حوروں والا انجیکشن، ڈاکٹر اعجاز تجمل اور ڈاکٹر عاصم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امی اخبار با قاعدگی سے پڑھتی ہیں اور نیوز چینل بھی شوق سے دیکھتی ہیں۔ سننے میں دقت ہوتی ہے۔ اس لیے نیوز ٹکر پڑھ کر خبروں کا اندازہ لگاتیں ہیں۔ کچھ پوچھنا ہو، تو مجھ سے پوچھتی رہتیں ہیں اور ساتھ ساتھ ماضی کی یادیں بھی بیان کرتی رہتی ہیں۔

حوروں والا انجیکشن لگانے والے ڈاکٹر عاصم کا تذکرہ جب خبروں میں سنا، تو فورا پوچھا: ”کیا یہ ڈاکٹر عاصم وہی ہیں، جو ڈاکٹر اعجاز تجمل کے بیٹے ہیں؟ “ میں نے نفی میں جواب دیا۔ اور بتایا کہ یہ والے ڈاکٹر عاصم شوکت خانم ہاسپٹل میں بذریعہ ٹیکہ مریضوں کو جنت کی سیر کراتے ہیں۔

امی خاموش ہو گئیں۔ تھوڑی دیر بعد بتایا، کہ ڈاکٹر اعجاز تجمل ( والدہ محترمہ ڈاکٹر عاصم و ڈاکٹر روبینہ ) ناظم آباد نمبر 3 میں رہتی تھیں۔ اور کلینک گول مارکیٹ میں تھا۔ بہ غرض علاج امی ڈاکٹر اعجاز کے کلینک جایا کرتی تھیں۔ کچھ عرصے بعد انہوں نے گول مارکیٹ کے قریب میٹرنیٹی ہاسپٹل بھی بنا لیا۔

امی نے یہ بھی بتایا، کہ جب بڑی خالہ ( جو ناظم آباد نمبر 5 میں رہتی ہیں ) کی طبیعت زیادہ خراب ہوتی تھی۔ اور ڈاکٹر تک کے پاس جانے کی ہمت نہ ہوتی، تو امی رکشے میں ڈاکٹر اعجاز کو بڑی خالہ کے گھر لے جاتیں۔ ڈاکٹر اعجاز گھر کے اس حصے میں جہاں تعمیرات نہیں تھیں، دیکھ کر کہتیں تھیں : ”یہاں چیکو کے پودے لگائیں، چیکو تو کراچی میں بآسانی پیدا ہو جاتا ہے۔ “

جب ڈاکٹر اعجاز تجمل کا شمالی ناظم آباد والا ہاسپٹل زیر تعمیر تھا۔ اس دوران امی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے دو چار دفعہ کئی دن کے لیے گول مارکیٹ کے قریب واقع ہاسپٹل میں داخل رہیں۔ جب امی ہاسپٹل میں داخل ہوتیں، تو ڈاکٹر اعجاز اپنی بیٹی ( ڈاکٹر روبینہ ) کو امی کے پاس چھوڑ جاتیں۔ اور یہ کہ کر جاتیں : ”میں ہاسپٹل بنوا رہی ہوں، کسی اور پر بھروسا نہیں کرسکتی، اس لیے اپنی بیٹی آپ کے پاس چھوڑ کر جارہی ہوں۔ “

امی نے یہ بھی بتایا، کہ جب بھی ہاسپٹل میں داخل ہوئی۔ ڈاکٹر اعجاز تجمل نے کبھی بھی ہاسپٹل میں داخل رہنے کے پیسے نہ لیے۔ اور یہ کہتیں تھیں : ”کمرے خالی تو پڑے رہتے ہیں۔ تم رہ لیں، تو کون سا فرق پڑ گیا؟ “ امی نے بتایا، کہ شمالی ناظم آباد والے ہاسپٹل کی تعمیر کے بعد ڈاکٹر اعجاز سے ملنا موقوف ہو گیا۔ اور مزید بتایا، کہ ڈاکٹر روبینہ شمالی ناظم آباد والے ہاسپٹل کی نگران ہیں۔

امی کے علم میں ڈاکٹر عاصم پر لگنے والے مبینہ الزامات بھی ہیں۔ کہنے لگیں : ”ڈاکٹر عاصم کی والدہ تو بہت اچھی ہیں۔ یہ کیسا نکل گیا؟ “ اب اس کا جواب تو ڈاکٹر عاصم ہی بہتر دے سکتے ہیں۔ اس لیے میں تو خاموش رہا۔ یہ واقعات 1956 سے لے کر 1962 تک کے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *