تین صوبائی وزرا برطرف ہونے سے نئے الیکشن کی راہ ہموار ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا فضل الرحمن دھوم دھام کے ساتھ اسلام آباد آئے تھے ۔ پھر ہم نے انہیں چپ چاپ واپس جاتے دیکھا ۔ کسی کو کچھ پتہ نہ لگا کہ مولانا کی واپسی آخر ہوئی کیسے ۔ بتایا جاتا رہا کہ کچھ وعدے ہوئے ہیں ۔ پورے کیے جائیں گے۔ دسمبر میں ہی حکومت دھڑام ہو جائے گی ۔ نئے سال کا سورج نہیں دیکھے گی۔ ایسے کچھ بیانات مولانا نے خود بھی دیے ۔ اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔

اگلا شو تب لگا جب آرمی ایکٹ پر قانون سازی کے لیے بل پارلیمنٹ میں لایا گیا ۔ اپوزیشن شرماتی ہوئی گھبرائی ہوئی آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈال کر پتلی گلی سے نکل گئی۔ اب منہ چھپائے پھرتی محسوس ہوتی ہے۔

نوازشریف کے بارے بتایا جاتا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو گرانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یہ اپنا وقت پورا کرے ۔ ناکام ہو وہ بھی ایسے کہ گملوں میں سیاسی ٹماٹر اگانے کی خواہش والے  کیڑے ہمیشہ کے لیے مر جائیں۔ پھر نہ کوئی تبدیلی کی بات کرنے والا آئے گا ، نہ تبدیلی کو ویسے کوئی چاہے گا ۔ تبدیلی کا نام بھی پھر کبھی کسی نے لیا ، تو تب جو بھی سر جی ہونگے وہ اپنی سوٹی سے ایسی باتیں کرنے والے کی خود سروس کریں گے۔ ساتھ یہ بھی کہیں گے کہ تیرا میرا کوئی مذاق اے ؟

اسلام آباد میں سفارتی حلقوں میں حکومت کے جانے کی باتیں شروع ہیں ۔ سفارتکار بھی دنیا جہان کے فارغ لوگ ہوتے ہیں کچھ بھی کہنا بولنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب یہ حکومت ہے بھلا کوئی جانے والی ۔ طاقت کے ہر مرکز کو جس طرح سچا پیار کپتان سے ہوا ایسا سانحہ ایسی محبت پہلے کم ہی کبھی کسی کے حصے میں آئی ۔ محبتاں سچیاں نے اور برقرار بھی ہیں ۔ اس لیے حکومت کو کوئی خطرہ لگتا تو نہیں۔

اک پرفارمنس کا ہی رولا ہے نا ؟ معیشت نہیں چل رہی ؟ سیٹھوں کا جیب ڈھیلی کرنے کو دل نہیں کر رہا ؟ آئی ایم ایف ایف اے ٹی ایف جان کو آئے ہوئے ہیں ۔ کپتان ابھی کام سیکھ رہا ہے ، جلدی سیکھ گیا تو یہ سب بھی سدھر جائیں گے۔

یہ سب تو روٹین کے معاملات ہیں ۔ جو روٹین سے ہٹ کر کام ہوا ہے وہ کے پی میں تین صوبائی وزرا کی برطرفی ہے۔ یہ برطرفی بہت اچانک اور غیر متوقع ہوئی ہے۔

عاطف خان اور شہرام تراکئی اہم صوبائی وزیر تھے، عاطف خان تو سینیر صوبائی وزیر بھی تھے ۔ کپتان کے پسندیدہ بھی تھے۔ شہرام ترکئی نے صوابی میں ابھی کچھ دن پہلے ہی وزیراعلی محمود خان کے لیے ایک بڑا عوامی اجتماع بھی کرایا تھا۔ وہاں وہ وزیراعلی کی بے تحاشا تعریف کر کر کے انہیں حیران بھی کرتے رہے ۔ پھر اچانک ایسا کیا ہوا۔

شہرام تراکئی اور عاطف خان آپس میں کزن بھی ہیں ۔ برطرفی کی منزل تک پہنچنے میں دونوں کی مشترکہ محنت کوشش اور ہمت شامل ہے۔

عاطف خان کپتان کے بہت قریبی رہے ہیں۔ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کے بعد یہ وزارت اعلی کے لیے کپتان کی پہلی چوائس تھے۔ لیکن پرویز خٹک اڑ گئے کہ میں تے ہنڈا ای لیساں یعنی وزیراعلی میری مرضی کا ہو گا اگر میں نہیں بنتا تو پھر عاطف خان بھی نہیں۔ محمود خان کی لاٹری نکلی سوات سے وزیر اعلی بن گئے۔

عاطف خان نے کبھی وزیراعلی کے پی محمود خان کو سیریس نہیں لیا۔ یہی سمجھا کہ وزیراعلی تو میں ہی ہوں وہ بس خٹک صاحب کا شوق تھا کہ بنتے بنتے رہ گیا۔ شہرام خان کے پی کی وزارت اعلی کے خود بھی بہت اہم سنجیدہ اور تگڑے امیدوار ہیں ۔ اس منصب کے حصول کی خواہش دل میں رکھتے ہیں۔ ان کا آزاد گروپ (پارٹی) ویسے تو پی ٹی آئی میں ضم ہو چکا ہے۔ سات سال سے یہ پی ٹی آئی کے ساتھ چل بھی رہے ہیں۔ اپنی کارکردگی سے اپنے لیڈر کو متاثر بھی کرتے چلے آ رہے ہیں۔

صوبے کی سیاست کو کاں ( کوے) کی آنکھ سے دیکھنے والے رپوٹر کا دعوی ہے کہ شہرام تراکئی  اپنے کزن عاطف خان کو راستے سے ہٹاتے خود اپنی وزارت گنوا بیٹھے ہیں۔ شہرام تراکئی عاطف خان کو اپنی وزارت اعلی کے راستے میں سب سے بھاری رکاوٹ سمجھتے تھے۔ عاطف خان اور وزیر محمود خان کی کلنگی فائٹ کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ کسی نہ کسی طرح یہ کارنامہ سر انجام دے ہی دیا۔

عاطف خان کی وزیر اعلی کے پی کے ساتھ ایک ملاقات میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ تلخی اتنی بڑھی کے سیکیورٹی کے ذمہ داران کو ہی مداخلت کرنی پڑی۔ ورنہ عین ممکن تھا کہ ایک کبڈی ہوتی جس کو دنیا دیکھنے سے محروم ہی رہتی۔

شہرام تراکئی اپنے گروپ کے لیے ایک وزارت مزید چاہتے تھے وہ بھی اپنے بھائی کے لیے۔ جبکہ عاطف خان بھی ایک وزارت چاہتے تھے، کس کے لیے ۔ تو ایسا کچھ نہ پوچھیں ہم کے پی والے ایسی باتیں نہیں کرتے ۔ سکینڈل بننے بنوانے سے گھبراتے ہیں۔ ایسی باتیں چھپاتے ہیں۔

بلوچستان پنجاب اور مرکز میں ہر طرف تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ کیسے آئے گی یہ کسی کو نہیں پتہ بات سب ہی کر رہے ہیں۔ یہ باتیں کرنے اور پھیلانے والوں کا منہ توڑ جواب یہی تھا جو کپتان نے کیا۔

کے پی میں پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔ وہاں سے تین وزرا کو برطرف کر کے میسج دے دیا کہ انج تے فر انج ای سئی ۔ ہٹایا بھی انہیں گیا ہے جو خود کپتان کے نزدیک ہیں۔ ڈسپلن نافذ کرنے کا ایک بہت لاؤڈ اینڈ کلئر میسج دیا گیا۔ شاباش بنتی ہے اور دینی چاہئے۔ اب ہر جگہ تبدیلی چاہنے والوں کو کن ہو جائیں گے اور سب دبک کر بیٹھ جائیں گے۔ یہ سوچیں گے کہ کپتان غصے میں ہے جو پاس موجود ہے اس سے بھی جائیں گے۔

پر مرنا سیاست کا ہے ۔ اس میں دو دو چار کی بجائے کبھی پچاس ہوتے ہیں۔ کبھی ان کا حاصل وصول صفر آتا ہے۔ فرض کریں اگر الیکشن کروانا چاہ رہا ہے کوئی۔ تو تین صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی توڑنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہاں سے اپوزیشن استعفی دے دے۔ ساتھ میں کچھ آزاد امیدوار یا چھوٹی پارٹیاں مستعفی ہو جائیں۔ حکومت دھڑام سے گرے گی اسمبلی ٹوٹی ہوئی ملے گی ۔ الیکشن کروانے پڑیں گے۔

پر یہ کلیہ کسی بھی طرح کے پی کی صوبائی حکومت پر فٹ نہیں آتا ۔ ایک سو پینتالیس کے ایوان میں پی ٹی آئی کے پچانوے ممبر ہیں۔ دو تہائی بنتے ہیں۔ اپوزیشن ساری مل ملا کر پچاس ممبران تک ہی پہنچتی ہے۔ ساری اپوزیشن بھی مستعفی ہو جائے تو اسمبلی نہیں ٹوٹتی۔

وزیراعلی محمود خان کا مخالف گروپ کم از کم دو درجن ارکان پر مشتمل ہے۔ اگر اب یہ اپوزیشن کے ساتھ مستعفی ہوتے ہیں تو کے پی اسمبلی بھی کاغذی بادام کی طرح ٹوٹے گی۔ کپتان مخالف زیادہ امید نہ باندھیں ۔ ابھی تو پارٹی صرف شروع ہوئی ہے۔ سکون سے سیاست کی گرمی سردی دیکھیں ۔ معیشت اور کارکردگی سے تو ویسے بھی اس حکومت کا ہاتھ تنگ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 375 posts and counting.See all posts by wisi

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *