مفتی کفایت اللہ کی طرف سے جنسی زیادتی کا شکار بچے کے والدین کو رقم دینے کی پیشکش؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اخباری اطلاعات کے مطابق مانسہرہ کے مذہبی مدرسے میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے بچے کے والدین پر صلح کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے جب کہ مفتی کفایت اللہ کی جانب سے دھمکیاں دینے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

اردو سیاست کی رپورٹ کے مطابق مانسہرہ میں زیادتی کا شکار ہونے والے بچے کے والدین پر صلح کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ جے یو آئی ف کے رہنما مفتی کفایت اللہ اور ان کے ساتھی نے عدالت کے باہر بچے کے والدین کو تصفیہ نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ جب کہ انہوں نے اس حوالے سے رقم کی پیشکش بھی کی لیکن والدین نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

27  دسمبر 2019ء کو ضلع مانسہرہ کے تھانہ پھلڑہ میں درج ہونے والے مقدمہ علت نمبر بجرم 53 سی پی اے اور 202/201/337 Aii/109/324 کے مطابق مرکزی ملزم قاری شمس الدین نے مدرسہ تعلیم القران میں زیر تعلیم 10 سالہ طالب علم سے زبردستی جنسی زیادتی کرنے کے بعد اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا اور دو دن تک حبس بے جا میں رکھا تھا۔

اس مقدمہ کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد حتمی چالان کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ مقدمہ میں مرکزی ملزم قاری شمس الدین کا ڈی این اے نمونہ لیبارٹری رپورٹ کے مطابق میچ ہو چکا ہے۔

خیال رہے کہ ملزم قاری شمس کی حمایت کرنے پر جے یو آئی ف نے مفتی کفایت اللہ کی رکنیت معطل کر دی تھی۔ ترجمان جے یو آئی ف کے مطابق ضلعی امیر مانسہرہ مفتی کفایت اللہ کو جماعت کے عہدہ سے صوبائی جماعت نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر عارضی طور پر معطل کیا۔

واضح رہے کہ مانسہرہ سے قاری شمس الدین کو ایک بچے کے ساتھ100 بار زیادتی کرنے کی وجہ سے مقدمہ درج کروایا گیا تھا جس کے بعد انہیں مقامی پولیس کی جانب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ جے یو آئی ف کے مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ کی جانب سے قاری شمس الدین کو گرفتاری سے بھی بچانے کی کوشش کی گئی تھی۔ مفتی کفایت نے قاری شمس کو پناہ دیے رکھی تاہم بعد ازاں پولیس نے سراغ لگا کر قاری شمس کو گرفتار کر لیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *