا۔

ہمارا المیہ یہی ہے کہ کسی ایک بھی بڑی سیاسی جماعت میں مضبوط تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ عوام کو شعور دینے کے لئے سیاسی جماعتوں میں جمہوری روایات کی پاسداری بہت ضروری ہے ورنہ عوام ایسے ہی کبھی فوجی حکمرانوں کو مسیحا سمجھتی رہے گی لیکن فیصل واوڈا کے چمکتے بوٹ کو میز پر رکھنے سے شروع ہوئے بحران نے توجہ تحریک انصاف کے بڑھتے بحرانوں کی جانب مبذول کروا دی۔

گزشتہ سترہ ماہ میں تحریک انصاف کی کارکردگی یہی رہی ہے کہ پچھلے بحران سے توجہ ہٹانے کے لئے ایک نیا بحران پیدا کیا جائے۔ فیصل واوڈا کا فوجی بوٹ میز پر رکھنا ایک سوچی سمجھی حرکت تھی۔ بظاہر اس حرکت میں عمران خان کی بھرپور رضامندی بھی شامل تھی۔

محترم حامد میر صاحب کے مطابق اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیغام بھجوایا گیا کہ فیصل واوڈا کو معافی مانگنی چاہیے لیکن فیصل واوڈا نے بار بار کہنے کے باوجود بھی پروگرام میں معافی نہیں مانگی۔ عمران خان کا فیصل واوڈا پر ٹاک شوز میں شرکت پر صرف پندرہ دن کی پابندی لگانا یہ واضح پیغام ہے کہ نہ صرف یہ حرکت عمران خان کی تائید سے ہوئی ہے بلکہ آئندہ بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف خاموش نہیں رہے گا۔

حکومتی اتحادیوں نے اچانک رنگ بدلنے شروع کیے تھے وہ ابھی تک جاری ہیں۔ ایم کیو ایم سے ملاقات ناکام رہی۔ تحریک انصاف کے اپنے اراکین اسمبلی نے بھی پریشر گروپ بنا لیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پنجاب میں ق لیگ کو عملی طور پر وزارت اعلی دی جا چکی ہے۔ تحریک انصاف کے اپنے لوگ عثمان بزدار سے زیادہ خوش نہیں لیکن عمران خان کسی صورت بھی عثمان بزدار کو تبدیل کرنے پر تیار نہیں۔ گورننس بالکل نظر نہیں آ رہی، پنجاب میں کوئی ایک بھی بڑا منصوبہ شروع نہیں ہو سکا۔ ٹماٹر اور آٹے کے بعد اب چینی کا بحران سر اٹھا رہا ہے۔ ہر چیز پر ٹیکس لگانے کا باوجود ریونیو ٹارگٹ پورا نہیں کر پا رہے۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ امپورٹ کر کے لگانے سے معیشت عملی طور پر بینک آئی ایم ایف کے حوالے کر دی گئی ہے۔ حکومت کی توجہ صرف اپوزیشن پر الزامات لگانے میں ہی ہے۔

’فرشتے کہاں سے لاؤں‘ کا عذر پیش کر کے عمران خان نے تمام سیاسی جماعتوں سے ایسے لوگ اکٹھے کیے جن کی وجہ شہرت ہی کرپشن اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنا رہا ہے۔ موجودہ حکومت کے ہر سکینڈل میں جہانگیر ترین کا نام آتا ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے بھی جہانگیر ترین کی ہی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ پہلے حکومت سے سبسڈی لے کر سستی گندم باہر بھیجی اور اب دوبارہ حکومت کو مہنگی گندم درآمد کر کے بیچی جائے گی۔ اربوں روپے کے اس ”درآمد برآمد“ کھیل میں سب انگلیاں جہانگیر ترین اور ہمنواؤں کی جانب اٹھ رہی ہیں۔ مشرف حکومت میں بھی مبینہ طور پر یہی لوگ گندم درآمد برآمد کے کھیل میں شامل تھے۔ عمران خان آپ بے شک فرشتے نہ لائیں لیکن کم از کم چن چن کر کرپٹ لوگ بھی مسلط نہ کریں۔

اس حکومت کی نا اہلیت اور نالائقیوں پر بہت باتیں ہو چکی ہیں۔ ایک چیز کی نشاندھی کی جائے تو اگلی اس سے بڑی حماقت سامنے آ جاتی ہے۔ الیکشن سے پہلے عمران خان نے نوکریوں اور گھروں سمیت جو بلندوبانگ دعوے کیے تھے وہ عملی طور پر ممکن نظر نہیں آتے۔ ان وعدوں کی تکمیل کے لئے کوششیں کرنے کی ضرورت تھی۔ ٹماٹر، آٹے اور چینی کے مافیاز کو کنٹرول کرنے کی بجائے عمران خان نے ساری توجہ دوسروں کی کردار کشی کی جانب مبذول کر لی۔ ریاست مدینہ کے دعویدار کا اپنے سوشل میڈیا اراکین سے خطاب میں قول و فعل کا تضاد نمایاں نظر آیا۔ رانا ثنا اللہ کے بارے میں الزامات اس بات کی گواہی ہیں کہ آج بھی عمران خان صرف سنی سنائی باتیں پھیلانے پر یقین رکھتے ہیں۔ وزیراعظم کی کرسی اور حلف بھی ان کی فطرت نہیں بدل سکا۔

اس پیچیدہ سیاسی صورتحال پر مختلف قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔ ایک رائے ہے کہ اگلے کچھ ماہ میں سیاسی سیٹ اپ تبدیل ہو رہا ہے۔ لندن میں نواز شریف اور ملیحہ لودھی کی ملاقات کو بہت اہم بتایا جا رہا ہے۔ یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ نواز شریف ابھی الیکشن نہیں چاہتے اور اسی حکومت کو مزید وقت دینا چاہتے ہیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں آگاہی ہو سکے کہ گزشتہ حکومت نے تمام داخلی اور بیرونی سازشوں کے باوجود عوام کو کیسا روشن پاکستان دیا اور اس حکومت نے ہر ادارے کی بھرپور مدد کے باوجود ترقی کرتے پاکستان کو بحرانوں میں دھکیل دیا۔

اس وقت یہ رائے مضبوط ہوتی جا رہی ہے کہ اگر یہ حکومت رہی تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ترقی کی رفتار 2.1 فیصد ہونے پر مہنگائی اور بیرزگاری سے جو تباہی ہو گی وہ سوچ کر ہی دل دہل جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن اتفاق رائے سے مکمل ہو چکا ہے اور غالب امکان ہے کہ ملکی بہتری کے لئے سب فریقین نئے الیکشن کی جانب جائیں گے اور اس کے آثار بھی واضح ہو رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *