جہیز ڈھونڈتی اداس نسلیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ میں نے جب ہوش سنبھالا تو اماں کو دو بیٹیو ں کے جہیز کی تیاری کی فکر میں مبتلا پایا۔ میری اماں کی شادی نانا ابا کی اکلوتی بہن کے بیٹے سے قرار پائی تھی۔ نانا ابا اپنے لڑکپن میں کھیلتے ہوئے ایک بازو سے محروم ہو گئے تھے۔ بعد ازاں انتہائی محنت سے پڑھائی جاری رکھتے ہوئے واپڈا میں ملازم ہوئے۔ دس افراد کا کنبہ اور اس محدود آمدنی سے گزارہ کرنا ہر دور میں ہی جان جوکھوں کا کام ہوا کرتا ہے۔

مجازی خدا کی مالی معاونت کی خاطر نانی اماں سلائی کا کام کیا کرتیں اور دو بیٹیاں جب کام کرنے کے قابل ہوئیں تو انہوں نے بھی اپنے جہیز کے لیے ماں اور باپ کا ہاتھ بٹایا۔ یہ اسّی کی دہائی تھی۔ خالہ اور اماں دن بھر غالیچے بنایا کرتیں۔ یوں تنکا تنکا جوڑ کر بیٹیوں کا اسباب تیار کیا گیا۔ نانا ابا کی اپنی اکلوتی بہن سے محبت کا اظہار تھا یا بیٹی کی سہولت پیشِ نظر تھی۔ جہیز کی مد میں دو ٹرک بھر کر لائے گئے۔ دیکھنے والوں نے انگلیاں دانتوں تلے داب لیں۔ بات یہیں پہ ختم نہیں ہوئی۔ اس کے بعد اماں کے اوپر تلے کے چھے بچوں کی پیدائش پر مختلف تحائف دے کر سسرال میں بیٹی کی عز ت برقرار رکھنے کا سامان کیا جاتا رہا۔

ابھی پچھلی محنتوں کا اثر زائل نہ ہوا تھا کہ سسرال آنے کے ایک سال بعد اماں کے سسر یعنی میرے دادا کا انتقال ہو گیا۔ ابا کی کفالت میں دو جوان ہوتی بہنیں تھیں۔ ہماری دادی کی کوتاہ اندیشی تھی یا اللہ پر بھروسا، نانا ابا کے برعکس انہوں نے اپنے بیٹیوں کے لیے جہیز کے نام پر تنکا بھی جوڑ کے نہ رکھا تھا۔ ابا کی آمدنی محدود تھی اور کنبہ نو افراد پر مشتمل۔ بہنوں کی شادی کا ذکر چلا تو اماں نے اپنے مجازی خدا کا بازو بنتے ہوئے اپنے جہیز کے دو حصے کر کے دونوں نندوں میں بانٹ دیا۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ابا اپنے وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے چند جوڑوں میں بہنوں کے فرائض سے سبکدوش ہو جاتے۔ لیکن زمانے کو خوش کرنا بھی تو لازم ہوا کرتا ہے۔ اس کے لیے چاہے کسی عورت کے ماں باپ کی محنت کی کمائی کو یوں اڑا دیا جائے۔

زندگی پھر سے اپنے واقعات دہرا رہی ہے۔ آج ابا ہم میں نہیں ہیں۔ ان کی دو بہنوں کی جگہ ان کی دو بیٹیاں شادی کی عمر کو پہنچ چکی ہیَں۔ لیکن اماں کی جگہ وہ عورت ابھی نہیں آ سکی جو اپنا جہیز ہم دونوں میں بانٹ سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply