مارکیٹیں 7 بجے بند کرنے پر کراچی والے کیا کہتے ہیں



\"rabia کثیر النسلی، کثیر اللسانی اور کثیر الثقافتی بین الاقوامی شہر \”کراچی\” بحیرہ عرب کے ساتھ پھیلا وسیع وعریض میگا سٹی ہے، طویل عرصے تک پاکستان کا معاشی مرکز کہلائے جانے والے کراچی میں حالیہ برسوں کے دوران ڈکیتیوں، اغوا برائے تاوان، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، رشوت ستانی، اور قتل وغارت گری عروج پر پہنچ گئی، آئے دن \”کراچی بند\” نے اقتصادی صورت حال خراب کر دی اور عوام کی حالت پتلی ہوتی چلی گئی۔

یہاں کے تاجر اور صنعتکار محتاط انداز میں اچھے وقت کی مثبت امید لگائے بیٹھے ہیں، سرمایہ کاری کرتے ہیں، اور غیر ملکیوں کو اپنے کاروبار کی جانب متوجہ کر کے کراچی میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دیتے ہیں، یہاں دن روشن اور راتیں جاگتی ہیں۔

لیکن کراچی کو سونے کا انڈا دینے والی مرغی سمجھ کر اسے ذبح کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ہر آنے والی حکومت یا برسراقتدار آنے والا شخص \”کراچی\” کو اپنی جاگیر سمجھتا ہے، لوٹ کھسوٹ کرکے چلتا بنتا ہے، دوسروں پر الزامات کی بوچھاڑ کرتاہے اور اپنا دامن صاف۔

کسی اک کو مورد الزام ٹھہرانا، کسی بھی پارٹی یا شخص کا نام لینا مناسب نہیں۔ کوئی دودھ کا دُھلا ہو تو ذکر بھی کریں۔ کراچی میں برطانوی دور کا ٹرام سسٹم ختم کرکے گرین لائن بسیں چلانے کا منصوبہ آج تک نجانے کن فائلوں میں بند ہے؟ باوا آدم یا قائد اعظم کے زمانے کی کچھ بسیں ہیں، جن میں بیٹھ کر کلمہ شہادت ہی یاد آتا ہے، رہی سہی کسر بسوں میں گھس کر ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتیوں نے پوری کردی ہے۔ سڑکیں ہیں یا شاید نہیں، نہ ہونے کے برابر ہی تصور کر لیں، غلطی سے 3-4 سال قبل جو پُل بنے تھے، اُن کی تختیوں پر اب بھی اپنے نام لکھنے کی لڑائی جاری ہے اور پُلوں سڑکوں کی حالت ناگفتہ بہ، اب گرے کہ تب، ناقص میٹریل کےاستعمال کے باعث کئی ایک میں گہرے گڑھے پڑ گئے ہیں، ایک عمدہ مثال شیر شاہ پل کی ہے جو بوقت تعمیر ہی زمین بوس ہوگیا تھا۔ بس اب تو اللہ واسطے زندگی گزر رہی ہے۔

ایک ہزار 360 مربع میل پر پھیلے کراچی میں لوگوں کو ذریعہ معاش کے لیے کئی کئی گھنٹوں کا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ صبح ناشتہ کرو یا نہیں، لیکن بس اسٹاپ پر وقت سے پہنچنا ہے ورنہ بس نکل گئی تو دو وقت کی روٹی نہ مل سکے گی۔ کسی کے دفتری اوقات 8 گھنٹے ہیں تو کسی کے 12 سے 14 پھر وہی بس کے دھکےاور انتظار، ایسے میں رات ہو ہی جاتی ہے۔

کوئی دکان چلاتا ہے تو کوئی ٹھیلہ لگاتا ہے، کوئی محنت مزدوری کرتا ہے۔ مشکل تو ان کے لیے بھی ہے جو ریڑھی لے کر گھروں سے نکلتے ہیں۔ وقت سے مطلوبہ مقام پر پہنچنا، رات گئے تک کھڑے رہ کر بازار کی رونق بحال ہونے کا انتظار، کاروبار ہونے، دہاڑی لگنے کا انتظار اور وہی تھکاوٹ۔۔

اسی طرح واپس گھر پہنچتے ہوئے 12 سے دو تو بج ہی جاتے ہیں۔ سوشل لائف تو کیا ہوگی، کسی کی خوشی غمی میں شریک ہوجائیں بڑی بات ہے، لین دین کے لیے شاپنگ کرنا ضروری ہے۔ اب اگر مارکیٹیں شام 7 بجے بند ہوجائیں گی تو کمانے والا کمائے گا کیسے؟ اور ضرورت والا ڈھونڈے گا کیسے؟

پہلے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے مارکیٹیں 10 بجے بند کرائیں تو تاجر وصنعتکار حتیٰ کہ عوام کو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کیا لیکن سب لاحاصل۔ بھئی یہ کراچی ہے، پاکستان کا سب سے بڑا شہر۔ صنعتی، تجارتی، تعلیمی، مواصلاتی و اقتصادی مرکز۔ اس شہر کے تو صرف ٹاونز ہی 18 ہیں۔ جب کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کراچی کا ٹاؤن نہیں اور نہ ہی کسی ٹاؤن کا حصہ ہے بلکہ یہ پاک افواج کے زیر انتظام ہے۔

پورے پاکستان سے لوگ روزگار کی تلاش میں کراچی آتے ہیں، جو اپنی زندگی کا پہیہ چلانے کے لیے دن رات کام کرتے ہیں۔ \”کراچی\” پاکستان میں خریداری کا مرکز تصور کیا جاتا ہے جہاں روزانہ لاکھوں صارفین اپنی ضروریات کی اشیاء خریدتے ہیں۔

تجارتی دارالحکومت کراچی جی ڈی پی کے بیشتر حصہ کا حامل ہے۔ قومی محصولات کا 65 فیصد کراچی سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان کے تمام سرکاری و نجی بینکوں کے دفاتر کراچی میں قائم ہیں۔ روشنیاں رہیں تو کاروبار چلے، کاروبار چلے تو اقتصادی ترقی ہو معیار زندگی بہتر ہو۔ لیکن نہیں جناب اس بار تو فیصلہ ہو گیا۔ کسی کی نہیں سننی۔

بس! یکم نومبر سے مارکیٹیں 7 بجے بند ہونی ہیں۔ ڈر ہے کہ مستقبل میں کوئی ایسا فیصلہ بھی صادر نہ کردیا جائے کہ کراچی کے عوام 8 بجے سے پہلے پہلے گھروں کو پہنچ جائیں ورنہ پولیس پکڑ کے لے جائے گی۔ سابق وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے دور میں ایک ہوا چلی اور تمام شادی ہال گرائے جانے لگے، ایک دن میں درجنوں شادی ہال گرنے سے کئی شادیاں متاثر ہوئیں۔ عدالت کی جانب سے حکم امتناعی پر شادی ہال کے مالکان اور بکنگ کرانے والوں کی جان میں جان آئی۔

نیپا چورنگی پر واقع صادقین شادی ہال کو بھی مسمار کیا جارہا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے کسی بڑے نے فون کرکے ایسا ہونے سے روک دیا اور اب وہ دوبارہ شاد آباد ہے لیکن جو اس قانون کی زد میں آئے وہ اب فسوں حال ہیں۔

وزارت اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے والے مراد علی شاہ ایکشن میں دکھائی دے رہے ہیں، لیکن تمام کام ایک خاص جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوششیں ہیں ورنہ تو اندرون سندھ کے حالات کراچی سے بھی گئے گزرے ہیں اور صدیوں پرانی رسم و رواج پر قائم ہیں۔ نہ سڑکیں ہیں نہ اسپتال، نہ اسکول ہے نہ بازار، روٹی کپڑا مکان کے نعروں کے علمبرداروں کے علاقوں میں مفلسی اور ناخواندگی کے کیا کہنے!

مراد علی شاہ صاحب نے ایک اہم اجلاس میں صوبے بھر کے شادی ہال رات 10 بجے اور مارکیٹیں شام 7 بجے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا اور اس پر عملدرآمد کرانے کے لیے یکم نومبر تک مہلت دے دی۔

فیصلے پر عملدرآمد کرانے کے لیے ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ کاروباری افراد سے بات کرنے کا عندیہ دیا اور روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کرلی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ شادی کی تقریبات میں صرف سالن، روٹی، چاول اور میٹھے کی اجازت ہوگی۔ اور کسی نے اگر ون ڈش سے زیادہ مہمانوں کی تواضع کی تو سلاخوں کے پیچھے اس کی تواضع پولیس کرے گی۔

ایسی صورت حال میں عوام کی رائے منقسم ہے، کچھ لوگوں نے اس اقدام کو سراہا لیکن زیادہ تر اس فیصلے کو واپس لینے کے حامی ہیں، کچھ منچلوں کا کہنا ہے زندگی میں شادی اک بار ہوتی ہے برائے مہربانی حکومت اسے انجوائے کرنے دیں۔ اسٹیٹ اپنے کام سرانجام دے، لوگوں کے نجی مسائل میں دخل اندازی نہ کرے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدام میگا سٹی میں رائج نہیں ہوسکتے، گاوں دیہاتوں اور قصبوں والے چاہییں تو وہ اپنا سکتے ہیں۔

کیونکہ جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے کہ دل کا فسانہ ہے کیا۔

اب جب کہ دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور ڈکیتیوں کی وارداتیں کم ہوئیں تو لوگوں کو زندگیاں بھرپور طریقے سے گزارنے کا مکمل حق ملنا چاہیے، اقتصادیات کو فروغ ملنا چاہیے۔

تاکہ اک بار پھر کراچی روشن و ترقی یافتہ ہو اور اندرون سندھ کے شہر و علاقے بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں مثبت کردار ادا کرتے نظر آئیں۔ صرف بلاول کے جلسوں میں نعرے مارتے اور گڑھی خدا بخش میں کھانا کھاتے نہ ملیں۔

Facebook Comments HS

ربیعہ کنول مرزا

ربیعہ کنول مرزا نے پنجاب اور پھر کراچی یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ صحافت میں کئی برس گزارے۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شعبہ ہے

rabia-kanwal-mirza has 34 posts and counting.See all posts by rabia-kanwal-mirza