سمارٹ زرداری، سب پہ بھاری؟ فیصلہ نواز شریف کریں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس وقت ہمارے ودیش منتری امریکہ میں ”SOS“ میسیج دیتے ہوئے امریکہ سے کہہ رہے تھے ”اب آپ ہمیں ایف اے ٹی ایف“ کی گرے لسٹ سے نکلوانے میں مدد کریں ”اور امریکہ کا صدر ڈیووس میں ہمارے پردھان منتری کو دوست کہہ کے“ مکھن لگا ”رہا تھا، اس کی“ اجتماعی سودا کار ایجنٹ ”ایلس ویلز سری لنکا اور انڈیا میں“ مشن اینٹی سی پیک ”کا ففٹی پرسنٹ کام مُکمل کر کے 4 دن کے لئے ڈیرے ڈالنے اسلام آباد آ چکی تھیں۔ لبنانی based یہ امریکن لیڈی ہی تو اس بارے سودا کرنے آئی ہے جس کے لئے شاہ محمود قریشی واشنگٹن میں چیخ و پکار کر رہے ہیں۔

ایلس ویلز ایک گھاگ امریکی لیڈی سفارت کار بتائی جاتی ہیں جو عربی، فارسی اور پشتو، حتیٰ کہ اردو بھی جانتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں اپنے حالیہ 4 روزہ پڑاؤ میں ایلس ویلز نے پاک انڈیا، پاکستان سری لنکا، پاک افغانستان اور پاکستان مڈل ایسٹ تعلقات کے حوالے سے واشنگٹن کے لئے رپورٹ مُرتّب کرنی ہے۔

ایلس ویلز کے اس تفصیلی دورے کا فوکس بالکل اسی طرح ”سی پیک“ ہے جس طرح امریکہ نے ”انڈو پیسفک“ کمان کو ”مشن سی پیک“ کے لئے متحرک کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایلس ویلز نے اپنے دورہ سری لنکا میں نئی سری لنکن حکومت کو چین کے ”ون روڈ، ون بیلٹ“ منصوبے سے پیچھے ہٹ جانے پر آمادہ کر لیا ہے جبکہ بھارت نے امریکی مندوب سے کہا ہے کہ جب تک پاکستان شامل نہیں ہوتا، انڈیا اور سری لنکا چین کی اُبھرتی معاشی طاقت و بالادستی کو روکنے میں کوئی کردار ادا کر پائیں گے نہ امریکہ کی کوئی مدد۔

پاکستان اور چین کے دفاعی معاہدے ہمارے لئے ایک بڑی رکاوٹ ہیں، پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھنے پر چین اس کی مدد کے لئے آگے آتا رہے گا، لہٰذا پہلے پاکستان کو ہمارے حق میں ”رام“ کریں، تبھی سری لنکا، انڈیا، افغانستان اور وسطی ایشیا چین مخالف امریکی اہداف کے حصول میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ادھر آصف زرداری نے موجودہ سیٹ اپ کے خلاف مولانا فضل الرحمن کی ”نیکسٹ move“ کے لئے اپنی حمایت اس بارے ”نُون ؍لیگ“ کے فیصلے تک ”ہولڈ“ کرلی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے ”بیمار“ قائد جو مولانا سے ملاقات کی خاطر چند گھنٹوں کے لئے ہسپتال میں داخل ہو گئے تھے، کے ساتھ اس ”خُفیہ“ ملاقات میں مولانا فضل الرحمن نے انہیں بتایا کہ وہ فروری میں موجودہ سیٹ اپ کے خلاف ایک فیصلہ کُن معرکہ لڑنے جا رہے ہیں اور درخواست کی کہ پیپلز پارٹی ان کی اس تحریک کو نتیجہ خیز بنانے میں حصہ ڈالے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گھاگ زرداری نے اس ضمن میں ابھی کوئی حامی بھری نہ انکار کیا ہے بلکہ مولانا سے کہا ”آپ پہلے نواز شریف کو چیک کر لیں“ جس پر دونوں منجھے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں میں طے پایا کہ مولانا فضل الرحمن عُمرہ کے بہانے سعُودی عرب جا کر نواز شریف کے نمائندوں سے ملاقات کریں گے اور پھر واپس آ کر دوبارہ آصف زرداری سے ملیں گے۔ ۔

دوسری طرف ذرائع کے مطابق نواز شریف اور شہباز شریف، دونوں میں سے کوئی بھی سعودی عرب نہیں جائے گا، بلکہ نواز شریف کے فیصلے پر مبنی ان کا پیغام حُسین نواز اور نواز شریف کی چند دوسری قابل اعتماد شخصیات کے ذریعے مولانا کو پہنچایا جائے گا، جنہیں حُسین نواز کے ہمراہ سعودی عرب بھیجا جائے گا جہاں حُسین نواز کا بزنس سیٹ اپ پہلے سے موجود ہے۔ ”عُمرہ“ ادا کرنے کی غرض سے وہاں پہلے سے موجود مولانافضل الرحمن سعودی عرب میں پُوری ”احتیاط“ اور رازداری کے ساتھ نواز شریف کے ”ایلجیوں“ سے سابق وزیراعظم کا پیغام وصول کریں گے اور تفصیلات طے کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *