تعلیم دشمنی کی حلال قدریں اور اسلامی جمعیت طلبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اعلی تعلیمی اداروں میں نئی نسل کے بالغ لوگ اس قابل بنائے جاتے ہیں کہ مختلف نظریات اور بیانیوں کو سن سکیں، پڑھ سکیں، اور اپنے ذہن کو استمال کر کے مکالمے اور مطالعے کے ذریعے ایک عقلی، عملی اور حقیقت پسندانہ انداز فکر اپنا سکیں نہ صرف یہ بلکہ ان کی اخلاقی تربیت کا اہتمام بھی ہو سکے مگر ملکِ خداداد میں مذہب کا لبادہ اوڑھے، سیاسی مقاصد کے لیے کام کرتی جماعتوں نے اس قوم کی علمی و فکری حدود کو یوں تاراج کیا ہے کہ فکر و فن موردِ دشنام، دلیل ذلیل اور تحقیق کا لفظ تقلید سے بدل دیا گیا ہے۔ اخلاقیات کا تو پوچھئے ہی مت۔

گزشتہ روز ( 23 اکتوبر 2020 ) گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز، لاہور میں انٹرمیڈیٹ کے سالانہ امتحانات کے لیے داخلہ فارم جمع کرنے کے لیے انگریزی کے استاد اور ڈپٹی رجسٹرار ندیم چوہان اپنے معاون عملے کے ساتھ مصروف کار تھے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان شاہ زیب، شہزاد اور آفاق نے رجسٹرار آفس میں اپنے من پسند طلبہ کے فارمز پہلے جمع کروانے کے لیے اصرار کیا۔ پروفیسر چوہان نے انکار کرتے ہوئے انہیں باقی طلبہ کے ساتھ قطار میں اپنی باری کا انتظار کرنے کو کہا۔

اس انکار پر کارکنان جمعیت کی ”غیرت ایمانی“ جوش میں آگئی کیونکہ وہ میرٹ اور برابری جیسی برائی کو ’دل میں برا گردانا‘ ایمان کا پست ترین درجہ سمجھتے ہیں لہذا ’ہاتھوں سے روکنے‘ کے لئے مزید خدائی فوجدار طلب کیے گئے اور استاد کو زخمی چھوڑ کر یہ غازی ”زندہ ہے جمعیت زندہ ہے“ کے نعرے لگاتے پوری سلطنت فتح کرنے پر تل گئے اور اگلا معرکہ پرنسپل آفس میں ہوا۔ جہاں پرنسپل پروفیسر اسلم پرویز، شعبہ انگریزی کے ڈاکٹر الطاف ملک اور نفسیات کے ڈاکٹر کاشف فراز سمیت دیگر اساتذہ سے ہاتھاپائی کی کوشش کی۔ پولیس کے آنے تک کریسنٹ ہوسٹل کے غیرقانونی مکینوں کی صورت مزید کمک پہنچ چکی تھی۔ یوں ڈی آئی جی آپریشنز کے دفتر اور کالج کے مرکزی گیٹ کی درمیانی روڈ پر تعلیم اور اخلاقیات کا لاشہ رکھ کر ”زندہ ہے جمعیت زندہ ہے“ کی صورت نوحہ خوانی شروع کر دی گئی۔

اسلامیہ کالج اور سائنس کالج وحدت روڈ جماعت اسلامی کے طلبہ ونگ، اسلامی جمعیت طلبہ کی سیاسی نرسریاں مانی جاتی ہیں۔ جہاں سے خدائی فوجداروں کی ایک پوری نسل تیار ہو کر جامعہ پنجاب اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سمیت دیگر سرکاری جامعات میں مودودی اسلام کے نفاذ کے لیے برسرِ پیکار ہے جن پر تعلیم اور اساتذہ کی تکریم حرام جبکہ تعلیم دشمنی کی ہر قدر حلال کر دی گئی ہے۔

جمعیت کی فتوحات کی تاریخ جتنی تاریک ہے اتنی ہی طویل بھی ہے۔ چلیے ہم 2003 میں القاعدہ کے رہنما خالد شیخ محمد کی جماعت اسلامی کی ایک رہنما کے گھر سے گرفتاری، جی ایچ کیو اور 2009 سری لنکن ٹیم پر حملے کے ماسٹر مائنڈ نیک محمد اور ڈاکٹر عثمان کی پناہ گاہوں کو پس پشت ڈال کر صرف تعلیمی اداروں میں ان کے کارہائے نمایاں کی بات کر لیتے ہیں۔

ہم 2009 میں یو ایس ایف کے کارکنان کو گولیاں مارنے، شعبہ فلسفہ کے طلباء پر حملہ کرنے، یوم علی پر شعیہ طلبہ پر ڈنڈے برسانے، شباب ملی کے ابرار وٹو کا اپنی ہی ذیلی تنظیم کے ناظم اویس عقیل کو قتل کرنے، صوبائی اور لسانی عناد کا بیج بو کر پشتون اور بلوچ ثقافتی میلوں پر پتھر برسانے، کالعدم تنظیموں کے سلیپر سیلز کو جامعہ میں پناہ دینے، مشعال خان کے قاتل حزب المجاہدین سے تربیت یافتہ، ناظم جمعیت عمران علی اور وجاہت اللہ کی پشت پناہی کرنے اور جامعات میں مسلح مذہبی شدت پسندی کے فلسفے کا پرچار کرنے پر بھی ایک آنکھ میچ لیتے کیونکہ یہ اس کو طلبہ تصادم سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ اک آدھ واقعہ کے علاوہ پہل ہمیشہ انہی کی طرف سے رہی ہے۔

اساتذہ کی بے توقیری کرنے میں بھی یہ سنہرے ماضی کے حامل ہیں اور یہ روایت ان کے اجداد سے چلی آ رہی ہے۔ ستر کی دہائی میں جمعیت کے عہدیداروں  نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر علاؤ الدین اور پھر وائس چانسلر ڈاکٹر اجمل کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

2010 تو ہمارے سامنے کی بات ہے اساتذہ کو پھول پیش کرنے کے دعویداروں نے شعبہ انوائرنمنٹل سائنسز کے استاد پروفیسر افتخار بلوچ کو پھول گملوں سمیت دے مارے۔ اس واقعہ کے صرف ایک دن پہلے جمعیت کے خیر خواہ مانے جانے والے شیخ زید اسلامک سنٹر کے سابق ڈائریکٹر کی تذلیل کی اور کپڑے اتارنے کی کوشش کی گئی۔ 2012 میں اپنے جماعتی بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے والے اویس عقیل کے حق میں احتجاج کرتے غنڈوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کے آفس میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

دسمبر 2013 میں یونیورسٹی لاء کالج کے استاد پروفیسر نعیم اللہ خان کو کارکنان جمعیت نے کینٹین پر مفت خوری سے روکنے پر تشدد کا نشانہ بنایا۔ اکتوبر 2014 میں ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی استاد عائشہ حکیم پر ہاکیوں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا گیا۔ فروری 2015 میں انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر سائنسز کے استاد ندیم شاد کو کارکنان جمعیت نے اغوا کر کے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اکتوبر 2018 میں وائس پریزیڈنٹ اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور کشمیریات کے استاد ڈاکٹر سردار اصغر اقبال پر صرف اس لیے تشدد کیا گیا کیونکہ انہوں نے جمعیت کے ورکرز کو ہوسئل کے واجبات ادا کرنے کے لیے کہا تھا۔ یہ صرف ایک جامعہ میں ہونے والے بے شمار واقعات میں سے چند ہیں۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ جمعیت کے حامی طلبہ، جماعت اسلامی کے سیاسی مقاصد کے فروغ کو بھی شعائر اسلام میں سے ایک تصور کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک مڈ ٹرم میں فیل شدہ طالب علم کے سینے پر جمعیت کا بیج دیکھ کر میں نے کہا یہ کیا کام کر رہے ہو میاں صاحب زادے؟ تو گویا ہوا ”سر جی ظلم کے خلاف لڑنا جہاد ہے ہاتھوں سے نہیں زبان سے تو برا کہنا چاہیے“ میں نے پوچھا ”وہ ادارے کا کون سا ظلم ہے جس کے خلاف آپ جہاد کر رہے ہیں؟

” کہنے لگا“ کچھ غیر حاضریوں اور فیل ہونے پر ساتھیوں کا ایڈمیشن روکا جا رہا ہے ”میں کہا کہ اس ظلم کا کیا جو آپ اپنے بوڑھے والدین کے ساتھ کر رہے ہو، آپ کو جہاد کے لیے بھیجا ہے یا پڑھنے کے لئے؟ خیر بعد میں پتہ چلا کہ وہ جی پی اے مینٹین نہ رکھ سکا اور ایکسپل کر دیا گیا۔ ایسے نجانے کتنے طلبہ کی زندگیوں اور والدین کی امیدوں کے ساتھ سیاسی مقاصد کے لیے کھلواڑ کیا جاتا ہے۔

در حقیقت یہ اسلام اور طلبہ حقوق کی کوئی جنگ نہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل کی قیمت پر 35 سالوں سے قائم اجارہ داری کی جنگ ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی لگتا ہے کہ جمعیت ہر جگہ فسادات کرکے یونین بحالی کی مخالف دلیل کو مضبوط بنا رہی ہے تاکہ یہ ون پارٹی شو جاری رہے۔ ان سارے معاملات میں حکومتیں خاموش تماشائی بنی رہی ہیں۔ مگر اب اساتذہ اور طلبہ کو حکومتی سطح پر معقول قانون سازی کے ساتھ طلبہ یونینز کی بحالی کے لئے آواز بلند کرنا ہوگی تاکہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ان شدت پسند گروہوں کی اجارہ داری اور بدمعاشی اپنے انجام کو پہنچے اور تعلیمی اداروں میں تعلیم دوست ماحول فروغ پائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *