میڈیکل کالج کی کہانیاں
اگلا دن بائیس جون کی تاریخ تھی۔ رمضان کے دن تھے، ہم سب سحر سویرے ہی کالج کے باہر جمع ہونے لگے۔ ادارے کے تمام دروازوں کو بند کر دیا گیا اور شرط رکھی گئی کہ جب تک ہماری شنوائی نہیں ہوتی یہ سلسلہ ایسے ہی برقرار رہے گا۔ یہ سال کا گرم اور طویل ترین دن تھا۔ سر چِٹخانے والی دھوپ تھی اور اس شدید دھوپ میں بھی طلباء و طالبات جَمے ہوئے تھے۔ پولیس کی نفری بھی تماشائیوں میں شامل تھی۔
قریباً ایک بجے کا وقت ہوا ہوگا۔ کالج کی کار پارکنگ میں سٹوڈنٹس اِدھر اُدھر بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ مرکزی دروازے کے سامنے جمع تھے۔ پولیس اہلکار بھی ساتھ ہی کھڑے تھے۔ اچانک کسی پر اسرار اشارے پر (جس کی ذمہ داری کسی نے نہیں لی) لاٹھی چارچ شروع کر دیا گیا۔ لاٹھی چارج بنیادی طور پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور اس میں کوشش کی جاتی ہے کہ کم سے کم جسمانی تشدد کیا جائے اور حساس اعضاء پر وار نہ کیا جائے۔ مگر وہاں ایسا نہیں ہوا۔ آہنی ڈنڈوں سے طلباء کے سروں کو نشانہ بنایا گیا۔ خواتین پر بھی تشدد کیا گیا۔ انہیں دھکے دیے گئے اور لاٹھیوں سے پیٹا گیا۔ کچھ طلباء نے جواب بھی دیا گیا جو کہ ان حالات میں بہترین تھا۔
اس کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ طلباء کی اکثریت کو گرفتار کر دیا گیا۔ اس سارے عمل میں مقامی سوسائٹی نے پولیس اہلکاروں کا خوب ساتھ دیا۔
کچھ ہی دیر میں معاملہ میڈیا کی زینت بنا اور خوب اچھالا گیا۔ سول سوسائٹی دیگر طلباء تنظیموں کے دباؤ کی وجہ سے رات گئے رہائی ملی۔ ہماری قمیصیں خون کے دھبوں سے رنگین تھیں۔ زخموں سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں لیکن جذبے بالکل توانا تھے۔ بہتر مستقبل کی امید کا دیا روشن تھا۔
اگلے دن اسے عزم اور ولولے کے ساتھ ہم پھر جمع تھے۔ قصہ مختصر ہمارے مطالبات کم و بیش منظور ہوئے۔ دونوں ساتھی طالبعلموں کو انصاف ملا اور نظام کی خامیاں کسی حد تک درست کی گئیں۔ اس دوران انتقامی کارروائیاں بھی کی گئیں مگر پھونکوں سے یہ چراغ کب بجھنے والے تھے۔
دوسرے سال میں ایک ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا، ہماری ایک ہم جماعت تھیں ردا صادق۔ بہت معصوم اور ہنس مکھ۔ ان پر اچانک فالج کا حملہ ہوا۔ بے چاری چلنے پھرنے اور بولنے تک سے قاصر ہو گئیں مگر بہت باہمت انسان تھیں۔ مختلف ورزشوں سے ان کی بحالی پر کام کیا گیا۔ کافی حد تک صحت مند ہو گئیں۔ دوبارہ کلاس میں آئیں تو بڑا گرم جوش استقبال ہوا مگر بدقسمتی سے ان پر پھر سے بیماری کا حملہ ہوا۔ تعلیم جاری نہ رکھ سکیں اور علاج کے واسطے بیرون ملک چلی گئیں۔ وہاں مزید تحقیق پر انکشاف ہوا کہ جھیل سیف الملوک کے سفر کے دوران ہچکولے کھاتے ہوئے ان کے سر پر جیپ کے ریلنگ کی چوٹ لگی۔ جو اس وقت تو قابل توجہ نہیں تھی مگر بعد میں اس سانحہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
تیسرا اور چوتھا سال نسبتا سکون سے گزر گیا، یو ایچ ایس کے ساتھ الحاق کے بعد انتظامی مسائل خاصے کم ہو گئے۔ اسپورٹس ویک بھی خوب پر لطف رہے مگر جوش و جذبہ مدہم ہوتا گیا۔ شاید عمر میں اضافے کی وجہ سے جذبوں پر سجنیدگی کی چادر چڑھ جاتی ہے۔ تیسرے سال کا سالانہ امتحان مشکل ترین تھا۔ تیاری کے لیے زیادہ وقت نہیں ملا مگر پروفیسر عارف صاحب کی کرم فرمائی سے نتیجہ مثبت آیا۔
ایک اختراح جو خالصتاً دو ہزار انیس کا کمال تھا وہ اپنے ہاؤس کا نام رکھنا تھا۔ پہلے پہل تو قدیم لاطینی یا یونانی جنگجووں کے نامانوس اور عجیب و غریب انگریزی نام رکھ دیے جاتے تھے مگر پھر ہم نے اپنا تعارف بطور ملنگ کروایا۔ یہ نام اتنا مقبول ہوا کہ ہماری پہچان بن گیا۔ اس کے بعد ہم دبنگ اور آخر پر ضارب بنے۔ پانچویں سال کی سب سے بڑی خوشخبری اچانک چمپین بننے کی خبر تھی۔ اس سال سب لوگوں نے یکجان ہو کر کوشش کی اور ہاؤس کے کپتانوں نے بھرپور محنت کی۔ بالاخر چار مسلسل سالوں کے بعد ملنگوں کو کامیابی کے تخت پر بیٹھا دیا گیا۔
پانچ سالوں کے خوشگوار واقعات میں اسپورٹس ویک کے علاوہ سب سے زیادہ پر لطف تفریحی دورے ہوتے تھے۔ پہلے سال ہماری کلاس کو مری لے جا کر ایسے بہلایا گیا جیسے روتے ہوئے بچے کے منہ میں لالی پاپ دے کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔ لڑکوں نے البتہ تقریباً پورے آزاد کشمیر اور لاہور کے یادگار دورے کیے۔ دوسرے سال میں ہمیں کیرن اور ناران لے جایا گیا۔ انتہائی خوشگوار ماحول میں دل چسپ وقت گزرا۔ رات کو آگ کے الاؤ کے گرد بیٹھ کر بے سرے گانے گنانا، شعر پڑھنا، ذو معنی سوال پوچھنا اور فضول گوئی کرنا جنت کا مزہ دیتا ہے۔
چوتھے سال میں ہمیں شمالی علاقہ جات لے جایا گیا، آٹھ دن کے اس دورے میں بے شمار خوبصورت جگہیں دیکھیں۔ گلگت بلتستان کے مہین مہین آنکھوں والے خوبصورت لوگوں کی مہمان نوازی اور خلوص سمیٹا اور آپس میں خوب خوش گپیاں کیں۔ اگر کسی طالبعلم کو ٹائم مشین میں بیٹھا کر ماضی میں دھکیل دیا جائے تو یقینا وہ ایسے ہی لمحے دوبارہ گزارنا چاہے گا۔
ان پانچ سالوں کا تذکرہ ان اساتذہ کو خراج تحسین پیش کیے بغیر ادھورا ہے جن کہ کاوشوں کی بدولت ہم نے یہ منازل طے کیں۔ پہلے دو سالوں میں پروفیسر غنچہ کی شفقت رہی، پروفیسر قاضی وحید، پروفیسر عنایت، پروفیسر زاہد عظیم، پروفیسر ایوب، پروفیسر فوزیہ سمیت کئی استاتذہ نے دلجمعی سے پڑھایا۔ تیسرے سال میں پروفیسر انوار صاحب جیسی عالمگیر شخصت کو سننے کا موقع ملا۔ عارف صاحب بہت محنتی استاد تھے۔ پروفیسر عنایت کا نام سن کر آج بھی طالبعلم تکریم سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پروفیسر منیر شیخ جیسا دلچسپ لیکچر شاید ہی کہیں سننے کو ملے، پروفیسر ہمایوں کے برجستہ مزاح، پروفیسر سروش سلہریا کا شفیق طبیعت ڈاکٹر ممتاز صاحب کا مخصوص پہاڑی لہجہ کون بھول سکتا ہے۔
چوتھے سال میں پروفیسر بشریٰ کا خوف چھایا رہا جس کی وجہ سے آفتھامالوجی کے مضمون پر سب کی خاص توجہ رہی۔ بریگیڈیر احمد خان کی ہر قسم کی صلاحیتوں کے سبھی معترف ریے۔ میجر سدرہ اور میجر شہزاد اپنے شعبوں میں ثانی نہیں رکھتے تھے۔ ڈاکٹر تہنیت کی نرم دلی اور پروفیسر عظمیٰ کا اولاد جیسا برتاؤ بے مثل تھا۔ پانچویں سال میں ڈاکٹر خالد نرم گو تھے، پروفیسر جاوید راٹھور کی مزاحیہ سرزنش، ڈاکٹر عدنان معراج کی مہارتیں، پروفیسر اعجاز صاحب کا رعب، پروفیسر شکیل فیض کی قہقہوں سے سجی گفتگو، پروفیسر متین اور طاہر عزیز کی پیشہ ور صلاحیتیں قابل تحسین ہیں۔
دوہزار انیس کا بیچ ہمہ جہت تھا۔ بے مثال شخصیات تھیں۔ ذہین اور قابل ساتھی تھے۔ کچھ ہنس مکھ خوبصورت چہرے تھے کچھ درویش صفت نوجوان تھے۔ کچھ ماہر اداکار تھے، کچھ سریلے گلوکار، کچھ رواں شاعر تھے کچھ بہترین قلم کار، کئی کمال کے مزاح گو تھے اور کئی کھیل کے میدان میں یکتا۔ کچھ سارا سال دلجمعی سے پڑھائی کرتے اور اکثر ہمارے ایسے دعاوں اور نقل کے سہارے پاس ہوتے رہے۔ کچھ دن بھر لائبریری میں کتابیں چھانتے اور کچھ دن بھر الو کی طرح سوئے رہتے اور رات کو چمگادڑوں کے ایسے آوارہ گردی کرتے۔ کچھ پھولوں کے ایسے نازک مزاج تھے اور کئی کی سونے جاگنے کا تعین سگریٹ کا پیک کرتا تھا۔ خیر یہ مختلف جگہوں اور طبقوں سے چنے گئے لوگوں کا ایک خوبصورت گلدستہ تھا۔
ہمارا ساتھ قابل فخر تھا اور ہمارے ساتھی باعث فخر۔ اسے ہماری پیش گوئی یا خوش گمانی سمجھ لیجیے مگر اب سے ایک دو عشروں بعد ہم میں سے ہی کچھ لوگ ایسا نام پیدا کریں گے کہ ہمارے ادارے کو ہم پر فخر ہو گا۔
اگر اب سے کچھ برسوں بعد یا زندگی کے آخری دن کاٹتے ہوئے اپ کے ہاتھ اس مجلے کا شمارہ لگ جائے اور اسے پڑھ آپ کی آنکھوں میں گزرے وقت کی فلم چلنے لگے اور آپ کی آنکھیں ڈبڈبا جائیں تو مسکرا دیجئے گا۔ آپ نے بہترین وقت گزارا تھا۔
رہے نام اللہ کا۔

