مقدس بندھن


وقت کے ساتھ ساتھ اقدار کا بدلنا سماج کا ارتقائی عمل ہے۔ یہ نہ رکا ہے اور نہ ہی آئندہ اسے روکا جاسکے گا۔ لیکن ہمیں سوچنا چاہیے کہ سماجی اقدار کے ارتقا ء میں کیا ہمیں اپنی اُن بنیادی روایتوں کو بھی تبدیل کردینا چاہیے جن پر اس سماج کی بنیاد کھڑی ہے؟ یقیناًنہیں، لیکن افسوس کہ ایسا ہی ہورہا ہے۔ بہرحال موجودہ دور کے اہم ترین مسائل میں شادی، ایک سماجی عفریت بلکہ بچوں کے رشتوں کا معاملہ تشویشناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے۔

جو بیٹیوں کی جوانی اور ان کے جذبوں کو نگلتا جا رہا ہے۔ جس نے والدین کی نیندیں اچاٹ کردی ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ لڑکے والوں کے پاؤں کی جوتیاں لڑکی والوں کے گھر کے چکر لگاتے لگاتے گھس جاتی تھیں تب کہیں جاکر لڑکی والے ہاں کرتے تھے۔ اور اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ لڑکیوں کی شادی کی عمر گزر جاتی ہے لیکن اچھا بَر نہیں ملتا۔

اس دور میں اچھے رشتے نہ ملنے کا سب سے بڑا سبب خود ہمارا دو رُخا معیار ہے۔ اب اگر ہم اپنے بیٹوں یا بیٹے کے لیے رشتہ تلاش کرتے ہیں تو لڑکی اور اُس کے گھرانے کا ایک بلند معیار اپنے ذہن میں قائم کرلیتے ہیں۔ یہ معیار خود ہمارے اپنے سماجی معیار سے بھی کہیں بلند ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم خود اپنی بیٹی یا بیٹوں کے لیے آنے والے رشتے کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمارے معیار بالکل بدل جاتے ہیں۔ رشتوں کی راہ میں عورت ہی عورت کی رکاوٹ ہے۔

ایک عورت لڑکے کی بھی ماں ہے اور لڑکی کی بھی۔ اپنی لڑکی بیاہتے ہوئے چاہتی ہے کہ اس کے گھر اور اس کی لڑکی میں کوئی نقص نہ نکالا جائے لیکن یہی عورت جب اپنے لڑکے کا رشتہ تلاش کرنے نکلتی ہے تو بیسیوں لڑکیوں کو مسترد کر آتی ہے کہ فلاں کی عمر زیادہ ہے، فلاں کا رنگ گورا نہیں، فلاں کا قد چھوٹا ہے، فلاں کے باپ کا سٹیٹس معمولی ہے، فلاں یہ فلاں وہ۔ لڑکی دینے اور لڑکی لانے والی یہ ایک عورت کے دو روپ دیکھ کر ”عورت ہی عورت کی دشمن“ محاورہ یاد آجاتا ہے۔

دوسرے کئی مسائل کی طرح بیروزگاری بھی ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ بعض اوقات مناسب نوکری ملتے ملتے کئی سال گزر جاتے ہیں۔ تمام والدین کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بیٹی کو کوئی برسرروزگار رشتہ ملے۔ والدین اپنی اولاد کے لئے بہتر سے بہتر شریک حیات کی تلاش کرنے کی جستجو میں کئی معقول اور قابل قبول رشتے ٹھکرا دیتے ہیں۔ نتیجہ میں بچیوں کی عمر بڑھتی جاتی ہے لیکن ان کا معیار نہیں ملتا۔ یہاں تک کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی عمریں زیادہ ہوجاتی ہیں۔

تب جاکر والدین کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے اور موزوں رشتے ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔ والدین اچھے اور مناسب رشتوں کی راہ تکتے رہتے ہیں اور اس دوران بیٹیوں کے سروں پر چاندی اتر آتی ہے۔ پھر نوبت یہاں تک آ جاتی ہے کہ جو رشتہ بھی آتا ہے وہ یہی کہتا ہوا نظرآتا ہے کہ ہمیں تو اپنے بیٹے کے لئے کمسن لڑکی کا رشتہ چاہیے۔ ذرا سوچیے! کہ اس صورتِ حال میں اُن والدین کی کیا حالت ہوتی ہوگی جن کی بیٹیاں ہاتھ پیلے ہونے کے انتظار میں گھر کی دہلیز پر بیٹھے بیٹھے ہی بوڑھی ہوئی جارہی ہیں۔

یہ ایسا سنگین سماجی مسئلہ ہے جس نے ہماری معاشرتی جڑوں کے اندر مادیت اور مفاد پرستی سرایت کرجانے کا ثبوت فراہم کردیا ہے۔ اکثر اوقات بیٹی کے والدین بھی حد کر جاتے ہیں، ان کی سوچ ہوتی ہے جتنا جہیز دیں گے اتنا سسرال پر دباؤ رہے گا اور بیٹی کو تنگ نہیں کیا جائے گا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں مال وزر سے گھر آباد نہیں ہوتے، بلکہ بیٹیوں کی اچھی تربیت اور مرد کے اچھے کردار سے گھر آباد ہوتے ہیں۔ گھر محبت، ایثار اور باہمی اعتبار اور اعتماد سے بنتے ہیں، اپنی اولادکو ایک دوسرے کو تسلیم کرنے، قبول کرنے کی عادت سکھائیں، گھر خود بخودبن جائیں گے اور جہیزدینے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔

اس کے علاوہ لڑکوں کے حد سے زیادہ نخرے بھی لڑکیوں کے بروقت رشتوں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ خواہ مخواہ کی فرمائشوں کے نام پر لڑکی والوں کا استحصال بھی ایک وجہ ہے۔ بروقت شادی کے راستے میں بہت ساری رکاوٹیں ہیں، جن میں سر فہرست جہیز اورذات پات کو گردانا جاتا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ یہ سب عورت کے حصے میں آیا ہے۔ جبکہ جہیز کی ڈیمانڈ کرنے والے مرد کا کردار ”مردانہ طوائف گردی“ تو ہو سکتی ہے لیکن اس کا شرافت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

شرفاء کے ہاں اپنے بیٹوں کی قیمتیں نہیں لگائی جاتیں۔ مگر جہاں مادی ترقی کے نام پربہت کچھ بدل گیا وہیں، رشتے داریوں کے انداز بھی بدل گئے، جس وجہ سے معاشرے میں کنواری بیٹیوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ کچھ لڑکی والوں کی طرف سے بھی ایک عجیب وجہ دیکھنے میں آتی ہے کہ ایسی تمام کامیابیاں پچیس تیس سال عمر کے لڑکے میں تلاش کرکے وقت ضائع کرتے رہتے ہیں، جو انسان کو کہیں پچاس سال تک مشکل سے ملتی ہیں۔ جیسا کہ اپنا مکان، اونچا عہدہ، اپنی گاڑی، تنخواہ کم ازکم ایک لاکھ نہیں تو قریب قریب ہو۔

لڑکیوں نے بھی آنکھوں میں شادی کے ہزاروں خواب سجائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ ہر لڑکی کو اس کے خوابوں کا شہزادہ نہیں ملتا، جو حسین و جمیل ہو، شریف النفس ہو اور مال و دولت بھی بے تحاشا ہو۔ نہ ہر لڑکے کو حسن کی دیوی شریک حیات، صورت اور سیرت میں اچھائی کے تمام تقاضوں کے عین مطابق اور امیر ترین سسرال مل سکتا ہے۔ دونوں خاندانوں کی مالی حیثیت، رہن سہن، رسم و رواج، تعلیم و تربیت میں مطابقت دیکھیں، مگر ان میں دونوں طرف سو فیصد مطابقت ضروری نہیں، نہ ایسا ممکن ہے۔ شکل وصورت میں بھی تھوڑی لچک دکھانے کی ضرورت ہے، تبھی بروقت لڑکوں کے رشتے ہوں گے اور لڑکیوں کے والدین بھی اپنے فرائض کو انجام دے سکیں گے۔

لڑکا، لڑکی اور دیگر مسائل کے علاوہ کچھ ایسے والدین بھی لڑکیوں کی شادی میں خود رکاوٹ بن جاتے ہیں، جو اٹھائیس سال تک بھی لڑکیوں کو کم عمر تصور کرتے ہیں اور رشتے کی تلاش تاخیر سے ہوتی ہے۔ جس کے باعث شادی بھی لیٹ ہوجاتی ہے، کیوں کہ دوسری طرف لڑکے کم عمر لڑکیوں کی تلاش میں ہوتے ہیں اور زیادہ عمر کو پسند نہیں کرتے۔ ایک وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ جب مائیں اٹھارہ بیس سال عمر ہونے پر رشتے کی تلاش شروع کردیتی تھیں، جو لیٹ ہوتے ہوتے بھی پچیس سال تک فرض سے بری الذمہ ہوجاتی تھیں۔ والدین جو اپنی بیٹی تو خوشی خوشی اپنے رشتہ داروں میں بیاہ دیتے ہیں، مگر جب بات لڑکے کی ہوگی تو پھر خاندان کی کوئی اچھی بھلی لڑکی بھی نہیں بھاتی۔

ہمارے معاشرے میں لڑکا رنڈوا ہو یا دوسری شادی کا خواہشمند ہو یا دو چار بچوں کا باپ بھی ہے تو بھی رشتہ کنواری اور کم عمر لڑکی کا ڈھونڈا جاتا ہے۔ یہاں تو ایسی ایسی بھی مثالیں ہیں کہ ستر سال کے آدمی کو اپنا بڑھاپا سنبھالنے یا پھر سنوارنے کے لئے تیس یا پینتیس سال ہی کی دوشیزہ چاہیے۔ کیا ہمارے معاشرے میں ان رنڈووں کے لئے مطلقہ، بیواؤں یا بن بیاہی عورتوں کی کمی ہے؟ ہم نے بیواؤں، مطلقہ اور بن بیاہی لڑکیوں کے بارے سوچنا کیوں چھوڑ دیا؟

اس سے بھی تکلیف کی بات یہ ہے کہ ہم نے ان کا جینا اس قدر مشکل کر رکھا ہے کہ وہ محض زندہ لاشیں ہی رہ جاتی ہیں۔ ایک طرف تو اپنوں کے طعنے ہی ان کی برداشت سے باہر ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان پر ترس کھانے والے لوگ انہیں لمحہ لمحہ ان کی محرومی کا احساس دلائے رکھتے ہیں۔ ایسے جیسے وہ خود ہی اپنی تقدیر کے لکھے کی زے دار ہیں۔ تنہا رہنے والی غیر شادی شدہ لڑکیوں، مطلقہ یا بیواؤں کی زندگی جس کرب اور تکلیف میں گزرتی ہے اس کا اندازہ بھی کرنا مشکل ہے۔

بیوہ ہو جانے پر تو اکثر خواتین کو سسرال والے جائیداد میں حصہ نہ دیتے ہوئے انہیں گھر سے ہی بے دخل کر دیتے ہیں۔ اس بات کی انہیں ذرا برابر بھی پروا نہیں ہوتی کہ ایک تنہا عورت اپنے بچوں کے ساتھ کس طور گزر بسر کا بندوبست کر پائے گی۔ یہ ایک نہایت تکلیف دہ پہلو ہے۔ ان کی تکالیف کو بڑھاوا اس وقت ملتا ہے جب یہ معاشرہ انہیں اچھوت کا درجہ دے دیتا ہے۔

کبھی محسوس کریں وہ درد جو بن بیاہی، بیوہ یا مطلقہ ہو جانے والی لڑکیوں کے والدین کے کلیجے میں اٹھتا ہو گا اور وہ ماں باپ جن کے آنگن میں ابھی ایک چھوڑ دو، دو، چار چار بن بیاہی بیٹیاں بیٹھی ہیں۔ وہ کس طور اپنے اس دکھ کو سہار پاتے ہیں۔ اس کا تو ہم اندازہ ہی نہیں کر سکتے۔ آج کے دور میں تو صرف ایک بیٹی کا ماں باپ ہونا ایسا جرم عظیم بن چکا ہے جس کا مداوا نا ممکن ہے۔ ہمارے معاشرے میں شادی کے لئے لڑکیوں کے انتخاب کا طریقہء کار کچھ اس قدر غیر انسانی اور غیر مہذب ہو چکا ہے کہ بیوائیں، مطلقہ، عمر رسیدہ تو کیا نوجوان کنواری لڑکی بھی اس تناؤ اور کرب کو نہیں سہہ پاتی۔

اسلام میں نکاح کو صرف مرد وزن ہی نہیں بلکہ پورے سماجی زندگی کے تحفظ کا ضامن قرار دیا گیا ہے۔ شادی اسلام کی نظر میں ایک مُقدس رشتہ اور اللہ تعالیٰ کے افضل ترین بندوں کی سُنّت ہے۔ شادی ایک پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر کام وقت پر کیا جائے تو ہی اچھا لگتا ہے۔ اسی طرح شادی بھی اگر مناسب وقت پر کی جائے تو بہتر ہے۔ اس سے وجود میں آنے والا خاندان اپنے فرائض بہتر انداز میں سر انجام دے سکتا ہے۔

نیز وقت پر شادی کرنے سے بہت سے ایسے مسائل سے بھی بچا جاسکتا ہے جو تاخیر سے شادی کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ تیزی سے بیتتے وقت، گرتی، پھسلتی، سنبھلتی اور سہارے لیتی اور ڈھلتی جوانیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سرپرستوں کو بچوں کی جلدی اور وقت پر شادی کی فکر کرنی چاہیے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جانے آپ کی کل ہو یا نہ مگر آپ اپنی ذمے داری سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ ویسے بھی دیر کس بات کی اور تاخیر کیوں کرنی جب بچے جوان ہوچکے ہیں تو ان کے ہاتھ پاؤں پیلے کردینے چاہئیں۔

Facebook Comments HS