میرے پاس ’تم‘ ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مدتوں بعد ایک ایسا ٹی وی ڈرامہ دیکھنے کو ملا کہ جس کے چرچے گھروں میں ’دفاتر میں اور بازاروں میں ہوئے۔ اس ڈرامے کے کئی ڈائیلاگ تو ضربِ مثل کی صورت مارکیٹ میں استعمال ہوتے رہے۔ ہمارے وزیروں اور مشیروں نے بھی سکھ کا سانس لیا ہو گا کہ توپوں کا رُخ کچھ دیر کے لئے ان سے ہٹ جاتا ہے۔

لیکن عین اس قوم کے مزاج کے مطابق جیسے جیسے ڈرامے نے مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھنی شروع کیں ’ویسے ویسے ناقدین نے بھی کمر کسنی شروع کر دی۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ یہ ڈرامہ ایک انگریزی فلم کا چربہ ہے تو بھائی صاحب فلم تو آپ نے دیکھ ہی رکھی تھی کچھ ایسا‘ چربہ ’آپ بھی کرلیتے اور ناصرف کروڑوں کماتے بلکہ کروڑوں دلوں کی دھڑکنوں میں کھنکتے۔

کہانی کے پیچھے خلیل الرحمان قمر نے جو مدعا بیان کرنا چاہا وہ قابلِ ستائش ہے اور لائقِ تحسین ہے۔ پیسے کی ہوس اور پیسے کا غرور یہ دونوں مہلک امراض ہماری معاشرتی اقدار کو کھوکھلا کر رہے ہیں اور جانے انجانے میں معاشرے میں اپنی ’ناک‘ اونچی رکھنے کے چکر میں ہم ناک ہی ڈبو بیٹھتے ہیں۔ بہت آسان پیرائے میں ڈرامہ نگاری کر کے بات سمجھانے کی کوشش کی گئی لیکن ایسے سیدھے جملے اور معاشرتی سوچ پہ براہِ راست وار اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہوں گے۔

رہی سہی کسر ڈرامے کے رائیٹر کو مختلف ٹی وی شوز میں بلا کر ان کے نقطہ نظر کی تشریح نے پورا کر دیا۔ چاہے وہ ’دوٹکے‘ والا ڈائیلاگ ہو یا ’بے وفائی کی سزا‘ کا تعین۔ ننھے بچے میں دادا کا پرتو ہو یا پہلی بیگم کی اناء کی تسکین۔ سب کے ساتھ ڈرامے نے پورا پورا انصاف کیا۔ خلیل الرحمان قمر نے اپنے قلم سے جاندار جملے اور نہایت شاندار شاعری ترتیب دی اور خیال کی نہج بتاتی ہے آمد یا تخلیق میں کرب کا عنصر غالب تھا۔

ابھی اس قوم کے کرتا دھرتوں کو سیکھنے میں وقت لگے گا کہ مفروضے ’حقائق اور عملی زندگی میں پیش آنے والے واقعات و مشاہدات سیکھنے کے لئے ہوتے ہیں نا کہ ان کو اپنے اوپر ذاتی حملہ تصور کیا جائے۔ ایک بات ہے آپ کو پسند بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی آپ اس کے مقابلے میں دلیل لے آئیے لیکن خدارا مثبت بحث اور تعمیری تنقید کو معاشرے کی اصلاح اور بہتری تک ہی رہنے دیں‘ ایسے فتوے نہ لگائیں کہ راہ چلتے ہوئے بھی آنکھیں چرانی پڑیں۔ یقین جانئے آپ ’مفتی‘ نہیں ہیں آپ قیمتی ہیں۔

ایک کردار کے لئے لوگوں کی نم آنکھیں بتاتی ہیں کہ آج بھی سچے اور سُچے جذبے کی کمی نہیں ہے ’دل میں درد کی اُٹھتی لے بتاتی ہے کہ انسانیت ابھی کلی طور پہ اس معاشرے سے ناپید نہیں ہوئی‘ بے وفائی پہ افسوس یہ بتاتا ہے کہ وفا شعاری ابھی عنقا نہیں ہوئی۔ یہ ایک پیغام ہے ہم سب کے لئے کہ ہمیں کیسے اپنی اقدار کی حفاظت اور نمو کرنی ہے اور ذہنوں کو جلا کیسے بخشنی ہے۔

شکریہ۔ شکریہ ندیم بیگ صاحب ’شکریہ جاندار اداکاری کرنے والی ٹیم‘ شکریہ تکنیکی شعبے سے وابستہ تمام احباب اور صد شکریہ میر خلیل الرحمان قمر صاحب اس ڈرامے کے لئے بھی اور اس کے بہترین شاعری کے لئے بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *