جانور راج: خوراک کی راشن بندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(جارج آرویل، مترجم: آمنہ مفتی)

باکسر کے زخمی کھر کو مندمل ہونے میں طویل عرصہ لگا۔ انہوں نے جشنِ فتح ختم ہونے کے اگلے ہی روزسے پون چکی کی تعمیرِ نو شروع کر دی تھی۔ باکسر نے ایک روز کی چھٹی لینے سے بھی انکار کر دیا اور اس بات کو انا کا مسئلہ بنا لیا کہ کسی کو اس کی تکلیف کا اندازہ ہو۔ شام کو وہ چپکے سے کلوور کے سامنے اعتراف کرتا کہ کھر بہت دکھتا رہا۔ کلوور نے اس کا علاج جڑی بوٹیوں کے لیپ سے کیا جو وہ چبا کر بناتی تھی، وہ اور بنجامن دونوں، باکسر کو زیادہ مشقت سے منع کرتے تھے۔ ”گھوڑے کے پھیپھڑے ہمیشہ نہیں رہتے“، وہ اسے کہتی۔ مگر باکسر نے اس کی بات نہ سنتا۔ اس کے پاس تو، وہ کہتا، اب ایک ہی مقصد رہ گیا تھا۔ ریٹائرمنٹ کی عمر تک پہنچنے سے پہلے پو ن چکی کے پر گھومتے دیکھنا۔

ابتدأ میں جب جانوروں کے باڑے کا آئین بنایا گیا تھا تو، گھوڑوں اور سؤروں کے لئے ریٹائر منٹ کی عمر، بارہ، گایوں کے لئے چودہ، کتوں کے لئے نو، بھیڑوں کے لئے سات، اور بطخوں، مرغیوں کے لئے پانچ پانچ برس مقرر کی گئی تھی۔ بوڑھوں کے لئے وظیفہ مقرر کیا گیا تھا۔ ابھی تک کوئی بھی جانور، وظیفہ لے کر ریٹائرنہیں ہوا تھا، مگر آج کل اس موضوع پہ کچھ زیادہ ہی بحث ہونے لگی تھی۔ اب جبکہ، پھلوں کے باغ سے پرے کی چھوٹی چراگاہ، جو کی کاشت کے لئے مختص ہو چکی تھی تو یہ بات اڑ رہی تھی کہ بڑی چراگاہ کا ایک گوشہ، باڑ واڑ لگا کے بڈھے جانوروں کے چرنے چگنے کے لئے الگ کر دیا جائے گا۔ ایک گھوڑے کے لئے مبینہ وظیفہ، پانچ کلو مکئی، سردیوں میں پندرہ کلو بھوسہ اور تعطیل کے دنوں کے لئے ایک گاجر یا اگر ممکن ہو تو ایک سیب مقرر کیا گیا تھا۔ باکسر کی بارہویں سالگرہ، اگلے سال جاتی گرمی میں آنے والی تھی۔

یہ سختی کے دن تھے۔ سردی اتنی ہی شدید تھی جتنی کہ پچھلی سردی تھی، اور خوراک اس سے بھی کم تھی۔ ایک بار پھر راشن بندی کی گئی اور راشن مزید گھٹا دیا گیاسوائے کتوں اور سؤروں کے کھابوں کے۔ چیخم چاخ نے کہا کہ کھانے پینے میں مساوات پہ زور دینا، ’حیوانیات‘ کی بنیادی روح کے خلاف ہو گا۔ اسے جانوروں کو یہ باور کرانے میں کسی طور بھی کوئی قباحت نہ تھی کہ بظاہر جو بھی نظر آ رہا ہے اصل میں ان کے ہاں خوراک کی کوئی قلت نہیں۔

فی الوقت یہ ضروری تھا کہ خوراک کی تقسیم پہ نظر ثانی کی جائے (چیخم چاخ اسے ”کمی“ نہیں بلکہ ہمیشہ ’نظرثانی‘ کہا کرتا تھا) ، مگر جانی صاحب کے دور کے مقابلے میں ترقی کمال کی ہوئی تھی۔ اپنی، تیز، چنچناتی ہوئی آواز میں اعداد و شمار پڑھتے ہوئے، وہ انہیں تفصیلا باور کراتا کہ اب ان کے پاس اس سے کہیں زیادہ جو، بھوسہ، شلجم تھے جتنے کہ جانی صاحب کے زمانے میں ہوتے تھے۔ اب وہ کم کام کرتے تھے، انہیں پینے کو صاف پانی میسر تھا، ان کی عمریں طویل ہو گئی تھیں، ان کے بچے، کم عمری کی موت سے بچ گئے تھے، ان کے تھانوں پہ پیال کی تہہ زیادہ موٹی ہو گئی تھی اور اب انہیں کھٹمل بھی نہیں ستاتے تھے۔

جانور اس کے ہر ہر لفظ پہ یقین کرتے تھے۔ سچ تو یہ تھا کہ جانی صاحب اور جو کچھ بھی اس سے منسوب تھا، ان کی یاد داشت سے قریب قریب محو ہو چکا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ زندگی آج کل سخت اور کھری ہے اور یہ کہ وہ اکثر بھوکے اور اکثر ٹھٹھرتے پھرتے تھے اور یہ کہ وہ جب سو نہیں رہے ہوتھے تو وہ اکثرکام ہی کرتے تھے۔ مگر یقینا ماضی میں حال، بد حال ہی ہو گا۔ وہ اس گمان پہ خوش تھے۔ مزید یہ کہ گئے دنوں میں وہ غلام تھے، مگر اب وہ آزاد تھے اور یہ ہی ساری بات تھی، جیسا کہ چیخم چاخ کبھی بتانے سے نہیں چو کتا تھا۔

اب کھانے والے کئی منہ تھے، خزاں میں چار سؤرنیوں نے اکٹھے ہی بچے دیے تھے، اکتیس نئے سؤر کے بچے۔ ننھے سؤر چتکبرے تھے اور جیسا کہ باڑے میں نپولین ہی واحد نر سؤر تھا، چنانچہ ان کی ولدیت بخوبی پتا کی جا سکتی تھی۔ جب، شہتیر اور اینٹیں وغیرہ خرید لی گئیں تو اعلان کیا گیا کہ فارم ہاؤس کے باغ میں ایک سکول تعمیر کیا جائے گا۔ اس دوران، ننھے سؤروں کو نپولین، بنفس نفیس، فارم ہاؤس کے باورچی خانے میں تعلیم دیا کرتا تھا۔

وہ باغ میں ڈنڈ پیلتے اور انہیں دوسرے جانوروں کے بچوں کے ساتھ کھیلنے سے منع کیا جاتا تھا۔ ان ہی دنوں یہ اصول بھی بنایا گیا کہ اگر راستے میں کسی سؤر اور جانور کا آمنا سامنا ہو گا تو جانور کو احتراما پرے ہو کر کھڑا ہونا ہو گا، اور یہ بھی کہ تمام سؤروں کو، وہ خواہ کسی بھی درجے کے ہوں، اتواروں کو اپنی دموں میں ہرے موباف باندھنے کا اعزاز حاصل ہو گا۔

باڑے کا یہ سال خوب ترقی کاسال تھا، مگر پیسے کی پھر بھی کمی تھی۔ سکول کے لئے، چونا اور اینٹیں خریدی جانی تھیں، اور یہ بھی ضروری تھا کہ پون چکی کی مشینیں خریدنے کے لئے پھر سے بچت کا آغاز کیا جائے۔ پھر، رہائشی عمارت کے لئے موم بتیاں اور دیوار گیریوں کے لئے تیل بھی خریدا جانا تھا اور نپولین کے ذاتی دستر خوان کے لئے کھانڈ (دیگر سؤروں کے لئے اس نے یہ ممنوع کر دی تھی کیونکہ اس سے وہ چربا جاتے تھے ) ، اور دیگر تمام ضروریات جیسے کہ آلات، کیلیں، رسیاں، کوئلہ، تاریں، لوہا، کتوں کے بسکٹ وغیرہ۔

بھوسے کی ایک دھڑ اور آلو کی فصل کا ایک حصہ بیچا گیا، اور انڈوں کا معاہدہ بڑھا کر چھہ سو انڈے فی ہفتہ کر دیا گیا چنانچہ اس برس مرغیوں نے بمشکل اتنے انڈے سیہے کہ ان کی تعداد مناسب رہے۔ دسمبر میں خوراک کی راشننگ کی گئی، پھر دوبارہ فروری میں اسے مزید گھٹا دیا گیا اور تھانوں پہ لالٹینیں جلانے کی مناہی کر دی گئی تاکہ تیل بچایا جا سکے۔ مگر سؤر خوب آرام میں نظر آتے تھے اور حقیقت میں اگر کچھ بڑھا رہے تھے تو وہ وزن بڑھا رہے تھے۔

اس سیریز کے دیگر حصےجانور راج: کوئی بھی جانور زیادہ شراب نہیں پیئے گا!جانور راج: نئے ترانے اور اچانک مظاہرے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *