چوہدری نثار کے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے امکانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقتدر حلقوں نے داخلی استحکام کی صورتحال کے لئے فی الحال پنجاب میں سیاسی اتّفاق رائے کی حکومت قائم کرنے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے جس میں مرکز میں برسر اقتدار پی ٹی آئی، اس کی سب سے بڑی اتّحادی مسلم لیگ (ق) ، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (نواز) اور کسی حد تک پیپلزپارٹی بھی شامل ہوگی۔ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں نے طے کیا ہے کہ ملک میں افراتفری، بے چینی اور داخلی انتشار کے خاتمے اور قومی یک جہتی کے حصول کی غرض سے فوری طور پر اگرچہ وفاق میں تو سیاسی اتّفاق رائے کی حکومت کا قیام مشکل نظر آرہا ہے، لہٰذا اس تجربے کا آغاز ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب سے کرلیا جائے، جسے آدھا پاکستان سمجھا جاتا ہے۔ ۔

ادھر پنجاب کی سب سے بڑی سیاسی سٹیک ہولڈر ”نوُن لیگ“ کے صدر شہبازشریف نے چوہدری نثار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوانے کی کوششیں شروع کردی ہیں کیونکہ شہباز شریف وزیراعظم بن کر اپنے ساتھ چوہدری نثارکو وزیراعلی بنانے کے خواہش مند ہیں، فوری طور پر اگرچہ وہ خود وزیراعظم شاید نہ بن سکیں مگر چاہتے ہیں کہ کم از کم چوہدری نثار وزیراعلی بن جائیں۔ شہبازشریف خود ابھی تک مرکز میں ”امیدوار“ رہنا چاہتے ہیں تاہم ان کی کوشش ہے کہ اگر وفاق کی سطح پر ”ان ہاؤس“ تبدیلی کا فوری امکان نہیں تو سردست پنجاب میں اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے ”تبدیلی“ عمل میں لے آئی جائے۔

شہبازشریف ملکی سیاسی منظر نامے پر اب چوہدری نثار کی ”انٹری“ کے لئے کوشاں ہیں کیونکہ شہبازشریف سمجھتے ہیں کہ چوہدری نثار کے دوبارہ سیاست میں متحرک ہوجانے سے وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ زیادہ اچھی طرح ”معاملہ“ کرسکتے ہیں۔

سنجیدہ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ بھی چوہدری نثار کو وزیراعلی بنانا چاہے گی کیونکہ سیاسی دشمنی کی وجہ سے ”چوہدریوں“ پر مسلم لیگ (ن) کے سب لوگ متتّفق نہیں ہیں البتہ چوہدری نثار پر متّفق ہو سکتے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ پنجاب کا نیا وزیر اعلیٰ ”نوُن لیگ“ کا نہیں ہوگا تو پھر ایسی تبدیلی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا، اس کے نتیجے میں پارٹی کمزور ہوگی اور اگلے الیکشن میں حریفوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی، لہذا پنجاب میں تبدیلی آئی تو وزیراعلی ”ق“ لیگ کا نہیں ”ن“ لیگ کا ہوگا اور چوہدری نثار، اسٹیبلشمنٹ سمیت سب کے ”فیورٹ“ امیدوار ہوں گے۔

بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی اگلی کوشش یعنی نئی احتجاجی تحریک پنجاب سے شروع کرنے کے پیچھے، ہوسکتا ہے یہی مقصد کار فرما ہو۔

دریں اثنا چوہدری سرور کو گورنر پنجاب کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، جس کی وزیراعظم عمران خان نے بھی حمایت کردی ہے، بلکہ وزیراعظم تو خود چوہدری سرور سے اس حد تک ناراض ہیں کہ 26 جنوری کے اپنے دورہ لاہور کے دوران انہوں نے گورنر پنجاب سے ملاقات ہی نہیں کی، حتیٰ کہ انہیں فون تک نہیں کیا، باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے لاہور میں پارلیمانی پارٹی سے ملاقات میں یہ جو کہا ”پنجاب میں سازش کی جارہی ہے اور میں جانتا ہوں کون کر رہا ہے“ تو ان کا اشارہ گورنر پنجاب چوہدری سرور کی طرف تھا کیونکہ وزیراعظم کو بتا دیا گیا تھا کہ پنجاب میں ”پارلیمانی شورش“ یعنی پی ٹی آئی کے اراکین پنجاب اسمبلی کا ایک ”ناراض گروپ“ بنوانے اور اس طرح پارٹی میں دھڑے بندی کے پیچھے چوہدری کا ہاتھ ہے۔ ۔

ذرائع کے مطابق چوہدری سرور مقتدر حلقوں کا اعتماد بھی کھو چکے ہیں کیونکہ وہ اپنی آرائیاں برادری سے تعلّق رکھنے والے، حال ہی میں مستعفی ہوجانے والے ایک ”تھری سٹار“ فرشتے کے ”طرف دار“ اور ”ایکسٹینشن“ کے مخالف تھے۔ ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ان کی جگہ ایک ریٹائرڈ جرنیل کو نیا گورنر پنجاب لگائے جانے کا امکان ہے، جو ”حاضر سروس“ چیف کا قریبی عزیز بتایا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *