ٹرمپ کی ثالثی: کیا بس یہی آخری آپشن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بزرگ سیاست دان کی بات یاد آئی، سیاست کا کسی خدمت کے جذبے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، یہ فرائض منصبی کانام ہے، ایک سنجیدہ کاوش! مگرہمارا تعلق ”قبیلہ میر“ سے ہے، وہ لکھتے ہیں۔
میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لڑکے سے دو الیتے ہیں

القدس فوج کے جرنیل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد، عالمی سطح پر کچھ تزویراتی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، یہ بھی ذہن نشین رکھناضروری کہ یہ رقابت کوئی نئی نہیں، امریکہ پہلے ہی ایران پرتاریخ کی بدترین پابندیاں عائد کر چکا ہے، تازہ ترین صورتحال کے پیش نظر ہم نے اپنے تئیں ”صلح جو“ ہونے کے ثبوت کے طور پر تہرا ن، واشنگٹن، امارات کے سفارتی دورے کیے ہیں کہ مشرق وسطی کی کشیدہ صورتحال کو کچھ ٹھنڈا کیا جاسکے۔

22 جولائی کو وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات ہوئی تھی جس میں امریکی صدر نے یہ ”انکشاف“ بھی کر ڈالا کہ نریندر مودی نے ان سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ”ثالثی“ کی درخواست کی ہے جسے انہوں نے جون ایلیا والے ”کشادہ دل“ سے منظور کر لیا ہے، ابھی اس انکشاف کی دھول نہیں بیٹھی تھی کہ بھارتی اسمبلی نے 5 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقہ کو یک طرفہ طو رپر بھارت کا حصہ بنانے کے لئے قانون سازی کرڈالی جس کے نتیجے میں کشمیر کے تاریخی اور حقیقی تشخص کو بیک جنبش قلم مسل ڈالا گیا، اس واقعہ کے بعد آج کے دن تک کشمیریوں کو محاصرے کی شدید کارروائیوں کا سامنا ہے گو کہ اب پری پیڈ سروس اور کچھ محدود حد تک انٹرنیٹ سروس کو بحال کر دیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا ابھی تک مفلوج ہے۔ پاکستان و عالمی دنیا کی پکار کے باوجود، دہلی، مقبوضہ علاقے میں اقوام متحدہ کے مبصرمشن کو ”جائزہ“ لینے کی اجازت دینے سے تا حال انکاری ہے، اسلام آباد اس مبصر مشن کو خوش آمدید کہنے کے لئے ہر لمحہ تیار ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں سائیڈ لائن پر ہونے والی ملاقات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر اپنے ”ثالث“ ہونے کا اعلان کیا ہے، ساتھ ہی مگر انہوں نے یہ نوید بھی سنائی ہے کہ اسلام آباد وشنگٹن ڈی سی کے درمیان تعلقات تاریخ میں پہلی دفعہ اتنے مضبوط ہوئے ہیں، وہ عمران خان کو اپنا ”دوست“ قرار دیتے ہیں ایک اور شخص کے لئے بھی وہ ایسے ہی برادرانہ کلمات ادا کر چکے ہیں جس کا ذکر نا یہاں مناسب نہیں، ہم اس ”ثالثی“ کو حق سچ مان کر یہ امید یں قائم کر بیٹھے ہیں کہ اس مسئلہ کا حل ٹرمپ کے ہی پاس ہے، آپ کو یقین نہ آئے تو آپ قومی اخبارات کا مطالعہ کر سکتے ہیں جہاں اسلام آباد ومظفرآباد کے اکابرین اس ثالثی کے سلسلے میں ایک جیسے ہی بیانات داغتے نظر آئیں گے۔

رواں ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکو خصوصی طو ر پر وائٹ ہاؤس طلب کر رکھا ہے مقصد اس کا مگر یہ بتایا گیا ہے کہ ”Two Solution theory“ کی طرف بڑھنا چاہے، جس کو ٹرمپ کے ایک قریبی عزیز نے ترتیب دیا ہے، ٹرمپ کو امریکی سینیٹ میں مواخذ ے کی کارروائی کاسامنا ہے۔ جہاں دلائل دینے کا آغاز آج سے شروع ہو گیاہے جبکہ یا ہو کو کرپشن وغبن جیسے سنجیدہ الزمات کو ٹالنے کے لئے ایوان میں اکثریت دستیاب نہیں، بادی النظر میں ٹرمپ ان الزامات سے بچانے کے لئے یاہو کی کچھ مدد کرنے چاہتے ہیں۔

اس دور حاضر کی نئی تھیوری کی طرف پیش قدمی کے لئے انتہائی اہم فریق یعنی فلسطین کی رائے کو نظر انداز کیا گیا ہے، اس سے پہلے ٹرمپ اسرائیل کی سا لمیت کو قبول کرنے والے دنیا کے پہلے سر براہ ہیں، خوشی میں انہوں نے اپنی سفارتی سرگرمیوں کے دفاتر کو وائیٹ کے علاقہ سے پروشلم منتقل کر دیا تھا، اسرائیل نے جواب آغزل کے طور پر ”گولان ہائیٹز“ کے تزو یراتی لحاظ سے نہایت اہم علاقے کو ”ٹرمپ ہائیٹز“ کے نام سے منسوب کر دیا تھا، اس علاقہ کی اہمیت کا اظہار گولڈ امیئر نے اوریانا فلاشی کو انٹرویو میں کر رکھا ہے۔

ابھی ایک ہفتہ پہلے کی بات ہے جب امریکی نائب وزیر خارجہ ایلس ویلز نے اسلام آباد میں سی پیک کے حوالے سے کچھ عجیب وغریب باتیں کر ڈالیں۔ جس میں ہدف نگاہ چین سے ہمارے برادرانہ تعلقات اور ان کی پاکستان سے وابستگی کو بنایا گیا تھا ہم نے مگر اس کو درخوراتناء نہیں سمجھا، نظر انداز کردینے کی عادت ہماری کوئی نئی ہر گزنہیں، چین کے سفارت خانے نے اس سلسلے میں سخت موقف اپناتے ہوئے قرضوں اور منصوبوں کی شفافیت پر اپنا موقف واضح کر دیا ہے ساتھ ہی انہوں نے امریکہ کو ”آپ نے پاکستان کے لئے کیا گیا“ جیسے الفاظ بھی یاد دلائے ہیں، ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ گذشتہ چھ ماہ میں کشمیر کے مسئلہ کی عالمی سطح پر دو دفعہ بحث کے پیچھے چین کی بہت اہم کاوش رہی ہے، 22 جولائی اور 5 اگست کے درمیان دنوں کے وقفہ کو تو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں پر باآسانی گنا جاسکتا ہے کیا یہ ”ثالثی“ ہی ہمارے پاس آخری آپشن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *