کیا آپ نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں؟


میں اپنی زندگی میں بہت سے ایسے نئے لکھاریوں سے مل چکا ہوں جنہوں نے مجھے بتایا کہ سینیر ادیبوں اور شاعروں ’ دانشوروں اور ناقدوں نے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی نہ کی بلکہ ان کی حوصلہ شکنی بھی کی اور ان سے کہا

‘آپ کو لکھنا نہیں آتا’

‘ آپ لکھنا چھوڑ دیں’

‘آپ اپنا وقت ضائع نہ کریں’

‘ آپ دوسروں کا بھی وقت ضائع نہ کریں’

ایسے لکھاریوں کی جب میں نے حوصلہ افزائی کی تو پہلے تو انہیں یقین ہی نہ آیا اور وہ سمجھے کہ میں مذاق کر رہا ہوں لیکن جب میری حوصلہ افزائی جاری رہی تو پھر انہیں دھیرے دھیرے یقین آنے لگا کہ میں حوصلہ افزائی کرنے میں سنجیدہ ہوں۔

جب نئے لکھاری میری حوصلہ افزائی کرنے کی وجہ پوچھتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں کہ میں اپنا قرض ادا کر رہا ہوں۔ جب وہ اس قرض کی تفصیل جاننا چاہتے ہیں تو میں انہیں بتاتا ہوں کہ زمانہِ طالب عملی میں خیبر میڈیکل کالج کے ایک مشاعرے میں جب میں نے پہلی بار اپنی نظم ‘سرخ دائرہ’ پڑھی تو احمد ندیم قاسمی’ محسن احسان اور احمد فراز نے نہ صرف مجھے پہلا انعام دیا بلکہ ایک VENUS کا مجسمہ دے کر میری حوصلہ افزائی بھی کی۔ اگلے دن جب میں آرٹس کونسل کے دفتر میں احمد فراز سے ملا تو وہ کہنے لگے کہ انہوں نے اس موضوع پر اردو ’ فارسی اور انگریزی ادب میں پہلے کوئی نظم نہیں پڑھی۔

میں نے انہیں بتایا کہ میں پشاور کے زنانہ ہسپتال کے لیبر روم میں کام کرتا ہوں اور عورتوں کے مسائل پر نظمیں لکھتا ہوں۔

جب میں نے اپنی نظموں اور غزلوں کا پہلا مجموعہ ‘تلاش’ مرتب کیا تو میرے شاعر چچا عارف عبدالمتین نے میری رہنمائی کی۔

کینیڈا میں جب میں نے پانچ سالوں میں پانچ کتابیں چھپوائیں تو میرے ادیب اور شاعر دوست بہت پریشان ہوئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اگر آپ اسی رفتار سے لکھتے رہے تو جلد لکھنا بند کر دیں گے اور WRITER’S BLOCK کا شکار ہو جائیں گے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ فیض اور فراز نے پوری زندگی میں چار شعری مجموعے چھپوائے اور آپ نے پانچ سالوں میں پانچ کتابیں چھپوا دیں۔ دوستوں کی پریشانی سے میں اتنا دلبرداشتہ ہوا کہ میں اپنے شاعر چچا عارف عبد المتین سے مشورہ کرنے نیویارک چلا گیا۔ انہوں نے میرا ادبی مسئلہ بڑے غور سے سنا اور پھر مری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا ‘ سہیل بیٹا ! اول تو آپ کی پانچ کتابیں پانچ مختلف اصناف سے تعلق رکھتی ہیں

ایک کتاب شاعری کا مجموعہ ہے

دوسری کتاب افسانوں کا مجموعہ ہے

تیسری کتاب عالمی ادب کے تراجم کا مجموعہ ہے

چوتھی کتاب کا موضوع نفسیات ہے اور

پانچویں کتاب فلسفے سے تعلق رکھتی ہے

اس طرح وہ مختلف اصنافِ سخن کی پہلی کتاب ہیں۔

دوئم یہ کہ لکھاری دو گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلے گروہ کے ادیب اور شاعر تصورات کی دنیا WORLD OF IMAGINATION میں رہتے اور لکھتے ہیں۔ دوسرے گروہ کے ادیب اور شاعر روزمرہ زندگی سے اپنا تخلیقی مواد کشید کرتے ہیں۔ آپ کا تعلق دوسرے گروہ ہے اس لیے آپ بالکل فکر نہ کریں۔ آپ مرتے دم تک کتابیں لکھتے رہیں گے’

عارف عبدالمتین نے جو لکھاریوں کی دو اقسام مجھے بتائی تھیں میں نے ان کا ذکر کئی برس بعد ورجینیا وولف کی سوانح عمری میں بھی پڑھا جو ان کے شوہر لینرڈ وولف نے لکھی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ورجینیا وولف ڈیپریشن کے دوران بھی دوستوں کی محفلوں میں کچھ دیر کے لیے شریک ہوتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان محفلوں کا مشاہدہ اور تجربہ انہیں نیا ناول لکھنے کی تحریک دیتا ہے۔

میری ادبی زندگی کے آغاز میں پاکستان میں کشور ناہید اور ہندوستان میں جوگندرپال نے بھی میری حوصلہ افزائی کی۔ جوگندر پال تیس کلومیٹر کا سفر کر کے مجھ سے ملنے آئے اور مجھے قریب بٹھا کر بڑی محبت سے چند قیمتی مشورے دیے۔

کینیڈا میں میری ملاقات جن ادیبوں سے ہوئی ان میں شارب ردولوی اورمحمد حسن بھی شامل ہیں۔ محمد حسن چند دن میرے گھر رہے اور جاتے ہوئے میرے چند افسانے لے گئے۔ ہندوستان واپس جا کر انہوں نے اپنے رسالے ‘عصری ادب’ میں میرے لیے ایک گوشہ مختص کیا جس سے میں اردو ادب کے سنجیدہ قارئین سے متعارف ہوا۔

اگر یہ سب بزرگ لکھاری میری حوصلہ افزائی نہ کرتے تو میں اردو ادب میں اتنا کامیاب نہ ہوتا۔

مغرب میں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں CREATIVE WRITING کے کورس پڑھائے جاتے ہیں۔ مشرق میں ادب کے رسالے اور میگزین نئے لکھاریوں کی تربیت گاہ بنتے ہیں۔

جب سے میں نے ‘ہم سب’ پر لکھنا شروع کیا ہے وجاہت مسعود اور عدنان کاکڑ نے میری بہت حوصلہ افزائی کی ہے۔ ان کی نوازشات کی وجہ سے میرا ادبی دوستوں کا حلقہ وسیع سے وسیع تر ہو رہا ہے۔ اس کی ایک مثال ایک اجنبی دوست سے ملاقات ہے۔ ملائیشیا کے سفر کے دوران ایک پہاڑ کی چوٹی پر ایک صاحب مجھے دور سے دیکھ کر مسکرائے۔ میں بھی اخلاقاٌ مسکرایا۔ قریب آ کر پوچھنے لگے

‘کیا آپ ڈاکٹر سہیل ہیں؟

‘جی ہاں’

‘کینیڈا کے ڈاکٹر سہیل’

‘جی ہاں’

‘اور آپ ؟’

‘ میرا جرمنی میں رہتا ہوں۔ میرا نام راشد ملک ہے. ۔ ‘

‘ آپ مجھےکیسے جانتے ہیں؟‘

‘میں ‘ہم سب’ پر آپ کا کالم باقاعدگی سے پڑھتا ہوں اور دوستوں کو بھی پڑھواتا ہوں‘

میری نگاہ میں ایک کینیڈا کے لکھاری اور جرمنی کے قاری کی ملائیشیا میں ملاقات ‘ہم سب’ اور سوشل میڈیا کی کامیابی کی عمدہ مثال ہے۔

مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ ‘ہم سب’ نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی ہی نہیں ان کی تربیت بھی کرتا ہے۔

تیس برس کی محنتِ شاقہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایک اچھے لکھاری کے لیے یہ جاننا ہی کافی نہیں کہ کیا لکھنا ہے اور کیسے لکھنا ہے اس کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ کیا نہیں لکھنا اور کیسے نہیں لکھنا۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail