طاہرہ عبداللہ نے خلیل الرحمن قمر کو کیا سمجھانا چاہا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل ٹی وی کے ایک پروگرام میں ایک ہمارے معاشرے کے مقبول مصنف جناب خلیل الرحمان قمر صاحب نے عورتوں کے مساوی حقوق کی سوچ ( فیمنیزم) کی ایک خود ساختہ تعریف بنا کے پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سوچ 35، 36 عورتوں پہ مبنی ایک بلا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ میرا “جسم میری مرضی” سے مراد عورت کی صرف جنسی آزادی ہے۔

ان کی اس سوچ میں یہ بات واضح تھی کہ وہ صنفی مساوات کی سوچ کے حقیقی معنی سے بلکل نا آشنا ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ مرد اس معاشرے کی مظلوم مخلوق ہیں جو عورت کے لیے دہی لانے کا کام کرتے ہیں اور گالیاں کھاتے ہیں۔

اس سوچ کے حامل شخص یعنی خلیل الرحمان قمر کی مقبولیت سے یہ بات واضح ہے کہ ہم اُس معاشرے کا حصہ ہیں جہاں تحقیق سے پہلے ہی رائے قائم کر لی جاتی ہے جہاں ہم ہر بات کو، اُس کے حقیقی معنی سے بے نیاز ہو کر، اپنی سوچ کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں۔

خلیل صاحب کی اس سوچ کے جواب میں محترمہ طاہرہ عبداللّہ نے فمنیزم کی ایک مختصر تعریف دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک انقلابی سوچ ہے جو یہ سمجھتی ہے کہ عورت بھی ایک انسان ہے۔

اب ہمیں اس با ت کو سمجھنا چاہیے کہ عورت کو مساوی حقوق کی سوچ سے مراد یہ ہے کہ اُس کو اپنے طریقےسے جینے کا مکمل حق دیا جائے۔ اُن کو اُن کی زندگی کے ہر معاملے میں فیصلے کی مکمل آزادی ہو۔ اُن کے لیے معاشرے کا دوہرا معیار ختم کیا جائے۔ اُن کی اپنی شناخت ہو۔ اور مرد کی عزت کا ذمہ عورت کے کاندھوں پہ نہ ڈالا جائے۔

اس کے علاوہ عورت کو پرکھنے کا معیار اُس کی وفا، محبت اور اُس سے جڑے لوگوں کی عزت کے مفروضہ تحفظ پر مبنی نہیں ہونا چاہیے۔ اُس کا چلنا، اُٹھنا، بیٹھنا اور بات کرنا اُس کے اخلاقی کردار کی عکاسی نہ سمجھا جائے۔ اس پر اپنی سوچ، عقیدہ اور نظریہ مسلط نہ کیا جائے۔ اور نہ اُس کو اُس کے لئے بنائے گئے کسی بھی غیر فطری اصول کی پیروی کا پابند کیا جائے۔

عورت کا جسمانی طور پر کمزور ہونا اس بات کی عکاسی نہ سمجھا جائے کہ وہ عقل، صلاحیت اور رتبے میں مرد سے کمتر ہے۔ جسمانی خصائل کی بنیاد پر انسانوں کے حقوق کا تعین کرنا غلط ہے۔ عورت اعصابی طور پر مردوں سے کئی گنا زیادہ مضبوط ہے۔ بس دوسروں کی صلاحیت پرکھنے کے لئے ہمارا معیار غلط ہے۔

 اس کے علاوہ مرد کا عورت کی جسمانی نشوونما کے بدلے عورت کو اپنا ذہنی غلام بنا کے رکھنے کا پابند کرنا بھی ناانصافی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی مثبت تبدلی کے لئے ہر فرد کو، مرد و عورت کے فرق کے بغیر، سوچنے کی آزادی دینا لازم ہے۔ ورنہ معاشرے میں صنفی امتیاز کا سرطان پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

 ہمیں اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر ہر فرد کے لئے مساوی حقوق اور آزادی کی بات کرنی چاہیے۔ یہی جمہوری اور مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اسامہ شفیق کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *