افسانہ دیوانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری بے ساختہ ہنسی کو کھوجتے کھوجتے تمہارے ہونٹوں پر ابھرنے والی دھیمی مسکراہٹ، تمہاری محبت سے لبریز پر سحر آنکھیں جن کا جادو میری روح تک کو تمہاری خوشبو سے معطر کر دیتاہے۔

تمہاری ہتھیلی پر موجود گہری لکیریں جن کا کوئی سرا بھی کبھی ہمیں ایک نہ کر پائے گا۔ تمہارا آبگینے کی طرح میرا خیال رکھنا اس خوف کے ساتھ کہ وقتی طور پر تمہارے بدلتے مزاج اور تلخ رویے کی ذرا سی ٹھیس میرے وجود کو کرچی کرچی کر دے گی۔

میرے وجود کو اپنی بانہوں میں ٹوٹتا ہوا دیکھنے کی شدید خواہش، مجھے جی بھر کر دیکھنے کی طلب، میری روح اور جسم پر حکومت کرنے کے جستجو، میرے وجود کو سرشاری کے کن مراحل میں داخل کر دیتی ہے، میری ذات پر کیا قیامت ڈھاتی ہے تم اس راز سے ناعلم ہو۔

تمہارا اس راز سے نا واقف رہنا ہی میری کامیابی ہے کیونکہ محبتوں کا اظہار تجسس کی موت ہوتا ہے۔

تعلقات میں سے خوش فہمیوں اور خوش گمانیوں کو نگل کر لاپرواہیوں اور بیزاریوں کے بیچ بو دیتا ہے۔ میں اس تعلق میں موجود خوشیوں اور خوابوں کے رنگوں کو پھیکا پڑتا ہوا نہیں دیکھ سکتی۔

تمہارا معصوم بچے کی طرح محبت کے اظہار کے لیے الفاظ کی شکل میں تائید کا چاہنا اور میری طرف سے ملنے والی گہری خاموشی کو انکار کے ساتھ منسلک کرکے اداس ہو جانا مجھے مغرور کرتا ہے۔ مجھے چاہے جانے کے نشے میں مبتلا کرتا ہے۔

میں اپنی زندگی کے چند خوشگوار لمحے تمہارے مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں، تمہارے کاندھے پر سر رکھ کر گزارنا چاہتی ہوں۔

میں چاہتی ہوں کے اس تعلق کی نوعیت تم پر چند بدمزہ الفاظ کی شکل میں نہیں بلکہ میری دیوانگی کی شکل میں عیاں ہو جو تمہیں چھونے کے بعد مجھ پر طاری ہوگی۔ مجھے اس بات سے کوئی گلہ نہیں کہ تم اسے تاخیر کو میری بے اعتنائی سمجھو یا اسے میری خودپرستی سے منسلک کر بیٹھو۔ یہ تو تم سے بچھڑ جانے کے خوف کی انتہا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ میں اس تعلق کی بے وقت موت نہیں چاہتی، میں تمھیں کھونا نہیں چاہتی۔ میں پھر سے بکھرنا نہیں چاہتی۔

میں اس شدید محبت اور چاہے جانے کے غرور کے نشے میں، تاحیات مستی اور سرشاری کے عالم میں، تمہیں اپنی طلب کی کیفیت میں جھومتا دیکھ کر، ننگے پیر رقص کرنا چاہتی ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وجیہہ جاوید کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *