خانیوال واقعہ اور غیر تربیت یافتہ پولیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب پولیس میں بھرتی غیر تربیت یافتہ اہلکاروں کے رویوں سے ہم سب پریشان ہیں، بطور صحافی یا عام شہری آئے روز پولیس کے متعلق کسی نہ کسی خبر سے ہمارا پالا پڑ ہی جاتا ہے۔ پولیس جس کو عمومی طور پر سرکاری وکیل کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جو قانون نافض کروانے میں اپنا اہم کردار ادا کرتی ہے۔ پولیس ہر لحاظ سے شہری کے جان ومال عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمے دار ہوتی ہے۔

لیکن خانیوال کے تھانہ مخدوم پورہ میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا جس نے پنجاب پولیس میں اعلٰی آفسر کے طور پر جانے جانا والی پولیس اہلکار کی تربیت کا پول کھول کر رکھ دیا۔ تھانے کا ایس ایچ او جس کو علاقے میں عوام کی جان ومال، عزت و آبرو کی حفاظت کا ضامن سمجھاجاتا ہے وہ ہی اگر سرے بازار عزتوں کو پامال کرتا پھرے تو پولیس کے لئے استعمال کیا جانے والا لفظ محافظ بھی انقریب ایک گالی ہی نہ بن جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ”ضلع خانیوال کے تھانہ مخدوم پورہ کے ایس ایچ او ظفر موہانہ نے ایک غریب محنت کش بس ہوسٹس کو ہراساں کیا اور مبینہ طور پر بیوہ ماں کے سامنے خاتون کو برہنہ ہونے اور محافظ سمجھے جانے والے بادشاہ سلامت کے سامنے ڈانس کرنے پر مجبور کیا گیا۔ پنجاب پولیس کا شیر دل جوان طاقت کے نشے میں چور ذرا بھی نہ گھبرایا اور کاغذ کی پرچیاں کو پیسے سمجھ کر اپنی تربیت پر نچھاور بھی کرتا رہا۔ “

دراصل یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سب بے ہودہ رویے کے پیچھے جو مائنڈ سیٹ اور تال میل ہے اسے سمجھے بغیر اصلاحات کا کوئی ایجنڈا پایہ تکمیل کو پہنچ نہیں سکتا۔

”جنوبی ایشائی ریاستوں خصوصاً بھارت، بنگلادیش اور پاکستان میں جدید ریاستی محکمے اور ادارے پولیس سمیت نو آبادیاتی آقاوں نے بنائے تھے کہ جس میں عوام کو سٹیزن (یعنی شہری یا باسی) کی بجائے محکوم یا رعایا سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ واقعہ۔ کے مطابق پولیس کا رویہ عوام کے ساتھ رعایا سے کم نظر نہیں آتا۔ “

لوگوں کو لاپتہ کرنا، ماورائے قانون قتل کرنا، عقوبت خانے چلانا، مخالفین کو جعلی کیسوں میں پھنسانا، انہیں غدار یا دہشت گرد قرار دلوانا جس ایک سو ( 100 ) سال سے طویل تاریخ ہے۔ اسی طرح کے سب ہربے ہمیں غیر تربیت یافتہ پولیس میں نظر آتے ہیں۔

پاکستان کو آزاد ہوئے 73 سال گزر گئے ہیں لیکن ہمارے ادارے پولیس جسے ادارے کو عوام کے لئے محفوظ ادارہ ثابت نہیں کر پائے۔ آج بھی تھانوں میں ایسے اہلکار کرسی پر برجمان ہیں جو اپنے آفسران بالا کو آنکھیں تک دکھا لیتے ہیں اسی طرح کا ایک واقع فیصل آباد کے تھانے سے میڈیا رپورٹس کے ذریعے سامنے آیا کہ ”محرر تھانہ نے مجاز ایس ایچ او کو معمولی تلخ کلامی پر سرکاری کرسی ہی دے ماری، “ جہاں پر پولیس کی اخلاقی تربیت تھانے میں ہی نہ نظر آئے تو وہ پولیس باہر عوام کا کیا حال کرتے ہوں گے اس کی ایک جھلک خانیوال کے تھانہ مخدوم پورہ کے ذریعے نظر آ گی ہے۔

دنیا بھر میں پولیس جسیے ادارے کو شہریوں کی جان و مال عزت و آبرو کو محفوظ کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ محافظ کا کردار ماں جیسا ہونا چاہیے۔ جب انسان ماں سے ہی خوف زدہ ہونے لگ جائے تو وہ پھر تباہی کے ہی دہانے پر جا پہنچتا ہے۔

تھانے میں موجود پولیس اہلکاروں کو ایسی تربیت دی جائے جس سے شہری تھانوں میں جا کر اہلکاروں کے سامنے اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں۔ اہلکاروں کے غیر تربیت یافتہ رویے کی وجہ سے آج بھی بہت سے شہری اپنے مسائل تھانوں میں حل کروانے سے ڈرتے ہیں جابرانہ رویے کی وجہ سے تھانوں کا سفر کو شہری سفر آخرت سمجھتے ہئں اور وہاں جانا پسند نہیں کرتے۔

عوام اہلکاروں کے ایسے رویے کی وجہ سے سمجھتی ہے یہ وہ ہی جنوبی ایشائی سوچ کی روایتی پولیس ہے، جو عوام کو کبھی سٹیزن نہیں سمجھتی تھی بلکہ محکوم اور رعایا سمجھتی تھی، اور رعایا کے ساتھ ایسا ہی رویہ رکھا جاتا ہے جو مخدوم پورہ کے ایس ایچ او نے اپنے عمل سے کر کے ثابت کر دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید اظہار باقر

سید اظہار باقر ترمذی نے انگیزی ادب کی تعلیم پائی ہے۔ سماجی مسائل پر بلاگ لکھتے ہیں ۔ ان سے سماجی رابطے کی ویپ سائٹ ٹوٹر پر @Izhaar_Tirmizi نیز https://www.facebook.com/stirmize پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

syed-izhar-baqir has 6 posts and counting.See all posts by syed-izhar-baqir

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *