لوگ جائیں تو کہاں جائیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آئے روز اشیائے خورو نوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ بجلی، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ اسی طرح ہو رہا ہے جس سے کہنے کی حد تک نہیں عملی طور سے لوگوں کی زندگیاں اجیرن ہو گئی ہیں۔ ماہانہ بجٹ میں دو سے تین ہزار روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔ ذرائع آمدن محدود ہو گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں وہی ہیں جو پچھلے برس بڑھائی گئی تھیں اور اتنی بڑھائی گئیں کہ سر شرم سے جھک جائے لہٰذا اس وقت جب گرانی تمام حدیں پار کر چکی ہے وہ رو رہے ہیں اور بد دعائیں دے رہے ہیں۔ حکومت کے حمایتی اور اس کے کارکنان بھی رو رہے ہیں کہ انہیں یکسر نظر انداز کر دیا گیا ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے الٹا ان کو گھمبیر بنا دیا گیا جس سے حیات کانٹوں کی سیج بن گئی ہے!

کوئی کلیہ قاعدہ نہیں بس آئی ایم ایف کا حکم ہوتا ہے اس پر عمل درآمد ہو جاتا ہے۔ عوام کے کیا مسائل ہیں غریب لوگ کیسے محنت مشقت کر کے اپنا پیٹ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں یہ نہیں جانا جاتا۔ اب تو محنت مشقت کرنے کے ذرائع بھی کم پڑ گئے ہیں۔ بعض نجی اداروں کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو چار چار پانچ پانچ ماہ تک کی تنخواہ نہیں دے رہے پوچھو تو کہتے ہیں کہ معاشی حالات خراب ہیں انہیں آگے سے کچھ نہیں مل رہا یا پھر ان کی آمدنی بہت کم پڑ گئی ہے اور وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہیں کارکنوں کی تعداد کو کم کرنا پڑ رہا ہے۔

یوں بیروزگاری کا عفریت بھی خوف زدہ کر رہا ہے۔ تعلیم اور صحت کے میدان میں ہو کا عالم ہے ہسپتالوں میں دوائیں نہیں کل کوئی ٹیسٹ سو دو سو روپے میں ہوتا تھا تو اب ہزار میں ہوتا ہے۔ حکومت کہتی ہے اس نے صحت کارڈ جاری کیے ہیں یہ چند فیصد کے لیے ہیں دوسرے سفید پوش لوگ کہاں جائیں وہ تو انتہائی پریشان نظر آتے ہیں ان کے پاس مہنگے ٹیسٹوں اور دوائیوں کے لیے بھاری رقوم کہاں سے آئیں؟

اسی طرح ایک غریب آدمی اور سفید پوش بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتا ہے تو وہ کیسے یہ اخراجات برداشت کرے گا۔ اہم اور مخصوص درسگاہوں میں تو وہ قدم بھی نہیں رکھ سکتے اس طبقاتی تعلیمی نظام نے پورے معاشرے کو واضح طور سے تقسیم کر رکھا ہے ایک محکوم دوسرا حاکم!

حکومت کے عہدیداران مگر حوصلہ و تسلیاں دے رہے ہیں کہ بس جلد ہی حالات ٹھیک ہو جائیں گے فکر و تشویش کی کوئی بات نہیں ۔مگر عوام ان کی بات پر ایک فیصد یقین نہیں کر رہے کیونکہ وہ کپتان کے پچھلے بیانات، وعدے اور دعوے سامنے رکھتے ہیں تو انہیں بدگمانی آن گھیرتی ہے کہ انہوں نے کس طرح چیخ چیخ کر کہا کہ یہ نظام ٹھیک ہو جائے گا، سٹیٹس کو ختم کر دیا جائے گا اور انصاف عام اور سستا ملے گا مگر سب غلط ثابت ہوا۔ کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ صورت حال پہلے سے زیادہ ابتر ہو چکی ہے۔

صحیح معنوں میں لوگوں کی چیخیں نکل رہی ہیں مگر کپتان اپنی ضد پر بدستور قائم ہیں اور وزارت عظمیٰ کے خوب مزے لوٹ رہے ہیں چلئے اگر وہ خود کچھ کرنا چاہتے ہیں اور عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو کیوں اپنی بہتر ٹیم کی تشکیل نہیں کرتے جو دلجمعی سے عوام کی خدمت کرے۔ انہیں مان لینا چاہیے کہ وہ آئندہ برسوں میں بھی کوئی عوامی خدمت نہیں کر سکیں گے۔ انہیں آئی ایم ایف ایسے ادارے اور افراد مفت مشوروں سے نوازتے رہیں گے لہٰذا حالات ان عوام کے نہیں بدلیں گے اس کا مطلب یہ نہیں کہ بہتری نہیں ہو گی، ہو گی اس وقت جب عوامی حکومت قائم ہو گی اور اشرافیہ اختیارات سے محروم ہو جائے گی۔

اگر یہ حکمرانی کرتی رہتی ہے تو کوئی بھی ریلیف نہیں مل سکتا کیونکہ اشرافیہ عوام کو ہمیشہ سے دباتی چلی آئی ہے۔ ان کے مسائل کو بھی ختم نہیں کرتی اور اگر کرتی ہے تو چند ایک اتنے ہی نئے بھی پیدا کر دیتی ہے تا کہ حساب برابر رہے۔

لہٰذا ان حکومتی عہدیداروں کا جو کہنا ہے وہ درست نہیں یہ سب سیاسی باتیں ہیں اور وقت پاس کرنے کے لیے ہیں۔ اگر اس میں سچائی نہیں تو کیوں انتظامی امور پر توجہ نہیں دی جا رہی کہ جس سے عوام کو یقینی طور سے کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ مثال کے طور سے تھانہ کلچر کو انقلابی بنیادوں پر تبدیل کر دیا جاتا ہے تو نصف کے قریب عوامی مسائل کا خاتمہ ہوسکتا ہے

یہ گزارش میں کئی بار اپنے کالموں میں کر چکا ہوں مگر حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ہو سکتا ہے۔ ہم ایسے لکھنے والوں کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہ ہو جنہیں وہ سکہ بند اور مدبر تصور کرتے ہیں۔ ان کی ہی سن لیں وہ بھی اسی طرح کی گزارشات کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

بات وہی ہے حکمران طبقہ عوام کے لیے کچھ بہتر نہیں کرنا چاہتا بس اتنا ہی جتنا ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے۔ یہ حکمت عملی ایک نہ ایک روز انہیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔ رُت ایک جیسی نہیں رہتی بدل جاتی ہے آج اگر خزاں ہے تو کل بہار کو آنا ہے لہٰذا بحران پیدا کرنے اور اسے نہ روکنے والے اہل اقتدار و اختیار لمحوں کی آنچ کو پیش نظر رکھیں، انہیں حالات اس نہج پر لے آئیں گے کہ وہ چیخ چیخ کر کہیں گے کہ ان سے بہت کچھ غلط ہوا اب وہ اس کی معافی مانگتے ہیں مگر عوام کا غیظ و غضب انہیں نظر انداز کر دے گا۔

منزل کی جانب بڑھنے والاکارواں آگے بڑھ جائے گا لہٰذا آٹے کا بحران غریب عوام کو زندہ درگور کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے تو وہ متعلقین کو دعائیں بددعا دے رہے ہیں ۔ لوگ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ یہ سب ایک منصوبے کے تحت ہو رہا ہے انہیں ڈر ہے کہ ہمارے اوپر بھوک مستقلاً ہی مسلط نہ کر دی جائے اور جو مناظر ایتھوپیا کے دیکھنے کو ملتے تھے وہ ادھر بھی نہ ابھر جائیں۔

یہ محض عوام کا خوف اور قیاس ہو سکتا ہے ایسا نہیں ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ حکومت کہاں ہے بالخصوص صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے اس کے پاس دماغوں کی کمی ہے۔ نہیں ایسا نہیں ہے اسے شاید کا م لینا ہی نہیں آتا وہ اگر ہمت کرے اور حکمت عملی سے کام لے تو یقینا معاملات ٹھیک ہو سکتے ہیں مگر وہ ایسا نہیں سوچ رہی۔ شاید اسے اپنے غیر محفوظ ہونے کا اندیشہ ہے کہ ماہ دو ماہ بعد ”تبدیلی“ کا بگل بج جاتا ہے۔

اس کے اتحادی ناراض ہو جاتے ہیں اور وزارت اعلیٰ کی دلی خواہش کا اظہار بذریعہ اپنے دوستوں کے کراتے رہتے ہیں لہٰذا حکومت کی توجہ تقسیم ہو جاتی ہے اور وہ جوڑ توڑ کی سیاست میں مصروف ہو جاتی ہے اس طرح کیا مسائل حل ہو سکتے ہیں مگر یہ فیصلہ اب ہو جانا چاہیے پونے دو برس ہونے کو ہیں عوام ان کی آپس اور حزب اختلاف کی باہمی کشمکش سے سخت بد دل نظر آتے ہیں ان کو کوئی آسائش نہیں مل رہی ان کے لیے کوئی فلاحی منصوبہ شروع نہیں ہو سکا۔

اگر کچھ ہوا ہے تو وہ ہے استحصال جو اس قدر شدید ہے کہ لوگ توبہ توبہ کرر ہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ عمران خان صاحب! ہم نے آپ کو اس لیے اقتدار نہیں دلوایا کہ ہمارے بچے بھوک پیاس کی نذر ہو جائیں۔ ہماری سسکیاں اور آہیں بلند ہونے لگیں۔ ہم نے اس لیے بھی آپ کو اپنے کندھوں پر نہیں بٹھایا کہ کھوتے گھوڑے کی پہچان بھول جائیں اپنے کارکنوں کو فراموش کر دیں اور اقتدار کی ناؤ میں عوام بیزار لوگوں کو بٹھا لیں یہ اس ناؤ کو ڈبو دیں گے تب آپ کو عوام یاد آئیں گے مگر اس وقت منظر بدل چکا ہو گا۔ ۔ ۔ ؟

حرف آخر یہ کہ غربت افلاس اور نا انصافی روز بروز اکاس بیل کی مانند پھیلتی چلی جا رہی ہے مگر افسوس حکمران اسے مزید پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں اور انہوں نے جو احتساب کا نعرہ لگایا تھا کہ اس کے ذریعے حاصل کی گئی دولت کو عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال میں لایا جائے گا۔ وہ پورا نہیں ہوا لوگ جائیں تو کہاں جائیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *