سیاسی گفتگو منع ہے

ایک دفعہ میرا بیٹا جو پیدا امریکہ میں ہوا اور پلا بڑھا کینیڈا میں ہے مجھ سے کہنے لگا کہ ابا یہ دیسی انکلز جب کسی محفل میں جمع ہوتے ہیں تو صرف سیاست اور مذہب پہ بات کیوں کرتے ہیں؟ میں نے اس کو جواب دینے کے بجائے اس سے الٹا سوال کیا (جیسا کہ ہم دیسی کرتے ہیں) بیٹا جب تم اپنے دوستوں میں بیٹھتے ہو تو کیا باتیں کرتے ہو بولا ابا ہم کھیلوں کے متعلق باتیں

Read more

سردیاں

پاکستان میں سردیاں وقت بے وقت آجاتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ سردیاں 1958 میں آئی تھیں ورنہ اس سے پہلے ہمارے وطن کا موسم معتدل رہتا تھا خاص طور پر شہروں کا ، سردیاں زیادہ تر سرحدی علاقوں میں ہی رہتی تھیں اور ان کی وجہ سے ہمارے دشمن کانپتے رہتے تھے۔ سردیاں اگر صرف سرحدی علاقوں میں رہتیں تو شاید معاملات اسی طرح چلتے رہتے۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ یہ سردیاں بنا اجازت شہری علاقوں میں بھی

Read more

سوشل میڈیا کے جھوٹ

جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا آج میں بے خود دہلوی صاحب کے اس شعری استعارے والے جھوٹ کی بات نہیں کروں گا کہ جس کے بغیر ہماری رومانی اور غزل کی روایات ایک قدم بھی نہیں چل سکتیں بلکہ اس جھوٹ کی بات کروں گا جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے یعنی وہ چل نہیں سکتا۔ لیکن آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور نے

Read more

شاعری

میں کہ ٹھہرا ایک چھوٹا موٹا شاعر (بقول احباب کے چھوٹا کم اور موٹا زیادہ) مگر جب اشعار پہ داد کم ملے یا نہ ملے تو تھوڑا بہت نثر پہ بھی ہاتھ صاف کر لیتا ہوں۔ شاعری ایک ایسا ہنر ہے کہ اس کی پذیرائی کی امید بہت ہی مخصوص طبقے سے کی جا سکتی ہے۔ اسی وجہ سے جو صحیح شاعر ہیں وہ ہر جگہ شعر پڑھنے سے اجتناب برتتے ہیں۔ کبھی یہ خوف ہوتا ہے کہ سامعین کو

Read more

ہماری زبان میں ایک حرف ہے ٹ

ہماری زبان میں ایک حرف ہے ٹ، نہ جانے کیوں ٹ ذہن میں آتے ہی ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ اسی کے ذریعے سے ہم کسی چیز کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں یعنی ٹائیں ٹائیں فش۔ اسی سے باتیں ٹالی جاتی ہیں اور اسی کے ذریعے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے۔ اگر کسی شے کو آپ صرف ٹٹول کر دیکھیں گے تو آپ اس کا پورا ادراک نہیں کر سکتے یعنی ادھورے پن کا احساس رہ

Read more

آہ! پروفیسر عنایت علی خان

دو ہزار سات یا آٹھ کی بات ہے رات کے کوئی نو بجے میرے بھائی کا فون آیا مشاعرے میں چل رہے ہو؟ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، میں نے فوراً کہا چلو۔ بھائی نے کہا، تو میرے پاس آجاؤ۔ ڈیفنس سے اٹھ کر فوراً ہی بھائی کے پاس این ای ڈی کی اسٹاف کالونی میں ان کے گھر پہنچا اور وہاں سے ہم دونوں اسٹیل ٹاؤں یعنی گلشن حدید کے لیے چل پڑے جب مشاعرے میں پہنچے تومشاعرہ اپنے

Read more

دل سے جو بات نکلتی ہے

کبھی کبھی بڑی خوشی ہوتی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اورپاکستانی قوم اخوت اور وحدت کی راہ پر چل پڑی ہے اور منزل ہے کہ بس آیا ہی چاہتی ہے۔ ہماری خوشیاں سانجھی ہورہی ہیں ہمارے غم ایک ہوا ہی چاہتے ہیں۔ اب نا انصافیوں کاخاتمہ بہت قریب ہے، ظالم کا گھر جلنے میں ہوسکتا ہے کچھ دیر باقی ہو مگر غریب کا چولہا اب جلا کہ تب جلا۔ تعلیم کا زیورلوہے سے سستا ہونے ہی والا ہے

Read more