نُون لیگ بچاؤ اور حکومت بچاؤ مشن: اگلے 48 گھنٹے اہم ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف نے جہاں رانا تنویر حسین، خواجہ آصف اور سردار ایاز صادق سمیت 3 اہم پارٹی رہنماؤں کو یکایک لندن طلب کیا ہے، وہیں ایک اور مرکزی مگر ناراض پارٹی لیڈر چوہدری نثار علی خاں کو بھی اہم مشاورت کے لئے بلا لیا ہے جنہوں نے خاموشی سے اسی ہفتے لندن کی پرواز کے لئے ٹکٹ لے لی ہے۔

قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (نواز) کے پارلیمانی لیڈر خواجہ محمد آصف، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین رانا تنویر حسین اور سابق سپیکر ایاز صادق جمعرات کو لندن کے لئے اڑان بھریں گے۔ قابل اعتماد ذرائع کے مطابق ”شریف برادران“ نے ایک عرصے سے ناراض پارٹی رہنما چوہدری نثار کو بھی اہم سیاسی مشاورتی عمل میں شامل کرنے کی غرض سے ہنگامی طور پر لندن طلب کیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ شریف فیملی کی طرف سے چند مرکزی پارٹی رہنماؤں کا یہ ہنگامی مشاورتی اجلاس طلب کیا جانا در اصل پارٹی کو بچانے کی کوششوں کا حصہ ہے، جسے پچھلے دنوں پارلیمنٹ سے آرمی چیف کی توسیع کی غرض سے قانون سازی کی غیر مشروط حمایت کرنے کے بعد سے شدید ٹوٹ پھوٹ اور سخت داخلی انتشار کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف نے پارٹی کے چند کلیدی رہنماؤں کا یہ ہنگامی اجلاس خواجہ آصف کی شکائت پر طلب کیا ہے جو پچھلے دنوں سابق وزیراعظم کی صاحبزادی اور پارٹی کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کے ساتھ شدید تلخ کلامی کے بعد سے دل برداشتہ ہو کر ”گھر بیٹھ گئے“ تھے۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز نے خواجہ آصف کو فون کر کے آرمی ترمیمی ایکٹ کے بل پر اعتماد میں نہ لئے جانے پر شدید احتجاج کیا اور خواجہ آصف کے خلاف نہایت سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا ”آپ تو اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ ہیں“ جس پر خواجہ آصف اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ انہوں نے پارٹی چھوڑ دینے تک پر سوچنا شروع کر دیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ خواجہ آصف نے نواز شریف سے مریم نواز کی شکائت کرتے ہوئے صاف کہہ دیا تھا ”یا تے ایس کڑی دا مکو ٹھپو یا فیر مینوں فارغ کردیو“

ادھر وزیراعظم عمران خان پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہٹانے کے لئے مقتدر قوتوں کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور ”کپتان“ کا ”وسیم اکرم پلس“ اب ان کے لئے liability یعنی ایک بوجھ بن گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا 26 جنوری کا ہنگامی دورہ لاہور نہایت اہم ہے جس میں وہ گورنر پنجاب اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے الگ الگ ملاقات کے علاوہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی، پنجاب اسمبلی میں بننے والے PTI اراکین کے پریشر گروپ میں شامل پارٹی کے ایم پی ایز اور اتّحادی جماعتوں کے اراکین اسمبلی سمیت کئی اہم اجلاسوں کی صدارت کریں گے جبکہ امکان ہے کہ وزیراعظم اپنے اس اہم دورہ لاہور میں چوہدری برادران سے بھی ملاقات کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے حوالے سے کوئی اہم فیصلہ سامنے آئے۔

باخبر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب سمیت 3 صوبوں میں ”پارلیمانی شورش“ پر قابو پانے کی غرض سے انٹیلی جنس بیورو کو اہم ٹاسک سونپ دیا ہے، اس سلسلے میں ضروری خفیہ سیاسی آپریشنز کی نگرانی براہ راست وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کریں گے۔ خیال ہے اس سلسلے میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کے روایتی طریقے بروئے کار لائے جائیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے بعد یکایک خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی جنم لینے والی ”پارلیمانی بغاوت“ اور تینوں صوبوں کی اسمبلیوں میں حکمران جماعت میں بن جانے والے پریشر گروپس میں شامل اراکین اسمبلی کے حوالے سے خفیہ ایجنسیوں کے معروف آپریشنز عمل میں لاتے ہوئے ان ”سرکش“ اراکین اسمبلی کو اب ایجنسیوں کے روایتی طریقے سے ”فکس آپ“ کیا جائے گا۔ ۔ ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں خصوصی ٹاسک کی براہ راست نگرانی ”انٹیلیجنس بیورو“ کے سابق ڈی جی، وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کے سپرد کیا گیا ہے

ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کو مقتدر حلقوں کی طرف سے مشورہ دیا گیا کہ وہ سیاسی مخالفین، بلیک میل کرنے کی کوشش کرنے والے ”سرکش“ اراکین اسمبلی اور ”سیاسی خود سری“ پر قابو پانے کی غرض سے سول سیکرٹ سروس ”آئی بی“ کو استعمال کریں جسے ماضی میں نہ صرف نواز شریف اور آصف زرداری بلکہ فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف بھی اہم سیاسی آپریشنز کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔

یہ تاثر عام ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے، احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی وڈیو کا سکینڈل سامنے لائے جانے کے بعد وزیراعظم ہاؤس نے سیاسی حریفوں، بالخصوص مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے ”سیاسی بندوبست“ کے لئے ایف آئی اے کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس پر ابھی تک عمل درآمد جاری ہے البتّہ ذرائع کے مطابق اب مقتدر قوتوں نے وزیراعظم کو قائل کیا کہ ایف آئی اے انٹیلیجنس ایجنسیوں کے مساوی صلاحیتوں کا حامل ادارہ نہیں، بلکہ یہ تو کرپٹ افسران سے بھرا پڑا ہے ”اس لئے بہتر ہے آپ آئی بی کو استعمال کریں جو اتنا مؤثر کردار رکھتا ہے کہ ماضی میں نہ صرف نواز شریف اور زرداری اسے استعمال کرتے رہے ہیں بلکہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف ہوتے ہوئے بھی آئی بی پر اعتماد کیا اور آپ کے وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کو اس کا سربراہ بنا کر اس سے بہت سے نتیجہ خیز آپریشن کروائے“

باخبر حلقوں نے بتایا ہے کہ وزیراعظم نے ”چوہدری برادران“ سمیت مرکز اور پنجاب میں اپنی اہم اتّحادی جماعت ”قاف لیگ“ کے حالیہ ”شور شرابے“ پر قابو پایا ہے ذرائع کے مطابق جن کا بڑا مسئلہ صرف اس معاہدے پر عملدرآمد کروانا بتایا جاتا ہے جس کی رو سے گجرات، منڈی بہاؤ الدین اور بہاولپور سمیت پنجاب کے 3 اضلاع میں انتظامی فصلے ”قاف لیگ“ کی قیادت کے ہاتھ میں رہیں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بابت اور پنجاب میں ”چوہدریوں“ کے رکے ہوئے کاموں کے حوالے سے پنجاب کی اعلیٰ بیورو کریسی کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کے ذریعے نہ صرف ”چوہدری برادران“ کو اس سلسلے میں مطلع کر دیا بلکہ ”مطمئن“ بھی کر دیا گیا ہے۔ ۔

دریں اثناء مولانا فضل الرحمن کو سیاسی طور پر ”مطمئن“ کرنے کی غرض سے بھی وزیر داخلہ کو اہم ٹاسک تفویض کیا گیا ہے، جو ایک بار پھر سے متحرک ہو کر اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ اہم رابطے آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *