ناٹک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وحید اور شہناز دونوں میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ شش و پنج میں، گھبرائے گھبرائے، اُداس اُداس، پریشان پریشان سے، اس سے پہلے میں نے کبھی انہیں ایسا نہیں دیکھا تھا۔ وہ ہمیشہ ہنستے ہنساتے ہوئے آتے۔ ہمیشہ مسکراتے ہوئے، ایک دوسرے کو ستاتے ہوئے، ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے، دونوں میاں بیوی سے زیادہ دو شریر دوست لگتے تھے۔ یہ ایک عجیب بات تھی کہ جب بھی وہ میری کلینک میں آتے، میری کلینک جیسے روشن ہوجاتی، ایک عجیب طرح کی خوشی، ایک مستی کا سا احساس ہوتا تھا ان کے آنے پر۔

میری بھی کوشش ہوتی کہ وہ میرے کمرے میں بیٹھے ہی رہیں اور میں ان سے گپ شپ مارتا رہوں۔ وہ جوڑا تھا ہی اس قسم کا۔ یہاں تک کہ میری سیکریٹری کا بھی خیال تھا کہ جب وہ دونوں آتے ہیں تو مریضوں کی تعداد بھی بڑھ جاتی ہے۔ میری سیکریٹری تھی تو عیسائی لیکن اسے اس طرح کی باتوں پر بڑا اعتقاد تھا۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک خاص قسم کی کشش ہوتی ہے، وہ ہر ایک کو اچھے لگتے ہیں، ہر ایک ان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ ایسے لوگوں سے بلیسنگ ہوتی ہے، ڈاکٹر یہ لوگ اچھا لوگ ہوتا ہے، وہ ہمیشہ کہتی تھی۔

پہلی دفعہ وہ دونوں تقریباً دو سال قبل میرے پاس آئے تھے، ان کی شادی کو پانچ سال ہوچکے تھے۔ شروع کے دو سال تو انہوں نے کوئی فکر ہی نہیں کی، لیکن بعد میں گھر، پڑوس، محلہ اور رشتہ داروں کے دباؤ میں آکر انہوں نے علاج شروع کردیا۔ انہی تمام طریقوں سے جو پاکستان اور پاکستان جیسے ملکوں میں رائج ہے۔ حکیمی علاج، ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کا علاج، ایلوپیتھک ڈاکٹروں کا علاج، بیچ بیچ میں دُعائیں، تعویز، دیسی ٹوٹکے وغیرہ وغیرہ۔ کئی جوڑے جن میں بنیادی طور پر کوئی خامی نہیں ہوتی ہے اس علاج کے دوران خود بخود ہی والدین بن جاتے ہیں اور کچھ جوڑے جن میں خرابی ہوتی ہے اگر ان کا صحیح علاج ہوجائے تو ان کا مسئلہ حل ہوجاتا ہے اور اگر صحیح علاج نہ ہو تو وہ بھٹکتے ہی رہتے ہیں۔

تین سال تک مختلف ماہرین اور غیر ماہرین سے علاج کرانے دعا تعویز اور ہزاروں روپے برباد کرنے کے بعد وہ دونوں میرے پاس پہنچے تھے۔ میاں بیوی دونوں کے تمام ٹیسٹ ہوئے، جن سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ خرابی شہناز میں ہے اور شاید ایسی خرابی ہے جس کا علاج ذرا مشکل ہی تھا۔

مجھے لیپرواسکوپی کرنی پڑی جس میں پیٹ کے اندر ایک چھوٹا سا کیمرہ ڈال کر دیکھتے ہیں کہ بچہ دانی، بیضہ دانی اور دونوں ٹیوب بالکل ٹھیک ہیں۔ مگر وہ ٹھیک نہیں تھے۔ ان سب کے درمیان خون جما ہوا تھاکہ شہناز کو بہت بگڑی ہوئی اینڈومیٹریوسس تھی۔ اینڈومیٹریوسس ایک ایسی بیماری ہے جو پانچ سے دس فیصد عورتوں کو ہوسکتی ہے۔ اس بیماری میں بغیر کسی معلوم وجہ کے عورت کے پیٹ کے اندر بچہ دانی اور بیضہ دانی کے چاروں طرف خون کے ایسے خلیے جمع ہوجاتے ہیں جو صرف بچہ دانی کے اندر ہوتے ہیں اور ہر مہینے کی تاریخوں کے ساتھ ان میں بھی ذرا ذرا سا خون رستا رہتا ہے۔

عام طور پر لڑکیاں مہینے کی تاریخ کے ساتھ درد کی شکایت کرتی ہیں مگر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ لڑکیوں کو کوئی شکایت نہیں ہوتی اور ان کی زندگی بظاہر بالکل نارمل ہوتی ہے۔ ایسی بیماری میں حمل کے ٹھہرنے کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس بیماری کے باوجود حمل ٹھہرجاتا ہے اور اگرحمل ٹھہرجائے تو ایک طرح سے حمل کے دوران بننے والے ہارمون اس بیماری کا علاج کرڈالتے ہیں۔ یعنی حمل ایک طریقہ علاج بھی ہے مگر حمل ٹھہرنا ہی تو ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔

حمل کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے طریقہ کار سے ان کا علاج کرایا جائے۔ مگر مشکل یہ ہے کہ دنیا کے بہت ہی اچھے مراکز میں بھی کامیابی بیس تیس فیصد سے زیادہ نہیں۔ وحید اور شہناز کھاتے پیتے گھرانے کے لوگ تھے، اچھا کاروبار تھا۔ روپوں پیسوں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ وہ میری باتوں سے مطمئن بھی ہوگئے اورمیرا مشورہ مانتے ہوئے وہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے طریقہ علاج کے لیے سنگاپور بھی چلے گئے تھے۔

سنگاپور بھی خوب شہر ہے، چھوٹی سی جگہ پر حکمرانوں کی دیانتداری کی وجہ سے بیسویں صدی کا معجزہ رونما ہوا ہے۔ جو بھی چیز ہے بے انتہا ترقی یافتہ شکل میں ہے۔ کمپیوٹر کے مراکز سے لے کر ہسپتال تک اور تجارت سے لے کر صنعت تک، سنگاپور نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے اوراکیسویں صدی میں نہ جانے کہاں پہنچ جائے گا۔ آج کے سنگاپور میں بانجھ پن کے علاج کے زبردست مرکز میں جو یورپ امریکہ جیسے ہی ہیں بلکہ شاید ان سے بھی اچھے۔

وحید اور شہناز سنگاپور میں چھ مہینے رہے۔ ان کا علاج بڑے اچھے طریقے سے ہوا اور چار سائیکلوں میں کوشش کی گئی مگرکسی انجان وجہ کی بناء پر حمل ٹھہر کر آگے نہیں بڑھ سکا۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی ابھی تک بہت سے مسائل نہیں حل کرسکی ہے، بہت سے مرحلے باقی ہیں۔ علاج کی ناکامی پر ان کے ساتھ ساتھ مجھے بھی بہت افسوس تھا۔

وحید اور شہناز جہاں خوبصورت شخصیتوں کے مالک ہیں وہاں ایک دوسرے سے شدید محبت بھی کرتے ہیں۔ وحید تین بہنوں میں ایک بھائی تھا، باپ کے مرنے کے بعد سارا کاروبار اس نے ہی سنبھال لیا تھا اور خوب ڈھنگ سے یہ کاروبار چلابھی رہا تھا۔ صرف ایک بچے کی کمی تھی اس ہنس مکھ خوش باش گھرانے میں۔

شہناز کی ماں وحید کی ماں کی دور کی رشتہ دار بھی تھی اور وحید کی ماں کی بہترین سہیلی بھی۔ ان دونوں کی ہی مرضی سے یہ شادی طے ہوئی اور بڑے چاؤ سے وحید کی ماں شہناز کو بیاہ کر گھر لائی تھی۔ یہ خاندان خوش و خرم رہ رہا تھا مگر اولاد نہ ہونے کی بناء پر حمید کی ماں بڑی ناخوش رہتی تھی۔ اس شادی کا اس کی نظر میں اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں تھا کہ حمید کے بچے ہوں اورجلداز جلد ہوجائیں۔ اس کی ہی وجہ سے شادی کے تین مہینے کے بعد سے ہی علاج شروع کردیا گیا تھا۔

آج بہت دنوں کے بعد وہ دونوں پھر آئے، ان کے آنے سے جو ایک اچھا سا احساس ہوتا وہ تو خیر تھا ہی مگر ان کی ہراساں شکل دیکھ کر میں بھی تھوڑا پریشان سا ہوگیا تھا۔

خیر تو ہے۔ میں نے پوچھا تھا۔

نہیں خیر نہیں ہے ڈاکٹر صاحب۔ وحید نے کہا۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب تمام علاج ہوچکے اور تمام علاج میں ناکامی بھی ہوچکی ہے اوراب میری ماں کا مطالبہ ہے کہ میں دوسری شادی کرلوں تاکہ میرے گھر میں بچے ہوں، انہیں پوتے پوتیوں کی ضرورت ہے۔ مگر میں ایسا نہیں چاہتا۔ میں کبھی بھی دوسری شادی نہیں کروں گا، مجھے شہناز سے محبت ہے، میں اس کے بغیر کسی دوسری عورت کے ساتھ بغیر محبت اور بہت سارے بچوں کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ وہ تقریباً روہانسا ہوگیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو چھلکنے جیسے ہورہے تھے۔

ڈاکٹر صاحب، دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ گھر میں بچے ہوں مگر دوسری عورت اور سوکن کے ساتھ میں کیسے زندگی گزاروں گی۔ میں بھی اس خاندان میں خوشیاں چاہتی ہوں مگر خوشی کس بنیاد پر۔ پتہ نہیں ہماری قسمت میں یہ کیوں لکھا ہوا ہے۔ کوششیں تو ساری کرلی ہیں اور کیا کرسکتے ہیں۔ آپ کو تو اندازہ ہوگا ان تکالیف کا جو ہم لوگوں نے اٹھایا ہے۔

مجھے پورا انداز ہ تھا کیونکہ میں کام ہی یہی کرتا ہوں۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے طریقہ علاج میں ہر مرحلے پر عورت کو ہی سب سے زیادہ تکلیف ہوتی ہے، وہی سب سے زیادہ پریشان ہوتی ہے اور علاج کے ناکام ہوجانے کی صورت میں سب سے زیادہ پریشانی اور فیل ہوجانے کا احساس بھی اس ہی کو ہوتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ بانجھ پن ایک جوڑے کا مسئلہ ہوتا ہے لیکن اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے عام طور پر سب سے زیادہ تکلیفیں اور کشٹ صرف عورت ہی اٹھاتی ہے۔

ایڈاپشن کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ہزاروں لاکھوں بچے دنیا میں بغیرماں باپ کے رہ رہے ہیں، اگر ان میں سے کوئی آپ لوگ لے لیں تو آپ لوگوں کا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور بچے کو نئی زندگی مل جائے گی۔ میں نے تجویز کیا۔

نہیں ڈاکٹر صاحب بالکل نہیں، ماں کو یہ قبول نہیں ہے، وہ یہ کہتی ہیں کہ بچہ ان کو میرا چاہیے۔ ایڈاپشن سے خاندان تھوڑی آگے بڑھتا ہے اور اب تو انہوں نے رونا دھونا شروع کیا ہوا ہے۔ میری بہنیں میری بات سمجھ رہی ہیں، لیکن وہ بھی ماں کو صاف صاف نہیں کہہ سکتی ہیں۔ زندگی بڑی خراب ہوگئی ہے ڈاکٹر صاحب۔ اگر آپ نے ہماری مدد نہیں کی تو مجھے ماں یا بیوی کسی ایک کا فیصلہ کرنا پڑے گا۔ ماں میری بات سننے کو ماننے کو تیار نہیں ہیں اور دوسری شادی میں کبھی بھی نہیں کروں گا پھر یہی کرنا ہوگا کہ میں ماں کو چھوڑ کر کہیں اور چلا جاؤں یا پھر آپ ہمارے لیے کچھ کریں۔ وحید نے تقریباً روتے ہوئے کہا۔

مگر میں کیا مدد کرسکتا ہوں۔ علاج کا ہر طریقہ آزمایا جاچکا ہے۔ میں نے غور سے ان دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔

ڈاکٹر صاحب ہم بڑی امیدوں سے ایک منصوبہ بنا کر آئے ہیں لیکن آپ کی مدد کی ضرورت ہے، اگر آپ مدد کریں گے تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ شہناز نے رُک رُک کر مجھ سے کہا۔

ان کا منصوبہ عجیب و غریب تھا۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ شہناز گھر میں اعلان کردے کہ وہ حمل سے ہے، پھر شروع کے تین چار مہینے گھر میں اُلٹیاں ہونے کی ایکٹنگ کرے اور چار مہینے کے بعد اپنے پیٹ پر چھوٹا سا تکیہ باندھ لے اور اپنی ساس کے ساتھ اپنا رجسٹریشن کرانے کے بعدمیرے کلینک میں چیک اپ کرائے۔ خاندانی قاعدے کے مطابق وہ حمل کے وضع ہونے تک اپنی ماں کے گھر چلی جائے اور نو مہینے کے بعد وہ میری زیرِنگرانی ہسپتال میں داخل ہوجائے جہاں اس کو ایڈاپٹ کیا ہوا نوزائیدہ بچہ دے دیا جائے اس کے بعد پھر وحید کی ماں اور بہنوں کو بچہ کی ولادت کی خبر کی جائے۔ اس طرح سے ہمارا خاندان، ہماری شادی، ہماری محبت سب کچھ محفوظ ہوسکتی ہے۔

میں حیران رہ گیا۔ میری پوری پیشہ ورانہ زندگی میں اس قسم کا جوڑا میں نے نہیں دیکھا تھا، میں نے بہت ساری عورتیں دیکھی تھیں جو حمل کے لیے نہ جانے کن کن علاج کے مراحل سے گزرنے کے لیے تیار تھیں لیکن وحید کی شکل میں میں نے یہ پہلا مرد دیکھا تھا جس میں کوئی خرابی نہیں تھی جو دوسری عورت بیاہ کر لانے کے بجائے جو اپنی دوست، بیوی کی محبت میں ایک پورے ناٹک کا کردار بننے کے لیے تیار تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ خود اس ناٹک کا تخلیق کار تھا۔

ڈاکٹر صاحب ہم دونوں اور آپ کے علاوہ میری ساس اور کسی کو بھی اس ڈرامے کا کبھی پتہ نہیں چلے گا۔ میں نے شہناز کی امی سے بات کرلی ہے، وہ ہمارے ساتھ آئی بھی ہیں اور باہر بیٹھی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اس احسان کوہم کبھی بھی نہیں بھولیں گے۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ہمارے پاس۔ میں اپنی ماں کو چھوڑ کر خوش نہیں رہوں گا اور بغیر بچے کے ساتھ رہنے میں روزانہ کی تلخی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ کبھی کبھی وہ شہناز کو نہ جانے کیا کیا کہہ دیتی ہیں مگر وہ ماں ہیں میں انہیں کچھ کہہ نہیں سکتا ہوں۔ لیکن اس چھوٹے جھوٹ سے جو صرف ایک بار بولا جائے گا ہماری زندگی بدل سکتی ہے۔ وحید نے بڑی بے چارگی سے کہا۔

میں سوچتا رہا تھا پھر میں نے کہاکہ دیکھو آنے والے کل کا کوئی بھروسا نہیں ہے، کسی وجہ سے آپ دونوں میں لڑائی ہوگئی اور مسئلہ طلاق وغیرہ تک پہنچ گیا تو آپ دونوں میں سے کوئی بھی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ بچہ کا ہم سے کوئی تعلق نہیں تو پھر آپ لوگوں کا وہ بچہ کہاں جائے گا؟ کبھی سوچا بھی ہے آپ نے؟ اپنے ذہن میں آئے ہوئے فوری اندیشے کو میں نے ان کے سامنے رکھا تھا۔

بہت سوچا ہے، ڈاکٹر صاحب، بہت سوچا ہے۔ دونوں ایک ساتھ بول پڑے پھر وحید نے کہا ڈاکٹر صاحب میں شہناز سے الگ ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا لیکن اگر خدانخواستہ ایسا کچھ ہو بھی گیا تو اس میں بچے کا کیاد وش ہوگا، ایسا تو ہمارے اپنے بچے ہوں تب بھی ہوسکتا ہے۔ نہیں ڈاکٹر صاحب ایسا نہیں ہوگا، کبھی بھی نہیں اور اگر ایسا ہوا بھی تو یہ میرا ہم دونوں کا وعدہ ہے کہ اس بچے کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، اتنا تو بھروسا کریں آپ ہم دونوں پر۔

میں اس کے لہجے کی سچائی سے متاثر ہوگیا۔ پھر سب کچھ ان کی مرضی سے ہی ہوا۔ شہناز نے غضب کی ایکٹنگ کی تھی، اسے اُلٹیاں شروع ہوگئی تھیں، پھر حمل کے ٹیسٹ کا اعلان کیا گیا، وہ اپنی ساس کے ساتھ میرے کلینک میں بکنگ کے لیے آئی۔ میں نے ہی بتایا کہ الٹراساؤنڈ کی رپورٹ بالکل صحیح ہے۔ اپنی ساس کے سامنے شہناز نے کہہ دیا کہ اسے نہیں پتہ کرنا کہ لڑکا ہے یا لڑکی ہے، اسے سسپنس ہی رہنا چاہیے، پیدا ہونے کے بعد جو بھی ہوگا اسے قبول ہوگا، بس دُعا کریں ڈاکٹر صاحب جو بھی ہو صحت مند ہو، ذہین ہو کوئی خرابی نہ ہو اس میں۔ غضب کی ایکٹنگ کررہی تھی وہ میں عش عش کیے بغیر نہ رہ سکا۔

تمہارے بچوں کو تمہاری ہی طرح ذہین ہونا چاہیے۔ میں نے مسکرا کر کہا تھا۔

پھر وہ اپنی ماں کے گھر چلی گئی، بقیہ مہینے آہستہ آہستہ گزر ہی گئے۔

نواں مہینہ شروع ہونے کے ساتھ ہی ہم لوگوں نے بچے کی تلاش شروع کردی، مجھے یقین تھا کہ وقت پر یہ بچہ مل بھی جائے گا، پھر کرنا خدا کا یہ ہوا کہ نواں مہینہ کے بیچ کے دن ہی تھے کہ رات تین بجے مجھے ہسپتال سے فون آیا کہ ایک ماں اپنی ساتویں لڑکی کی پیدائش کے بعد اسے ہسپتال چھوڑ کر چلی گئی ہے، غریب مائیں جوخاندان، سماج اور شوہر کے دباؤ میں لڑکا پیدا کرنے کے لیے بار بار حاملہ ہوجاتی ہیں اور جب لڑکی ہوتی ہے تو اسے ہسپتال میں ہی چھوڑ کر چلی جاتی ہیں، عورت پر کتنا بوجھ ہے اور مجھے لگتا نہیں ہے کہ ہمارے ملکوں میں یہ بوجھ کبھی بھی کم ہوسکے گا، کبھی بھی ختم نہیں ہوسکے گا۔ عورت کو ہی دکھ اُٹھانے ہوں گے، اسے ہی سوکن برداشت کرنا ہوگی، اسے ہی جعلی طور پر حاملہ ہونا ہوگا، اسے ہی لڑکے کی تلاش میں بار بار حمل سے ہونا ہوگا اورپیدا ہوتے ہی اسے اپنی ماں سے جدا ہونا ہوگا۔ کیسے لوگ ہیں ہم لوگ۔ کیسا سماج ہے ہمارا۔

پروگرام کے مطابق وحید اور شہناز کو فون کرکے میں نے ہسپتال بلالیا، شہناز کو وہ بچی سونپ دی گئی اور وحید نے اپنی ماں کو یہ خوشخبری سنائی اور صبح ہونے کے بعد انہیں زچہ کے پاس لے آیا۔

دوسرے دن صبح ہسپتال کے اس کمرے میں شہناز اپنی بچی کو گلے لگائے لیٹی ہوئی تھی، کمرہ غباروں، کیک، مٹھائی اور مختلف قسم کے پھولوں سے بھرا ہوا تھا، میں نے ماں بچی کو دو دنوں کے بعد ہسپتال سے گھر بھیج دیا تھا۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر وحیداور شہناز دوبارہ میرے پاس آگئے کہ ڈاکٹر صاحب بڑا مسئلہ ہوگیا ہے، ماں پیچھے پڑگئی ہے، کہتی ہے کہ اگر لڑکا نہیں ہوگا توخاندان کیسے بڑھے گا، لڑکے کے لیے دوسری شادی کرنا ضروری ہے اور میں دوسری شادی نہیں کرنا چاہتا ہوں، نہیں کروں گا۔ ہمیں دوبارہ سے ناٹک کرنا ہے، ڈرامہ رچانا ہے ایک دفعہ اور صرف ایک دفعہ ایک لڑکے کے لیے۔ میں کیا کروں میری ماں مانتی ہی نہیں ہے۔ تو میں کروں گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کروں گا میں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *