ٹرانسپرنسی رپورٹ: اصل حقیقت کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف پاکستانی حکومت کو خاطر خواہ کامیابی ملی ہے جسے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرپشن میں اضافے کی کہانی میں بدل دیا گیا یہ رپورٹ 2017 تک کے زمانے کا احاطہ کرتی ہے جسے بے لگام اور منہ زور جنگجو میڈیا نے 2019 تک پھیلا کر تحریک انصاف حکومت کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہوتا کچھ یوں ہے کہ مریم میڈیا سیل میں خبر کے ٹکر تیار ہوتے ہیں جو جنگجو میڈیا کے بڑی وی چینل سے چلوائے جاتے ہیں اور حسب توقع سارا میڈیا اس کا تعاقب کرتا ہے اور حکومت ہاتھ ملتی رہ جاتی ہے ایک عزیزی نے انکشاف کیا کہ کسی قسم کا ردعمل دینے سے پہلے ایک نوجوان افسر نے ٹرانسپیرنسی کی اصل رپورٹ پڑھنے کی تجویز دی جسے از حد مصروف میڈیا مینجروں نے ایک سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دیا

ٹرانسپرنسی کی تردید اور وضاحت کے بعد ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ کہا جارہا ہے کہ کرپشن رپورٹ کی وضاحت نے معاملہ سلجھانے کی بجائے الجھا دیا ہے

مدتوں پہلے جب کچھ شرم و حیا باقی تھی سینٹ آف پاکستان ‎کا اجلاس جاری تھا۔ ایک رکن نے دہائی دینا شروع کی کہ ایک اخبار نے اس کی غلط خبر شائع کردی ہے۔ چئیرمین سینٹ وسیم سجاد نے غصے میں پھنکارتے رکن سے اخبار کا نام دریافت کیا جس پر اس نے کسی نامعلوم اخبار کا نام بتایا تو وسیم سجاد نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ”آپ ایک نامعلوم اخبار کی خبر پر اتنے دکھی ہیں لیکن میرے نام سے آج پاکستان کے تمام اخبارات میں بڑی بڑی سرخیاں چھپی ہیں حالانکہ میں نے کل کسی میڈیا سے گفتگو ہی نہیں کی، مجھے بتائیں کہ میں کہاں جاکر شکایت کروں۔ “

الیکڑانک اور سوشل میڈیا کا طوفان آنے سے پہلے ماضی کا یہ قصہ مجھے دو واقعات پر یاد دلاگیا ہے۔ ان میں سے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اور دوسرا صدر ڈاکٹر عارف علوی کی آٹے کے بحران پر ان منسوب جملے ہیں۔

‎یہ دونوں واقعات بھی شاید تیزی سے انگڑائی لیتی خبروں کی دھول میں بہت جلد ہی دب جائیں گے، شاید ذہنوں سے بھی محو ہوجائے گا لیکن اس سے یہ حیرت انگیز اور تکلیف دہ حقیقت ضرور ظاہر ہو جائے گی کہ پاکستان میں میڈیا کیسے استعمال ہورہا ہے۔ سیاسی جغادری اور پیسے کی قوت سے ہر چیز خرید لینے والوں کی دیدہ دلیری ملاحظہ ہو کہ بکری کو شیر اور ہاتھی کو لومڑ بنانا گویا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔

‎میڈیا کی تیزدھار تلوار سے کیسے سچائی اور حقیقت کو قتل کیاجارہا ہے۔ یہ واقعات اس کی کھلی مثال اور ثبوت ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پڑھے، سمجھے اور اس کا تجزیہ کیے بغیر کیسے اسے عمران خان اور اس کی حکومت کے خلاف سیاسی چاند ماری کے لئے استعمال کیاگیا؟ اس پر دراصل تحقیق اور خود احتسابی ہی درکار نہیں، خود میڈیا کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ سیاستدانوں کا تو کیا ہی کہنا، پھر جب واسطہ لٹیروں سے ہو تو کیا ہی کہنے؟

جنگجو گروپ کی سکرین پر جو ابھرا دیگر میڈیا سدھائے ہوئے پالتو جانوروں کی مانند اس کے پیچھے چل پڑتا ہے۔ اس ’بھیڑ چال‘ نے سچائی کا جنازہ نکال کررکھ دیا اور میڈیا معاشرے میں جھوٹ پھیلانے کا ذریعہ بن جانے کی گالی ہم سب کو سننا پڑی۔ میڈیا کی بدنامی کے ’چارچاند‘ میں ’دو چاند‘ کا اور اضافہ ہوگیا۔ اس ’رولے‘ میں جس نے جو ’کمائی‘ کرنا تھی، کرلی، سچائی جائے بھاڑ میں۔

‎صدر ڈاکٹر عارف علوی کے ساتھ جو ہوا، اس کا اثر یہ ہے کہ انہیں اپنی وضاحت کے لئے پورا ایک مضمون لکھنا پڑا لیکن میڈیا کی کمان سے ’جھوٹ‘ کا جو تیر چلا، وہ ان کی شخصیت کو زخمی کرگیا۔ یہ زخم کب اور کتنے عرصے میں بھرے گا؟ بھرے گا بھی یا نہیں؟ ضرب لگانے والوں کو اس کی کیا فکر؟

‎صدر نے اپنے مضمون میں غلط، جھوٹی اور ناقص خبر کی تین اقسام بیان کی ہیں۔ غلط خبر کی ایک قسم نادانستہ غلطی سے جنم لیتی ہے جس میں ارادتا یا بدنیتی شامل نہیں ہوتی۔ دوسری قسم دانستہ یا ارادتا کی ذیل میں آتی ہے جس میں حقائق کو جان بوجھ کر توڑا مروڑا جاتا ہے تاکہ کسی فرد کی شخصیت کو تار تار کردیاجائے۔ اطلاعات کا غلط یا جھوٹ ہونا معلوم ہوتا ہے لیکن پھر بھی دباؤ میں لانے یا کسی فرد کو نقصان پہنچانے کے لئے اسے خبر کا پیراہن دیاجاتا ہے۔ تیسری قسم کا تعلق حقائق سے ہے کہ اسے کسی فرد کو نشانہ بنانے یا سچائی کے بیان کے لئے بروئے کار لایا جائے۔

‎صدر کہتے ہیں کہ حال ہی میں کراچی میں، میں نے دو اداروں کا دورہ کیا۔ یہ ادارے نادار اور غریب افرادکو امداد پہنچاتے ہیں۔ یہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے امراض قلب اور بچوں کی صحت کا قومی انسٹی ٹیوٹ تھے جہاں میں گیا اور جیسا کہ اکثر ہوتا ہے کہ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت ہوتی ہے۔

‎ایک رپورٹر نے مجھ سے سوال کیا کہ ”اس شہر میں گندم کی فراہمی کا بڑا بحران ہے۔ آپ کے خیال میں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ “ صدر کا کہنا ہے کہ ”اس کا یہ سوال اور میرا جواب دونوں وڈیو کلپ میں صاف سنے جاسکتے ہیں۔ “ ڈاکٹر عارف علوی کہتے کہ ”اس وقت تک چونکہ کسی پر الزام نہیں لگایاگیا تھا اس لئے میں نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں لیکن معلوم ہونا چاہیے۔ “ اس مختصر نشست کے بعد الیکڑانک میڈیا نے اس گفتگو کے اصل پیرائے کو سرے سے فراموش کردیا اور اس کو یہ رنگ دے دیا گیا کہ صدر پاکستان ملک میں گندم کے بحران سے قطعی لاعلم ہیں۔ صدر کا شکوہ ہے کہ میرا جواب تو اس بحران کے ”ذمہ داران“ سے متعلق تھا جسے وڈیو کلپ میں سنا بھی جاسکتا ہے۔

‎اس طرح سے خبر پیش کرنے سے یہ تاثر عام ہوا کہ لوگ غربت اور مہنگائی سے پریشان ہیں لیکن صدر کو معلوم ہی نہیں اور ان کے خلاف نفرت نے سر اٹھالیا۔ تمام ہی چینل اس خبر کو مرچ مصالحہ لگاکر پیش کررہے تھے، تجزیے کے چٹخارے لئے جارہے تھے، سیاسی مخالفین نے مزید دل کی بھڑاس نکالی۔ جواب میں عوام میں یہ تاثر گہرا ہوتا چلاگیا کہ صدر کس قدر بے حس ہیں کہ انہیں عوام کو درپیش مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں۔ صدر مملکت کے بیان کو جس انداز میں پیش کیاگیا وہ گویا غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔

‎صدر نے میڈیا کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا لیکن جب وہ لکھنے بیٹھے تو ان کے خیال میں یہ معاملہ محض ایک خط کا نہیں تھا بلکہ اس کی گہرائی اور سنجیدگی کہیں بڑھ کر تھی جس کا انکشاف اس ذاتی تلخ تجربے سے ان پر ہوا۔ اس انہوں نے چینلز، رپورٹرز یا ان کے ادارتی عملے کو مورد الزام ٹھرانے کے بجائے جعلی، جھوٹی اور غلط خبر کے اثرات پر عوامی سطح پر بحث کے آغاز کی ٹھان لی۔ اس بحث کا آغاز انہوں نے اپنے ایک شائع شدہ مضمون میں کئی سوالات اٹھا کر کیا۔

سوشل میڈیا کے آنے سے ابلاغی اثرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ لمحوں میں اطلاعات ایک سیلاب کی مانند سچائی بہا لیجاتی ہیں۔ ٹیلی وژن کی طلسماتی دنیا معلومات کے کرشمے دکھاتی سکرینوں پر گھنٹوں دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں قید رکھتی ہے۔ اخبارات چوبیس گھنٹے کے دائرے میں سفر کرتے ہیں۔ ٹیلی وژن کی خبرکو صدر مملکت نے اپنے مضمون میں ”جہنم میں شادی“ کی اصطلاح سے بیان کیا ہے۔ ان کو گلہ ہے کہ ’دل دہلانے‘ والے واقعات کو ترجیح ملتی ہے۔ اصل دوڑ یہ ہے کہ ’وہ سب سے پہلے دیکھاجائے۔ ‘ ’سب سے پہلے وہ خبر فاش کردے‘ ، ہر طرف اس کی ’بلے بلے‘ ہوجائے۔ ڈاکٹر عارف علوی کی دہائی یہ ہے کہ ’خبر بریک‘ کرنے کے چکر میں ’لوگوں کو بریک‘ نہ کریں۔

‎غلطیوں سے کسی کو مفر نہیں، صدر مملکت کو بھی اعتراف ہے کہ وہ بھی انسان ہونے کے ناتے غلطیوں سے بالا نہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ ’ویسے بھی جو لوگ عوام کی نمائندگی کا بار عظیم اٹھاتے ہیں وہ ہمہ وقت سخت نگرانی میں رہتے ہیں۔ سیاستدانوں اورسماجی شخصیات کی زندگی کا یہ ایک لازمی حصہ ہے۔ ‘

‎اس سے بھی سنگین واقعہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی صورت سامنے آیا۔ سیاسی مخالفین کو یہ ’دھماکہ خیز‘ مواد عمران خان کی ساکھ کو ’اڑانے‘ کے لئے استعمال کرنے کا موقع مل گیا۔ غور کی اصل بات تو یہ ہے کہ آخر میڈیا میں جھوٹ کا یہ طوفان کیوں اٹھایاگیا؟ کیا یہ دانستہ تھا؟ کیا یہ کسی منظم سازش کا حصہ تھا؟ چینلوں کی پیشہ وارانہ لیاقت کیوں اندھی ہوگئی؟ سب کے سب ہی نے غلط رپورٹ کردیا؟ کیا یہ محض اتفاق تھا؟ یا پھر کسی بڑی گیم کا حصہ تھا؟ عقل اور پاکستان کی تاریخ کے مخفی حقائق بتاتے ہیں کہ ایسا کسی ’گیم‘ کے تحت ہی ممکن ہے۔

‎جھوٹ کے اس سونامی میں ہوش آنے پر ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے باضابطہ وضاحتی تردید جاری کی ہے جس میں کہاگیا کہ ”انڈیکس 2019 میں کہیں نہیں کہاگیاکہ پاکستان میں بدعنوانی بڑھی۔ میڈیا، اخبارات اورکچھ سیاستدانوں نے رپورٹ کو غلط بیان کیا۔ رپورٹ 2019 ءکی نہیں تھی۔ “ تین روز بعد 2019 کی رپورٹ کی وضاحت کرتے ہوئے چیئرمین ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان سہیل مظفر کہتے ہیں ”میڈیا، اخبارات اور کچھ سیاستدانوں نے رپورٹ کو دیدہ دانستہ توڑ مروڑ کر غلط بیان کیا۔ بدعنوانی کے خلاف موجودہ حکومت کے اقدامات قابل ستا ئش ہیں۔ نیب کی کارکردگی بھی بہتر ہوئی۔ “

‎سہیل ظفرنے واضح کیا کہ غلط بیانی سے پاکستان کی ساکھ کونقصان پہنچ سکتاہے۔ انڈیکس میں شامل ڈیٹا ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا نہیں بلکہ رپورٹ میں 13 مختلف ذرائع کے اعداد و شمار شامل ہوتے ہیں۔ اسکور کم ہونا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ کرپشن میں اضافہ ہوا۔ ”

‎شاید مرزا غالب کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہوگا کہ انہوں نے یہ شعر کہا تھا

‎کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

‎ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

‎صدرمملکت مضمون ضرور لکھیں اور اپنی نکتہ آفرینی بھی فرمائیں لیکن جس بپتا کو انہوں نے تحریر کیا، ان کے منصب کا اصل تقاضا یہ ہے کہ وہ قانون سازی کرائیں، ایسے رجحانات کے تدارک کے لئے ضابطوں کو موثر بنانے کی طرف توجہ دیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *