مولانا فضل الرحمان اور مدارس اصلاحات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پتا نہیں کیوں مولانا فضل الرحمان پاکستان کے سیاسی ڈرامے میں مجھے جے کانت شکرے لگتے تھے، ڈیزل پرمٹ ہو یا ایل ایف او پر ڈیل، کشمیر کمیٹی کی سربراہی ہو یا اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ مولانا ہمیشہ پرکشش جاب پر رہے ہیں، شاید مولانا سے میرے اختلاف کی یہی وجہ تھی۔

میں نے دو پشنگوئیاں کی تھیں کہ عمران خان جیسے سیدھے اور کھرے انسان کو قطعاً وزیراعظم نہیں بنایا جائے گا، یہ پریشر ٹول کے طور پر رکھا ہوا ہے۔ لیکن جس روز خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف لیا تو میں حیران رہ گیا کہ یہ کیسے ہوا۔ شاید اس لیے کہ خان وہ اپوزیشن والے خان ہی نہ رہے تھے جو ججز جرنیلوں امریکہ پر کھل کر تنقید کرتا تھا، مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت پھانسی دینا چاہتا تھا، آئی ایم ایف سے قرضے لینے پر موت کو ترجیح دیتا تھا، ایکسٹنشن کے مخالف تھے، کٹھپتلی وزیراعظم بننے پر اسمبلیاں توڑنے کو ترجیح دیتے تھے، شاید لیکن یقیناً خان اسی وجہ سے وزیراعظم بنایا گیا کہ اس نے مشرف کو بچانا ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانا ہے، توسیع دینی ہے کٹھ پتلی رہنا ہے۔

دوسری پیشگوئی تھی کہ اگر پی ٹی آئی کی حکومت آئی بھی تو مولانا اُس کے بھی اتحادی ہوں گے، کیونکہ مولانا وہ مچھلی ہیں جو اقتدار کے پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ہیں۔ مولانا نے اتحادی نہ بن کر میرے تجزنہ نگار بننے کے خواب کو چکنا چور کردیا۔ لیکن میرے خوابوں کو توڑنے والے مولانا فضل الرحمان اِس وقت میرے آئیڈیل سیاستدان ہیں۔

گھات گھات کا پانی پینے والے، سیاست کے سمندر کے غواص مولانا کو پی ٹی آئی کے روپ میں موساد نظر آتی ہے، جو ہماری نظریاتی سرحدیں کھوکھلی کرنے کے لیے مسلط کی گئی ہے۔ مولانا خان کو مدینہ کی ریاست کے نعروں آڑ میں اور ہاتھ میں پکڑی تسبیح کے روپ میں لارنس آف عربیہ سمجھتے ہیں جو پاکستان کے اندر سے روحِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکالنے پر لگائے گئے ہیں۔

مغرب پاکستان کی دفاعی صلاحیت کا اندازہ کرتے ہوئے کوئی خطرہ مول نہیں سکتی ہے اس لیے انہوں نے ڈاکٹر مصدق کے اقتدار کو سبوتاژ کرنے والا فارمولا اپنایا اور ملک کے منتخب اور وفادار وزیر اعظم کو پانامہ کا ہنگامہ چھوڑ کر جیل میں ڈلوایا اور عنان اقتدار اپنے منظورِ نظر کے حوالے کی۔

مولانا انتہائی مدبر اور حلیم سیاستدان ہیں، کافی بار انہیں اشتعال دلاکر غلط قدم اٹھانے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی لیکن مولانا ان طفلانِ سیاست کے استاد نکلے اور دشمن کی ہر چال کو ناکام بنایا۔

بلاشبہ اس وقت مولانا کی جماعت سب سے بڑی مذہبی منظم جماعت ہے اور ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ان کا شمار ہوتا ہے، جس کا مشاہدہ اسلام آباد مارچ کے دوراں سب نے کیا۔ اسلام آباد مارچ کے دوراں بھی مولانا پر طعنہ زنی کے تیر برسائے گئے کہ مولانا ریڈ زون کی طرف پیش قدمی کریں لیکن مولانا نے ملک کو سول وار اور افراتفری سے بچانے کے لیے اپنی ذات پر الزام لیتے ہوئے پرامن روانگی کا راستہ اختیار کیا۔ یہ ذات کی نفی سب سے بڑا جہاد ہے۔ انا کی قربانی نہ دیتے تو قوم کو سیگ پیسیج کے لیے ایک اور سانحہ پشاور بھگتنا پڑتا۔

مولانا کنگ تو نہ بن سکے لیکن کنگ میکر ضرور رہے ہیں۔

اقتدار میں کئی آئے چلے گئے کسی کا نام یاد نہیں تو کسی کا کام یاد نہیں لیکن جنہوں نے اصولوں کی سیاست کی وہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔

جمہوریت کے علمبردار، آئین کے محافظ، مولانا سے ایک گزارش کرتا چلوں گا، کچھ عرصے سے مسلسل مدارس و مساجد انتظامیہ کی کرتوتوں کی بھیانک خبریں پڑھنے کو مل رہی ہیں، آپ اس وقت کسی ایک مکتب فکر کے امام نہیں ہیں آپ عالم اسلام کی پہچان ہیں، جب اسلامی اصلاحی مراکز میں یہ مظالم ہوں گے تو لوگ دیوبندی، بریلوی یا اہل حدیث کی طرف انگلی نہیں اٹھائیں گے ان کا نشانہ اسلام ہوگا۔

اس وقت آئین و جمہوریت کے تحفظ سے بڑی ذمہ داری آپ کے کندھوں پر مدارس اصلاحات کی ہے، معلمین کی تربیت کی جائے، اسلام آباد مارچ میں جو نظم و ضبط کا مظاہرہ آپ کے کارکنان نے کیا یہ کسی پیشہ ور فوج سے کم نہیں تھا۔ اسی طرح ان کی ذہنی تربیت کی جائے اور کردارسازی پر توجہ دی جائے۔

وفاق المدارس، تنظیم المدارس کے منتظمین کا اجلاس بلایا جائے اور اس مسئلے کا ہنگامے بنیادوں پر حل نکالا جائے۔ مدارس کو ایسے درندہ صفت انسانوں سے پاک کیا جائے، ایسے لوگوں کو پکڑ کر قانون کے حوالے کیا جائے اور ان کا سوشل بائیکاٹ کیا جائے۔

مولانا صاحب یہود و نصاریٰ کی سازشوں پر بھلے تنقید کی جائے لیکن اقوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے اپنا کردار بلند کرنا ہوگا۔ جس روز ہمارے علماء رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگ گئے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوگئے تو ہمیں زبانی تبلیغ کی ضرورت نہیں پڑے گی کردار کی خوشبو ہی سب کو اپنی طرف لے آئے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *