روایات کو پس پشت ڈالتا ہوا ہمارا موجودہ ڈرامائی ادب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اول تو ادب کو مذہبی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے جبکہ انسانی تاریخ میں اب تک جتنا بھی مذہبی لٹریچر آیا اس میں مرد و زن کے براہ راست تعلقات کو کبھی موضوع نہیں بنایا گیا بلکہ اس میں مذہبی شخصیات اور ان کے کردار و گفتار کو سامنے رکھ کر سماجی زندگی کے بارے میں بات کی گی۔ آپ ادب کا ارتقائی سفر اٹھا کر دیکھ لیں۔ اور جب جب اس میں فحش گوئی شامل ہوئی تو اپنے وقت کے سنجیدہ حلقوں میں اسے پذیرائی حاصل نہیں ہو پائی تاہم غیر مرئی واقعات پر مبنی قصے کہانیوں کو ہر دور اور ہر معاشرے میں مقبولیت حاصل ہوئی اور ہر زبان کا لٹریچر اس طرز کے ادب سے مالامال ہے۔

ادب میں سماجی موضوعات پر مضامین شامل ہوتے تھے، رومانوی قصے صوفیانہ ادب کا حصہ نہیں رہے۔ داستان ہیر رانجھا اور لیلی مجنوں کو ہم ہمیشہ انسانی وجود پر پرکھتے ہیں یعنی اس کے لفظی معنی پر نگاہ رکھتے ہیں اس کی حقیقی فکر کی جانب جانے کا سوچتے ہی نہیں ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنا بڑا ولی اللہ سستے جذبات کی بات کرے۔ یہ ہمارا فکری بانجھ پن اور علمی گرانی ہے کہ ہم نے داستان ہیر رانجھا کو دنیاوی عشق سے وابستہ کر کے مرد و زن کی محبت کو زندگی اور عشق کی معراج سمجھ لیا۔

ہمارا آج کا المیہ یہ ہے کہ ہمارا قاری صوفیانہ طرز پر لکھے گئے رومانوی ناولوں کو تو شوق سے پڑھتا ہے جو گذشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے معاشرے میں تعمیری طرزِ فکر کی بجائے ایک مخصوص قسم کے بگاڑ کو جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ مگر تحقیقی اور تاریخی کتب کے مطالعے کی طرف مائل نہیں ہوتا۔ تاریخ جس کا مطالعہ بہت ضروری ہے مگر اس کے لیے بھی ڈرامائیت سے بھر تاریخی کتب سے استفادہ نہ کیا جائے بلکہ حوالہ جاتی تاریخ کتاب پڑھنے کی کوشش کی جائے۔

حتی کہ ہم تعمیری ادب کی طرف بھی راغب نہیں ہوتے اور نہ ہی سماجی راہ ہمواریوں پر مشتمل ادب کو شوق سے پڑھتے ہیں۔ سماجی زندگی میں تبدیلی نے فکر و نظر کو تبدیل کر دیا ہے مگر یہ میرا عشق صوفیانہ طرز کا ادب میری سمجھ سے بالاتر ہے۔ جو عملی زندگی میں نظر بھی نہیں آتا۔ اگر کوئی مرد یا عورت یہ کہے کہ جی میری محبت پاک ہے تو صاف ظاہر ہے کہ انہیں موقع نہیں ملا، اسی لیے محبت پاکیزہ رہ گئی۔ پھر یہ میرے والا، ایسا نہیں جیسا ہر سین خاموش خود کشی پر ختم ہوتا ہے۔

اردو زبان میں ہر قسم کی تحاریر پڑھنے کے لیے موجود ہیں مگر ہم افسانیت سے بھر پور سستا رومانس، سازشوں سے سجے ہوئے ڈرامائی سوپ ٹائپ سریل اور ڈائجسٹ میں شایع ہونے والی عورت کے ظلم اور مظلومیت کو ہی اُردو ادب کا نیا دور سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ ان لکھنے والیوں کی اندھی عقیدت میں مبتلا افراد اسی دائرے کے اندر گھومتے نظر آتے ہیں۔ ہیروئن حد سے زیادہ خوبصورت، سگھڑ، صابر سمجھدار مگر سادہ لوح ہے۔ آپ آسانی سے ہر بار اسے بے وقوف بنا سکتے ہیں اور ہیرو بیچارہ اس کی حماقتوں کو سہنے پر مجبور ہے کیونکہ اس سے محبت کرتا ہے اور ابھی اپنا نہیں سکتا کچھ خاندانی مسائل ہیں۔

آج کے ڈرامہ کلچر نے عشروں پھر پھیلے ہوئے سنجیدہ ڈرامہ ادب کو دفن کر دیا ہے۔ آج کے ڈرامے میں رشتوں کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ایک ہی لڑکے کے پیچھے دو بہنوں کے درمیان ہونے والی لڑائی ہر دوسرے ڈرامے کا موضوع ہے۔ دیور کی بھابھی پر نظر ہے تو بھابھی خاندان توڑنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ معاشرے میں یہ سب ہو رہا ہے اور آج سے چالیس پچاس سال پہلے بھی ہو رہا تھا مگر ڈراموں کا موضوع نہیں تھا اور اس کے علاؤہ دھوکہ دے کر نکاح کو بہت زیادہ آسان اور سچ سامنے آنے پر صرف اس جھوٹ اور دھوکے کو برداشت کرنے کا سبق دیا جاتا ہے۔

جھوٹ، دھوکہ دہی اور لالچ کی بنیاد پر بننے والے رشتے کبھی بھی دیر پا نہیں ہوتے، ایسے جرائم کے مرتکب افراد کسی بھی معاشرے کے ہیرو ہیروئن نہیں ہوتے اور نہ ہی دھوکہ دہی کا شکار ہو کر خاموشی سے ظلم سہنے والا اور اسی بد بخت کے ساتھ زندگی گزارنے والا آئیڈیل ہونا چاہیے۔ سماجی دباؤ پر اپنی زندگیاں داؤ پر لگانے والے اور ظلم سہنے والے مرد و خواتین کو آئیڈلائز کرنا چھوڑ دیں۔ ان کی اپنی زندگی تو دکھوں سے بھری ہوتی ہے یہ دوسروں کو بھی اسی قربانی کا درس دیتے ہیں جس کی اجازت مذہب اور انسانیت نہیں دیتی۔ جھوٹ، جھوٹ ہے اور سچ سچ۔ انسانی تعلقات میں اس ایک فارمولے کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان کے موجودہ ڈرامہ نگار اس انسانی وصف سے متصف نظر نہیں آتے۔ وہ زبردستی کے رشتے سازی کو پروان چڑھانے میں لگے ہوئے ہیں بس جو پسند آ گیا اسے اپنا لو۔ اسے کے احساسات، جذبات اور جسم سے لذت کشید کرو اور جب اسے پتہ چلے سچ کا تو اسے نبھانے کے لیے مجبور کرو۔ خاندان کیا کہے گا، زمانہ انگلی اٹھائے گا۔ خاندان یا زمانہ تب کہاں ہوتا ہے جب اسے بھوکا، پیاسا اور تنہا رکھا جاتا ہے۔

خدا کے لیے ان خود ساختہ فلسفیوں کے پیچھے لگ کر اپنی زندگیاں داؤ پر مت لگائیں۔ دنیا میں وہی ایک مرد یا عورت نہیں تھی، خود کو قبول کیجئے اور خود سے محبت کیجئے۔ اللہ تعالیٰ حق و باطل کا فیصلہ کرنے والا اور معاف کرنے والا ہے اور ایک بات سمجھ لیں وہ ظلم کو پسند نہیں کرتا کسی بھی صورت میں اور کسی بھی شکل میں۔

اور ہاں ہمارے ڈرامہ نگاروں کو اسلام کے عائلی قوانین کا بھی دور دور تک علم نہیں۔ انہیں ان عائلی قوانین کا مطالعہ سیرت النبی صل اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے ڈراموں میں لغو گوئی سے باز رہ سکیں۔ اگر انہوں نے خانگی معاملات پر ہاتھ ڈالنا ہی ہے تو سورت النساء۔ سورت آل عمران کو تو پڑھ لیا کریں پہلے۔ ان کا ڈرامائی ادب مذہبی احکامات کی نفی کرتا اور اللہ کو جابر اور قہار بنا کر پیش کر رہا ہے۔ جو وہ دکھا رہے ہیں اس سے کچے ذہنوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

جیسے خلیل الرحمان قمر کے ڈرامہ ”میرے پاس تم ہو“ جس کا بڑا شہرہ رہا اور جب یہ آرٹیکل شائع ہو تو شاید اس کی آخری قسط بھی آن ایئر ہو چکی ہو۔ کا یہ ڈائیلاگ۔ سوشل میڈیا پر بڑا ہٹ رہا۔

مہوش: تمہیں میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں، یہ معاملات میں نے خدا پر چھوڑ دیے ہیں۔
شہوار: نہ نہ۔ ۔ ۔ خدا پر مت چھوڑنا، وہ طلاق لینے والی عورتوں سے خوش نہیں ہوتا، جو بھی کرنا اُس سے ذرا بچ بچا کے کرنا۔

کیا خلیل الرحمٰن قمر اور ان کی ٹیم قرآن وسنت حتیٰ کہ انسانی اخلاقیات کی روشنی میں اس بات کو ثابت کر سکتے ہیں؟ یہ خالص ہندوانہ سوچ و فکر کی عکاسی کرتا ہوا منظر نامہ ہے۔ اگر آپ قرآن کا مطالعہ کریں تو اس کی مدنی سورتوں میں عائلی معاملات کا صراحت سے تذکرہ فرمایا گیا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالی واضح طور پر فرماتا ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں یا ان میں سے کوئی ایک یہ سمجھے کہ وہ اس تعلق کو نہیں نبھا سکتا تو وہ احسن طریقے سے علیحدہ ہوجائیں۔ اور جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ ان کے حق میں بہتر کردے گا۔ پائین ضروری نہیں کہ پورا معاشرہ قرآن سے نابلد ہو۔

جبکہ کئی مرد و زن بھی صرف شہوت اور مال و دولت کے لیے نکاح جیسے مقدس رشتے کو ظلم اور دکھ سے بھر دیتے ہیں، ایسے گندے لوگوں سے طلاق یا خلع کے ذریعے اپنی جان چھڑانے والے مظلوم تو ہو سکتے ہیں ظالم۔ یا دوزخی نہیں۔ جنت اور دوزخ کا فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے۔ جس کی بنیاد ہمارے اعمال و افعال بنیں گے نہ کہ طلاق و خلع کے فیصلے۔ ہمارے یہ ڈرامہ رائٹرز مسلسل ہی مرد و عورت کو لالچی اور دوزخی بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ کاش یہ عائلی قوانین اور مسائل کا مطالعہ کر لیں تو یقیناً ڈراموں کا سر پیر بھی نکلے اور انہیں دیکھنا بھی اچھا لگا جیسے کہ ماضی کے ڈرامے، جو تفریح اور اگہی کا سامان مہیا کرتے تھے نا کہ ذہنی دباؤ، آلودگی اور کوفت کا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *