افسانہ مرد
وہ ریلوے اسٹیشن پر بیٹھی نہ جانے کب کی ریل کی منتظر تھی۔ اس تھکا دینے والے انتظار نے اسے بے چین کر دیا تھا۔ اس کے مہندی لگے ہاتھوں میں لال چوڑیاں تھیں۔ وہ اپنا وقت ان کی کھنکھناہٹ کے ساتھ کاٹ رہی تھی. کبھی وہ انہیں گھوماتی اور کبھی گننے لگتی۔ وہ عجیب سی سرشاری کے عالم میں تھی۔ یوں لگ رہا تھا کہ وہ نئی نویلی دلہن ہے۔ اس کا چہرہ نقاب کے نیچے چھپا ہوا تھا مگر اس کی انگلیوں کی لرزشیں اس کے نقاب تلے چھپے ہونٹوں کی مسکراہٹوں کے راز ہر صاحب فکر کے آگے کھول رہی تھیں۔
دور سے ریل کی سیٹی کی آواز سنائی دی اس نے توجہ گاڑی کی طرف مرکوز کردی۔ وہ اپنے بینچ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
عدنان!
وہ کہاں گیا یہیں تو کھڑا تھا اس کے پاس، وہ صدمے کی کیفیت میں تھی۔ اس کے قدم اپنی جگہ پر جم چکے تھے اس کی کلائیوں کی چوڑیوں پر بھی خزاں کا موسم اترنے لگا تھا۔
ویسے ہی سناٹے جیسے کوئی پرندہ اپنے برسوں پرانے پیڑ میں بنے آشیانے کو چھوڑ کر جائے تو پیڑ چپ کی آواز میں ماتم کناں ہو جائے۔
وہ اسے آدھے راستے میں کیسے چھوڑ کے جا سکتا ہے؟ اس مرد کے لیے اس نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔ گاڑی کی سیٹی بج گئی تھی۔ ہر طرف عجیب شور مچا تھا۔ وہ بھیڑ میں شناسا چہرے کی متلاشی تھی جس نے اسے اگلی منزل طے کروانی تھی۔ اس کے اندر عجیب قسم کا کہرام مچ گیا تھا۔ شاید اس کے دل کے ٹوٹنے کی آواز تھی، مگر پہلو میں دھڑکتا ہوا جذبات سے لبریز دل تو نہ جانے کتنے برسوں کی وہ اس کے نام کر چکی تھی۔ وہاں تو تو محض ایک گوشت کا لوتھڑا موجود تھا جس نے اس کی روح کا تعلق اس دنیا کے ساتھ استوار رکھا ہوا تھا۔ اس نے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا اس کی دھڑکنیں رکنے والی تھی جیسے کوئی جوان جسم روح کے نکلنے کے وقت بے بسی کی آخری ہچکیاں لے رہا ہو۔
دل ٹوٹنے سے ایسی ہیبت ناک آواز نہیں آتی۔
مان ٹوٹا تھا، اس کی امیدیں، خواب سب کچھ مٹی ہو چکا تھا۔
اس کی دھڑکنوں میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اسٹیشن میں مچی گہما گہمی کی جگہ سناٹے نے لے لی تھی۔ صرف اس کی بے ترتیب خوفزدہ سانسوں کی آواز آ رہی تھی۔ وہ ادھ موہی ہو چکی تھی، جیسے جنم جنم کی پیاسی ہو صحرا میں ننگے پیر سالوں مشقتیں کاٹ کے آئی ہو چند گھنٹوں نے اسے صدیوں جتنا بوڑھا کر دیا تھا۔
وہ اپنی غلطی ڈھونڈ رہی تھی۔
کیا وجہ ہو سکتی ہے اس کے چھوڑ کے جانے کی؟ شاید عدنان کو لال رنگ پسند نہ ہو گا یا ہوسکتا ہے اسے چوڑیوں کی آواز ہی ناگوار گزر رہی ہو۔
مگر چوڑیاں اس نے خود اپنے ہاتھوں سے پہنائی تھی۔ شاید پہننے کے بعد اسے اندازہ ہوا ہو تو وہ اتنا شور کریں گی۔
عالیہ نے چوڑیوں کو نوچنا شروع کردیا۔ کانچ کی چوڑیوں نے اس کی کلائی کو زخمی کر دیا تھا۔ اس کی انگلیوں کی پوروں اور کلائی میں سے خون کے ننھے قطرے باہر جھانک رہے تھے۔ کھنکھناتی چوڑیاں اس کی سفاکیت کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکی تھیں۔ کلائیاں خالی ہوچکی تھیں۔ اس نے پھر سے چاروں طرف نظر دوڑائی۔
مجھے ایک بار بتا دو کیا چیز ہے جس نے تمہیں مجھے آدھے راستے پر چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ اس نے اپنے ہاتھوں پر لگی گہری مہندی کو گھورا۔
ضرور تمہاری خوشبو ہی اسے نا پسند آئی ہوگی۔ اس نے زمین پر پڑے پتھریلے کنکروں سے اپنے ہاتھوں کو رگڑنا شروع کر دیا۔ اس کے دونوں ہاتھ زخمی ہو چکے تھے، مگر اس مہندی کا رنگ چھوٹ نہیں رہا تھا۔
وہ دھاڑیں مار مار کے رو رہی تھی۔
میں آئندہ کبھی مہندی نہیں لگاؤں گی بس ایک بار واپس آ جاؤ۔ دلاسا دے جا وُتم آ جاؤ گے۔ میں تمہاری داسی بن کر اس بینچ پر ہی اپنی ساری زندگی گزار دوں گی۔ کوئی جھوٹی آس ہی لگا دو کہ کہ تم لوٹ آؤ گے۔
اس کے پاس سے گزرتا ہر انسان اسے پاگل سمجھ رہا تھا۔ وہ صدمے کی سی کیفیت میں ان کی آنکھوں کو گھور رہی تھی۔ مجھے تمہارا ترس نہیں میری محبت چاہیے مجھے میرا غرور چاہیے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔
پاس کھڑا ہوا ایک نوجوان لڑکا نہ جانے کب سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس کا چہرہ بھی بتا رہا تھا کہ گاڑی اس کی بھی چھوٹ چکی ہے، مگر غم کو برتنے کا بھی سب کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ اس نے اس کی نازک زخمی کلائی کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں تھاما۔ دور سے ٹرین کی سیٹی کی آواز آئی تھی۔ لڑکی حیرت میں مبتلا تھی۔
چلوگاڑی میں بیٹھو۔
مگر تم ہو کون ہو؟
ہم کہاں جارہے ہیں؟
میں تم پر یقین کیوں کرو ں میں تمہیں جانتی ہی نہیں۔
تم جاننے والے پر بھی یقین کر کے دیکھ چکی ہو اب ایک انجان پر بھی کر کے دیکھ لو، میں تمہیں کبھی مایوس نہیں کروں گا۔
شدتوں سے چاہے جانے کی آرزوئیں جب افسردگیوں کی شکل اختیار کر لیں تو وحشتوں سے چھٹکارے کا راستہ نہ معلوم منزل کی گاڑی میں بیٹھ کر ہی ملتا ہے۔ یہی موقع کی مناسبت سے ٹھیک فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ اسے سمجھا رہا تھا۔
عالیہ بے یقینی سے اس مرد کی طرف دیکھ رہی تھی۔
مگر تم میرے بارے میں اتنا کیسے جانتے ہو؟
لڑکے نے اس کی آنکھوں میں موجود تجسس کو بھانپ لیا تھا
محبت میں ٹھکرائے جانے والے تمام لوگوں کی کہانیاں تقریباً ایک جیسی ہی ہوتی ہیں۔
پچھلے اسٹیشن پر میری گاڑی بھی چھوٹ گئی تھی۔ اس نے خوبرو نوجوان لڑکے کی آنکھوں میں جھانکا اس کی آنکھوں میں آنسو کی جگہ اطمینان کی موجودگی چیخ چیخ کر اس کے مرد ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔


