چائینہ میں سال نو، رسومات و تقریبات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کرہ ارض پہ انسان کا سفر ہزاروں سالوں پر محیط ہے۔ یہ سفرحصول بقا کے لئے کیا گیا اور کبھی کسب معاش جیسے مسائل درپیش رہے۔ اس سفر کا ایک بڑا محرک جستجو کا وہ مادہ بھی تھا جس نے آج کے انسان کو چاند اور مریخ کی سطح تک پہنچنے پر اکسایا۔ یہی ہجرتیں انسانوں میں متنوع عادات و اطوار کا موجب بنیں۔ انسان نے ہزاروں سال کی محنت سے اپنے مسکن حیات کو جنت ارضی بنا دیا۔ اولاد آدم آج مختلف قبائل اور نسلوں میں بٹ چکی ہے۔

انہی نسلوں اور قبیلوں نے آگے چل کر مختلف ممالک کو جنم دیا۔ جہاں یہ ممالک جغرافیائی پہچان رکھتے ہیں وہاں ان میں بسنے والی اقوام تہذیب و ثقافت میں بھی انفرادیت رکھتی ہیں۔ جو وہاں پہ بولی جانے والی زبانوں، رسم و رواج، میلے ٹھیلوں اورطور طریقوں سے جڑی ہے۔ نئے سال کا آغاز اور اس سے منسلک تقریبات اپنی مثال آپ ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو دنیا بھرمیں مختلف کیلنڈر رائج ہیں اور انہی کو مدنظر رکھ کر نئے سال کا آغاز و اختتام ہو تا ہے۔ جارجین کیلنڈر کے حساب سے یکم جنوری سال نو کی نوید سناتا ہے تو اسلامی یا ہجری کیلنڈر کے حساب سے ماہ محرم سے نئے سال کا آغاز ہو تا ہے۔

ہمارا ہمسایہ ملک چین جو کہ دنیا کی سب سے بڑی آبادی کا مسکن ہے بھی بہت ہی خوبصورت تہذیب و ثقافت اور روایات کا امین ہے۔ جس طرح دنیا بھرمیں جارجین کیلنڈر کے مطابق یکم جنوری کو سال نو کی خوشی میں تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے اسی طرح چینی باشندے بھی اس روز نصف شب کے انتظار میں جاگتے ہیں۔ تمام چھوٹے بڑے شہر آتش بازی و دیگر تقریبات سے روشن ہوتے ہیں۔ لیکن ٹھہریے! کیایہی چینیوں کا نیا سال ہے؟ نہیں جناب!

یہ وہ خوشیاں ہیں جو چینی لوگ دیگر اقوام عالم کے ساتھ مناتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر تعجب ہو گا کہ اہل چین اپنے نئے سال کا آغاز چاند کی حرکت سے کرتے ہیں۔ مگر رویت ہلال کے لئے انہیں کسی کمیٹی کی ضرورت درپیش نہیں ہو تی۔ اس لیے مروج چینی کیلنڈر کو قمری کیلنڈر کہتے ہیں۔ یہ سال بارہ ماہ پر محیط ہوتا ہے تو کبھی تیرہ ماہ پر۔ اس نئے سال کا آغاز ہر سال اکیس جنوری سے بیس فروری کے درمیان ہوتا ہے۔ سال رواں میں اس کا آغاز پچیس جنوری سے ہوا۔

اور اس سال کو چوہے کے سال کا نام دیا گیا۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ چینی کیلنڈر میں ہر سال کو ایک مختلف نام دیا جاتا ہے جو کہ کسی جانور سے منسوب ہوتا ہے۔ اور سال گزشتہ خنزیر کے نام سے منسوب تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان سالوں کو جانوروں کے ناموں سے منسوب کیوں کیا جاتا ہے؟ مختصراً یہ کہ چھٹی صدی میں بادشاہ سلامت کی طرف سے کی گئی ایک سال نو کی تقریب اور اس میں ان جانوروں کی شرکت اور بعد ازاں مقابلہ دوڑ، ان جانوروں کو رہتی دنیا تک چائینیز کیلنڈر میں امر کر گیا۔ یہ ٹوٹل بارہ جانور تھے جو کہ اس مقابلہ میں شریک ہوئے۔ اس لیے بارہ سال کے بعد ہر جانور کا سال خود کو دہراتا ہے۔

آئیے! اب اگر آپ چوہے کے سال میں زندہ ہیں اور چائینہ میں مقیم ہیں تو سال نو کی آمد پر آپ کو اس قسم کے مبارکبادی پیغامات موصول ہوں گے۔ آپ کو میری طرف سے کبھی نہ ختم ہونے والی چوہے کی خوشی، مسکراہٹ، رقم اور کمائی مبارک ہو۔ اور اس سال اگر آپ کے گھر میں ننھے مہمان کی آمد ہو تو وہ چوہے کی شخصیت کہلائے گی۔ اور چائینیز روایات کے مطابق مذکورہ شخص میں چوہے کی تمام خصلتیں موجود ہوں گی۔ جن میں سب سے اہم خصلت رات کو دیر سے سونا اور ہر طرح کے ماحول میں خود کو ایڈجسٹ کرنا ہے۔ یہ لوگ مالی طور پر منظم گردانے جاتے ہیں اس لیے مالی اتار چڑھاؤ سے خود کو محفوظ رکھتے ہیں۔ ان کی طرف سے اظہار محبت ملاوٹ سے پاک ہوتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جہاں سال نو قمری کیلنڈر کی بنیاد پر ترتیب پاتا ہے وہیں سپرنگ فیسٹیول یا جشن بہاراں شمسی کیلنڈر کے لحاظ سے منایا جاتا ہے۔ جشن بہاراں ہر سال فروری کی تین سے پانچ تک کی تاریخوں میں شروع ہوتا ہے۔ اس طرح سال نو اور جشن بہاراں کی تقریبات بیک وقت ہی ترتیب پاتی ہیں۔ دنیا بھر میں بسنے والے چینی باشندوں کا یہ سب سے بڑا تہوار گردانا جاتا ہے۔ یہ صرف چائینہ میں ہی نہیں بلکہ ویت نام، ہانگ کانگ، سنگاپور، تائیوان، سڈنی، نیو یارک، لنڈن، سان فرانسسکو اور دنیا بھر میں جہاں بھی چائینہ ٹاون ہیں اس تہوار کو پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ ایک محطاط اندازے کے مطابق تقریبا ً تین ارب لوگ ان دنوں میں ہجرت کرتے ہیں اور اس طرح یہ نسل انسانی کی سب سے بڑی قلیل مدتی ہجرت قرار پاتی ہے۔

آیئے اب بات کرتے ہیں ان رسومات کی، روایات کی اور ان سے منسلک ان توہمات کی جو اس تہوار کی آمد سے نسبت رکھتی ہیں۔ ویسے تو کسی بھی تہوار کے موقع پر گھروں کی صفائی ستھرائی ایک عام سی بات ہے لیکن چائینیز باشندے سال گزشتہ کی نحوستوں اور بد قسمتی کو اپنے گھروں سے نکالنے کے لئے گردوغبار کو گھر کے ہر کونے سے نکالنا ضروری خیال کرتے ہیں۔ یہاں تک خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی زرہ خاک باقی نہ رہ جائے جو کہ نحوستوں کی آماجگاہ بن سکے۔

لیکن یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صفائی ستھرائی سے منسلک تمام کام سال گزشتہ کے آخری دن تک سر انجام دے دیے جاتے ہیں کیونکہ سال نو کے پہلے دن نہانا، کپڑے دھونا، گھر کو صاف کرنا اور کوڑا کباڑ گھر سے باہر پھینکنا انتہائی برا تصور کیا جاتا ہے۔ اور دھونے سے مراد خوش قسمتی کو دیس نکالا دینا تصور کیا جاتا ہے۔ صفائی ستھرائی کے ساتھ گھر کو سجانے میں بھی خاص طور طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ تاریخ کا گھوڑا ہزار سال پیچھے ان کچی دیواروں کے سامنے جا کر رکتا ہے جنہیں سال نو کی آمد پر آڑو کی اس کنواری لکڑی (طاؤفو) سے سجایا جاتا تھا جسے کبھی کسی قلم نے بھی نہ چھوا ہوتا۔

زمانوں کی دھول طاؤفو کو اپنے ساتھ لے گئی جس کی جگہ اب سرخ رنگ کے نیک خواہشات سے مزین خاص ترتیب سے لگائے گئے کاغذ کے ٹکروں نے لے لی۔ اور یہ کپلٹس اب ہر درو دیوار پر آویزاں نظر آتے ہیں۔ اسی طرح اپنے گھروں کی حفاظت کی خاطر زمانہ قدیم میں لوگ بڑے بڑے جرنیل اور بادشاہوں کی تصاویراپنے گھروں کے دروازوں پہ آویزاں کرتے تھے اور ان کو دروازوں کے دیوتا کا درجہ دیتے تھے جبکہ زمانہ حال میں بہت سے لوگ اپنی تصاویر ہی مزیں کردیتے ہیں یہ خیال کر کے کہ اس سے بدقسمتی اور بری چیزیں گھر وں سے دور رہیں گی۔

اسی طرح نئے کپڑے پہننے کا رواج بھی کسی حد تک نظر آتا ہے لیکن یہاں یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس روایت کو عام قبولیت حاصل نہیں ہے۔ ہاں! البتہ اگر سال نو آپ کی پیدائش والا سال ہی ہے۔ یعنی آپ گھوڑے کے سال میں پیدا ہوئے تھے اور اب بارہ سال کے بعد دوبارہ گھوڑے کا سال ہے تو لوگ اپنی خوشیوں کا اظہار سرخ رنگ کا زیر جامہ اور اوورکوٹ پہن کر کرتے ہیں۔ اگر آتش بازی کی بات کی جائے تو دنیا بھر میں آتش بازی کا سب سے بڑا مظاہرہ بھی اسی موقع پر دیکھنے کو ملتا ہے۔

اگر ان تمام تقریبات کی ماں کسی تقریب کو کہا جائے تو بلاشبہ یہ اعزاز اس عشائیہ کو دینا پڑے گا جسے فیملی ری یونین ڈینر کہا جاتا ہے۔ خاندان بھر کے بچے، جوان اور بوڑھے سال بھر اس وقت کا انتظار کرتے ہیں جب عموما ہر خاندان کی تین نسلیں ایک ہی میز کے گرد بیٹھ کر کھانا تناول کرتی ہیں۔ آپ سال بھر جہاں بھی رہے ہوں، جتنا بھی دور ہوں ہر چینی باشندہ خاندان کے اس عظیم عشائیہ میں اپنی شرکت کو ضروری خیال کرتا ہے۔

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پزیر ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان دنوں میں وہ چینی لوگ جو خاندان سے کٹے ہوتے ہیں یا کسی با آمر مجبوری اپنے خاندان سے نہیں ملنا چاہتے تو وہ بھی ان چند دنوں کے لئے وقتی طور پر اپنی رہائش تبدیل کر لیتے ہیں یہاں تک کہ کچھ لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر ہوٹلز میں مقیم ہوجاتے ہیں۔ تاکہ خاندان سے ملن کا بھرم قائم رہے۔ اس کھانے کا اختتام، کھانے کی میز پہ ہونے والا شورو غوغا اور مشہور ٹی وی شو نیو ائیر گالا سے ہوتا ہے۔

چینی لوگوں میں سلامی دینا بھی ایک عام رواج ہے۔ ہمارے ہاں جو بچوں کو میلے ٹھیلوں پر نقد رقم یا عیدین پر عیدی وغیرہ دی جاتی ہے بالکل اسی طرح سے چین کے لوگ رقم دینے کے لئے سرخ لفافوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ سرخ لفافے کاغذی بھی ہو سکتے ہیں اور برقی بھی، بلکہ ٹیکنالوجی کی آمد سے برقی لفافوں کا رواج زیادہ فروغ پا رہا ہے۔ جہاں تک سال نو کی تقریبات کا تعلق ہے تو یہ سرخ لفافے عموما گھر کے بزرگ افراد کی طرف سے بچوں کو دیے جاتے ہیں۔

اور اس رقم کو خوش قسمتی سے ہمکنار سمجھا جاتا ہے۔ لہذا اس رقم کو لکی منی بھی کہتے ہیں۔ سرخ لفافوں کا یہ رجحان صرف گھر کے بزرگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ بہت سارے لوگ نیک خواہشات کے ساتھ ساتھ اپنے چاہنے والوں کو بھی برقی لفافے بھیجتے رہتے ہیں۔ چونکہ راقم اس وقت چائینہ میں مقیم ہے اس لیے اس قسم کا ذاتی تجربہ اس وقت ہوا جب ہمارے ادارے کے پروفیسر صاحبان سال نو کی آمد پر مسلسل برقی سرخ لفافے ممبران گروپ کو بھیجتے رہے اور اسی طرح جب ایک ساتھی کو میں نے (سین نیا ہاؤ) یعنی نئے سال کی مبارک باد کا پیغام بھیجا تو واپسی پہ نیک خواہشات کے ساتھ ایک لکی منی والا سرخ لفافہ بھی میری خوشیاں دوبالا کرنے کے لئے منتظر تھا۔

سال نو اور جشن بہاراں کی تقریبات کا اختتام چاند کی پندرہ تاریخ کو میلہ چراغاں (لینٹرن فیسٹیول) سے ہوتا ہے۔ جب شام کے وقت میں مختلف چوراہوں پر لا لٹینیں اور فانوس روشن کیے جاتے ہیں۔ تاریخی طور پر کاغذ یا ریشم سے بنائی گئی لالٹینیں استعمال کی جاتی رہی ہیں جن کے درمیان موم بتیاں خوبصورتی سے سجا دی جاتی تھیں لیکن آج کل ایل ای ڈی لائیٹس سے کام چلا لیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *