کیا آپ رنگ ’نسل‘ زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر دوست بنا سکتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر انسان کی زندگی میں بہت سے رشتے ہوتے ہیں۔

کچھ خون کے اور کچھ جذباتی رشتے

کچھ رومانوی اور کچھ خاندانی رشتے

کچھ سیاسی اور کچھ نظریاتی رشتے

میری نگاہ میں ان تمام رشتوں میں دوستی کا رشتہ نہایت محترم ’معزز‘ معتبر اور خوبصورت رشتہ ہوتا ہے۔ اس رشتے کی خوشبو دونوں انسانوں کی زندگیوں کو معطر کر دیتی ہے۔ میری ہر دوستی ایک جداگانہ پھول کی طرح ہے جو میری زندگی کو خوشگوار بھی بناتی ہے اور پرمعنی بھی۔ میری خوشبختی کہ میری زندگی مخلص دوستوں کا گلستان ہے۔ ان کی دوستی پر مجھے فخر ہے۔ ان پر مجھے اعتماد ہے۔ ان پر مجھے اعتبار ہے۔ جب وہ کسی تکلیف میں ہوتے ہیں تو مجھ سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور جب میں کسی مشکل مں ہوتا ہوں تو ان سے رجوع کرتا ہوں۔

؎ دوست آن باشد کہ گیرد دستِ دوست

در پریشاں حالی و درماندگی

a friend in need is a friend indeed

میری زندگی میں دوستوں کے اس گلستاں کا راز میری زندگی کے حالات و واقعات اور میرے خیالات و نظریات میں پوشیدہ ہے۔ آپ بھی ان کی قدرے تفصیل سن لیں۔

میرے خاندان کا تعلق پنجاب سے ہے۔ میرے والدین نے 1947 میں امرتسر سے لاہور ہجرت کی۔ میرے والد نے 1954 میں گورنمنٹ کالج کوہاٹ میں ریاضی کے لیکچرر کی ذمہ داری سنبھالی۔ میں کوہاٹ اور پشاور میں پلا بڑھا اور خیبر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پہلے ایران اور پھر کینیڈا چلا آیا جہاں میں نے نفسیات کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اب اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کی خدمات کرتا ہوں۔ میری زندگی کے ان حالات نے میری بہت سے دوست بنانے میں بہت مدد کی۔

میرا خاندان پنجابی ہے لیکن پشاور میں میں نے پشتو سیکھی اور پٹھان دوست بنائے۔

میری فیمیلی سنی ہے لیکن ایران گیا تو میں نے شیعہ دوست بنائے

کینیڈا آ کر میں نے عیسائی اور یہودی اور ہندو دسوت بنائے

پھر میں نے مغربی اور مشرقی عورتوں سے دوستی کی

پھر کچھ گے مرد اور لیسبین عورتیں دوست بنیں۔

دھیرے دھیرے میں نے انسان دوستی کے فلسفے کو اپنایا اور یہ جانا اور سمجھا کہ میرے سب دوست پہلے انسان ہیں بعد میں شیعہ اورسنی عیسائی اور یہودی ’عورت اور مرد‘ گے اور لیسبین ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ اکیسویں صدی میں انفرادی اور اجتماعی طور پر انسانوں کے سامنے دو راستے ہیں۔

ایک راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے رنگ نسل زبان اور مذہب کے دائروں کو تنگ کرتے جائیں اگر یوں ہوا تو دھیرے دھیرے

ہندوستان صرف ہندوؤں کے لیے

پاکستان صرف مسلمانوں کے لیے

امریکہ صرف گوروں کے لیے

افریقہ صرف کالوں کے لیے

آئرلینڈ صرف کیتھولکس کے لیے اور

اسرائیل صرف یہودیوں کا ملک بن جائے گا۔

دوسرا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے قبیلے کے دائرے کو بڑا کریں اور اس میں دوسری اقوام اور مذاہب کے لوگوں کو شامل کریں۔ اس طرح ہم ایسی سیکولر انسان دوست معاشرے بنا سکیں گے جہاں ہر قوم اور مذہب کے انسان امن اور سکون سے رہ سکیں گے۔

ایسے معاشرے multi۔ cultural، multi۔ racial، multi۔ lingual and

multi۔ faithہوں گے جس کی ایک مثال کینیڈا ہے جہاں بیسیوں ممالک کے لوگ امن اور سکون سے رہتے ہیں اور یہاں کی شہریت بھی اختیار کرتے ہیں۔

کینیڈا کا قانون سیکولر ہے جہاں سب مذاہب کے ماننے والوں کو برابر کے انسانی حقوق اور مراعات حاصل ہیں۔ یہاں خدا کو ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کی برابر کی عزت کی جاتی ہے۔ اس کی آپ کو ایک ذاتی مثال دوں۔

میں اپنی ایک مریضہ کی مدد کرنے کے لیے یہاں کی عدالت میں گیا۔

جج نے مجھ سے پوچھا ’ڈاکٹر سہیل کیا آپ بائبل پر ہاتھ رکھ کے اپنا بیان دیں گے‘

میں نے کہا ’میں بائبل پر ایمان نہیں رکھتا‘

جج نے کہا ’کیا ہم آپ کے لیے قرآن منگوائیں‘

میں نے کہا ’میں سیکولر ہیومنسٹ ہوں میں کسی بھی آسمانی کتاب پر ایمان نہیں رکھتا‘

جج نے کہا ’تو آپ کس چیز کو مقدس سمجھتے ہیں؟ ‘

میں نے کہا ’اپنے ضمیر کو‘

جج نے کہا ’آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنے سینے کے بائیں طرف دل پر رکھیں اور کہیں کہ آپ سچ اور صرف سچ کہیں گے‘

چنانچہ میں نے جج کے مشورے پر عمل کیا۔

میں نے بیان دیا۔ عدالت کی چار گھنٹے کی کارروائی کے آخر میں جج نے فیصلہ میرے اور میری مریضہ کے حق میں دیا۔

ایسے انسان دوست اور سیکولر معاشرے بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم رنگ نسل زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر دوست بنائیں۔

ہندوستان میں رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنی درسگاہ شانتی نکیتن بنائی اور تعلیم کی افادیت کی اہمیت پر زور دیا۔

ٹیگور کا فلسفہ تھا کہ ہم سیکولر اور انسان دوست معاشرے صرف اس وقت قائم کر سکیں گے جب مختلف مذاہب ’کلچر اور روایتوں کے بچے اور بچیاں اکٹھے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کریں گے اور رنگ‘ نسل ’زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے کو دوست بنائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 290 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *