راجہ کے گھر موتیوں کا کال ؟

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پنجاب میں اکثریت کاشتکار ہیں۔ ہاڑی ساونی، گندم کی فصل سنبھالی جاتی ہے۔ چھوٹے کاشتکاروں کے ہاں بھی بھڑولے ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ پہ جہیز کا ایک اہم جز، اٹی، مٹی اور پیٹی کا سیٹ ہوتا ہے، جس میں سے دو اول الذکر اشیا، بالترتیب گندم اور آٹا رکھنے کے کام آتی ہیں۔

ہڑپہ اور موئن جو دڑو کے کھنڈرات سے بھی ایسے آثار ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خطے کے باسی صدیوں پہلے بھی نہ صرف پورے سال کے لیے گندم ذخیرہ کر کے رکھتے تھے بلکہ اسی گندم سے اگلے سال کی گندم بھی بوتے تھے۔

آج بھی ایک عام ذہن کا مزارعہ یا کھیت مزدور بھی جانتا ہے کہ اس کے گھر میں کتنے افراد ہیں، کتنے مہمان آ سکتے ہیں اور سال بھر کے لیے کتنا اناج کافی ہو گا۔

ذرا بڑے کاشتکار، اپنے ملازموں اور کاموں کو نقد تنخواہ کے ساتھ سال بھر کے دانے بھی دیتے ہیں۔ کچھ لوگ جیسا کہ نائی، جولاہے، میراثی وغیرہ فقط دانے لیتے ہیں اور اس اجرت کو ’سیپی‘ کہا جاتا ہے۔

کسی بھی دیہاتی گھر میں سال بھر کے لیے وافر گندم ذخیرہ ہوتی ہے۔ سالن، سبزی کا تکلف کم ہی کیا جاتا ہے۔ اصل ذائقہ اس سنہری، سوندھی، سانولی، شیر گرم روٹی میں ہوتا ہے جو چنگیر میں رکھی ہو تو یوں دمکتی ہے جیسے سونے کی تھالی۔ یہ مثال غلط ہے، سونے کی تھالی کس کام کی ؟ سونا کون کھا سکتا ہے؟ گندم کی روٹی کا حسن بے مثال ہے اور ایسا حسن دنیا کی کسی شے میں نہیں۔

مگر صاحبو! ایک سانحہ ہو گیا ۔ ہماری چنگیر سے کوئی ہماری روٹی لے اڑا۔ یہ کون ہے؟ کام کا نہ کاج کا، دشمن اناج کا!

جیسا کہ میں نے عرض کیا دیہاتوں میں اور کچھ ہو نہ ہو سال بھر کے دانے ضرور سنبھال لیے جاتے ہیں اور یہ دانے سنبھالنا کوئی آسان نہیں ہوتا۔ کوئی ایک دشمن ہے؟ چوہوں کو خبر مل جائے تو دانہ دانہ کر کے سارا بھنڈار صاف کر جاتے ہیں۔

پانی پڑ جائے تو ساری گندم کالی ہو جاتی ہے ۔ پھر سب سے بڑھ کر گندم نقدی کی ہی ایک شکل ہے۔ کسی گھر میں چور،آوارہ ، نشئی ہو تو ایک ایک پڑوپی کر کے ساری گندم بیچ کھاتا ہے۔ دیہات کے سماجی نظام میں ایسے شخص کو ’ کپوت‘ سمجھا جاتا ہے اور یہ بات کسی گالی سے کم نہیں کہ فلاں شخص تو گھر کے دانے بھی بیچ کر کھا گیا۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے ، یہ بات تو ہم سب مطالعہ پاکستان میں پڑھتے ہی آئے ہیں۔ یہ بھی سب ہی معلوم ہے کہ پاکستان کم سے کم گندم کی پیداوار میں خود کفیل ہے۔ پھر یہ کیا ہوا کہ ہمارے ملک میں گندم کا توڑا پڑ گیا؟

کسی کو قحط بنگال یاد ہے؟

ہندوستان جو سونے کی چڑیا کی طرح یورپی تاجروں کو للچاتا تھا ایک روز وہی ہندوستان اپنے بچوں کو روٹی نہ کھلا سکتا تھا اور بھوکے ماں باپ ایک ایک نوالے کے لیے اپنے بچوں کو فروخت کرنے پہ مجبور تھے۔ جو بک نہیں سکتے تھے وہ دریائے ہگلی میں ڈوب کے مر جاتے تھے۔ ہندوستان کی دو ہزار سالہ تاریخ میں انگریز کے آنے سے پہلے فقط سترہ بار قحط پڑا مگر انگریز کے ایک سو بیس سالہ دور میں چونتیس بار قحط پڑا۔

جب تک ہندوستان پہ مغل حکومت رہی لگان پندرہ سے بیس فی صد رہا۔ معاہدہ الہ آباد کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی لگان یا ٹیکس وصول کرنے لگی تو یہ بڑھ کر پچاس فی صد ہو گیا۔ قحط کے دنوں میں اسے بڑھا کر ساٹھ فی صد کر دیا گیا۔

کون نہیں جانتا کہ قحط بنگال جس میں لاکھوں انسان مر گئے، چرچل کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ تھا؟ جب اسے قحط کی صورت حال بتائی جاتی تھی تو وہ کہتا تھا مجھے ہندوستانیوں سے نفرت ہے یہ خرگوشوں کی طرح بچے پیدا کرتے ہیں۔ لاکھوں لوگوں کا خون اسی کی گردن پہ رہے گا۔ حکمرانی آسان نہیں۔ تاریخ آج نہیں تو کل ایک ایک جان کا حساب لینے آ کھڑی ہوتی ہے۔

قحط کب پڑتا ہے؟

موسمی تغیر و تبدل سے جب خوراک پیدا نہ کی جا سکے یا تب ، جب دھرتی کے بیٹوں کے لیے پیدا کیا گیا اناج، چند ٹکوں کے عوض دساور کو بیچ دیا جائے۔ بنگال کا قحط بھی اسی لیے پڑا تھا۔

آٹا

Getty Images

میری دیہاتی دانش میں اس وقت سب کچھ ٹھیک ہوتا ہے جب نہ صرف میرے گھر کے بھڑولے بھرے ہوئے ہیں بلکہ پڑوسی کی کوٹھی میں بھی وافر گندم موجود ہو۔ جانے اب کون لوگ کاشتکار بن بیٹھے ہیں کہ اپنے اکاونٹ بھرنے کے لیے بنا حساب کتاب ، ملک کی گندم درآمد کر دی، بھڑولے خالی کر دیے اور غریب کے منہ سے روٹی تک چھین لی۔ ایسا تو کوئی موٹی عقل کا دیہاتی بھی نہیں کرتا اور جو کرتا ہے اس کے لیے پنجابی میں بہت برا لفظ ہے ( یوسفی صاحب سے معذرت کے ساتھ )

اب ماجرا یہ ہے کہ ملک میں گندم کی قلت ہے اس کا ذمہ دار کون ہے بہت سے لوگوں کو معلوم ہے اور جو یہ بات نام لے کر کہتا ہے اس پہ ہتک عزت کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ گندم کی قلت کی طرف اشارہ کرنے پہ طنز کے طور پہ کسی کے گھر گندم بھجوا دی جاتی ہے تو مجھے چرچل یاد آ جاتا ہے جس نے بنگال کی اموات کا سن کر طنز کیا تھا کہ اگر ہندوستان چاول کی کمی کا شکار ہے تو ابھی تک گاندھی کیوں نہیں مرا؟

بڑے بتایا کرتے تھے کہ جب امریکہ نے پاکستان کو گندم بھجوائی اور بشیر ساربان،کی اپنے اونٹ کے گلے میں ’تھینک یو امریکہ‘ کی تختی ڈالے تصویر چھپی تو ایک بزرگ خاتون بہت ناراض ہوئیں اور کہنے لگی، ’ہمارے پاکستان میں گندم کی کمی؟ بد بخت امریکیوں کی چال ہو گی، یہ تو وہی بات ہو گئی کہ راجہ کے گھر میں موتیوں کا کال۔‘

بھڑولے خالی ہیں، چکیاں بند ہیں، روٹی ہلکی پکائی جا رہی ہے، نان بائی ہڑتال پہ ہیں۔ حکومت منکر ہے کہ کوئی بھی قلت نہیں یہ ایک مافیا ہے جو مصنوعی گرانی پیدا کر رہی ہے۔

حضور، بجا فرمایا، ہم بھی یہ ہی عرض کر رہے ہیں کہ یہ ایک مافیا ہے ۔ مگر اس مافیا کو پکڑے گا کون ؟ راجہ کے گھر موتیوں کا کال پڑے گا تو ذمہ دار چور ہی ہو گا۔ چور کو پکڑیں، چور چور چلانے والوں کو معاف کر دیں۔ عرض یہ ہے کہ ہر چیز برائے فروخت نہیں ہوتی۔ ہر قسم کا کاروبار کر لیجیے، ہر شے بیچ لیجیے مگر ہمارے بھڑولوں سے گندم نہ بیچیے۔ دیہات کا ہی ایک محاورہ ہے، ’” بھوکا بٹیر جم کے لڑتا ہے۔‘

نہ یہ پچھلی صدی ہے ، نہ آپ ونسٹن چرچل ہیں اور نہ ہی یہ بنگال ہے۔

یہ پاکستان ہے اور پاکستانی بھوک کے بہت کچے ہوتے ہیں شتر کینہ رکھتے ہیں۔ غصہ آ جائے تو اپنے مربی کی ہڈیاں تک چبا جاتے ہیں۔

تھوڑے کہے کو بہت جانیے اور گندم کے بارے میں اپنی پالیسی درست کر لیجیے۔ روٹی کے بارے میں یہ بھونڈے مذاق بند کیجیے کہ دو کی جگہ ایک روٹی کھا لیجیے اور نومبر دسمبر میں لوگ روٹی زیادہ کھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

جناب والا ! آپ لوگ وزرا ہیں مسخرے نہیں۔ جگتیں لگانا چھوڑیے، حکومت کرنا سیکھیے۔ آپ کی بڑی مہربانی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •