بیڈروم میں کیمرا: روس نے کس طرح حکومت مخالف کارکن کی جاسوسی کی؟

سارہ رینس فورڈ - بی بی سی نیوز، ماسکو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

روس

BBC
انستاسیا شیوچینکو

روس میں حکومت مخالف کارکن انستاسیا شیوچینکو کو اپنے گھر میں نظر بندی کے ایک سال بعد معلوم ہوا کہ اتنے عرصے میں حکومت نے ان کے بیڈ روم میں جاسوسی کی غرض سے کیمرے لگائے ہوئے تھے جس نے ان پر مکمل طور پر نظر رکھی ہوئی تھی۔

تفتیش کاروں نے انستاسیا شیوچینکو کو جاسوس کیمرے سے بنائی ہوئی ویڈیوز بھی دکھائیں۔ اس کیمرے کی مدد سے کوشش کی گئی تھی کہ کسی طرح سے ان کے خلاف سیاسی مخالفت کرنے کے ثبوت جمع کیے جائیں۔

انستاسیا شیوچینکو کے خاندان والوں کے بھی فون ٹیپ کیے گئے تھے جس پر انھوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ حکام کی جانب سے ’انتہائی گری ہوئی حرکت‘ تھی۔

روس کے شہر روستوو میں رہائش پذیر 40 سالہ انستاسیا شیوچینکو پر اپنے گھر سے باہر کسی سے بھی بات کرنے پر پابندی عائد ہے اور وہ سارا وقت اپنے فلیٹ میں گزارتی ہیں۔

ان کی بیٹی ولادا نے کہا کہ ان کی والدہ کو گذشتہ سال تفتیش کاروں نے بتایا کہ ان کے اپارٹمنٹ میں جاسوسی کے آلات نصب ہیں جب انھوں نے انستاسیا شیوچینکو کو ان کے گھر میں ہونے والی تمام گفتگو کا ریکارڈ دکھایا۔

ولادا نے بی بی سی کو لکھتے ہوئے بتایا کہ ’تفتیش کاروں نے انھیں ان کی تصاویر دکھائیں جس پر انھیں معلوم ہوا کہ ان کی تو ویڈیو بھی بنائی جا رہی ہے۔ ان کو دیکھ کر ہمیں اندازہ ہوا کہ کیمرا ان کے بستر کے سامنے نصب ایئر کنڈیشن میں لگا ہوا ہے۔‘

ولادا اپنے خاندان سے ساتھ گزرنے والے واقعات پر بلاگ لکھتی ہیں اور انھوں نے فیس بک پر پیغام میں لکھا کہ ’یہ انکشاف ان کے خاندان کے لیے نہایت شرمناک تھا۔‘

انستاسیا شیوچینکو کی والدہ تمارا گریازنووا جو اپنی بیٹی کے ہمراہ رہتی ہیں انھوں نے بھی کہا کہ وہ اس انکشاف سے بہت پریشان ہیں۔

روس

BBC
تمارا گریازنووا

بی بی سی کو انھوں نے بتایا ’ان میں سے کئی ویڈیوز میں وہ صرف اپنے زیر جامے میں تھیں، ان کے بچوں کی بھی ویڈیوز بنائی گئیں، یہ سب بہت ہی تکلیف دہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے خاندان کی تمام گفتگو کے ریکارڈ تھے اور اب تفتیش کار ان سے تصدیق کر رہے ہیں کہ کیا یہ سب اصل ہے یا نہیں۔ ’ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ وہ اتنے گر جائیں گے۔‘

انستاسیا شیوچینکو کے خاندانی وکیل سرگئی بدماشن نے تصدیق کی کہ مقامی عدالت کی اجازت سے ان کے گھر 2018 کے آخری چند ماہ کے دوران جاسوسی کا سامان نصب کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ ان کے گھر کے باہر بھی پولیس کی مسلسل موجودگی ہوتی ہے۔

انستاسیا شیوچینکو پر ’ناپسندیدہ تنظیم‘ سے تعلق رکھنے کا الزام ہے جس میں کہا گیا کہ وہ روسی حکومت کے سخت مخالف اور ماضی میں کاروبار کرنے والے میخائل خودورکوسکی کے گروہ سے منسلک ہیں۔

روس

Getty Images
گذشتہ سال روس میں انستاسیا شیوچینکو کی نظر بندی کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا

انستاسیا شیوچینکو کے وکیل سرگئی بدماشن نے کہا کہ ان کی موکلہ کے خلاف کیا گیا آپریشن بے مقصد تھا۔

مگر انستاسیا شیوچینکو کے گھر والوں کو سب سے زیادہ تشویش ان کے نجی معاملات کی جاسوسی سے تھی۔

’وہ کیمرا گھر کی میز پر بھی لگا سکتے تھے مگر انھوں نے ان کے بیڈروم میں لگایا۔‘

انستاسیا شیوچینکو اور ان کے گھر والوں نے اپنا اپارٹمنٹ اب تبدیل کر لیا ہے لیکن ان کی والدہ تمارا گریازنووا کہتی ہیں کہ وہ سب اب بے چینی کی زندگی گزارتے ہیں۔

’اب تو ہمیں ہر وقت لگتا ہے کہ شاید کہیں پر کوئی کیمرا ہے۔ انھوں نے پچھلی بار بھی جاسوسی کا سامان لگا لیا تھا، تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ اس بار نہیں لگائیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12322 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp