کرونا وائرس کی تباہی اور ہماری تشخیص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوائن فلو، برڈ فلو، ڈینگی وائرس اور کانگو وائرس کی تباہ کاریوں کے بعد دنیا آج کرونا وائرس کی زہر ناکیوں اور سنگین خطرات سے دوچار ہے۔ پچھلے دو ہفتوٗں کے دوران میں چین میں اس مرض یا وبا سے دو سو سے زائد افراد لقمہٕ اجل بن چکے ہیں اور پانچ ہزار سے زیادہ لوگ اس سے متاثرہ ہیں۔ چین سے ملحقہ ممالک مثلاً نیپال، آسٹریلیا، تائیوان، جاپان، بھارت، پاکستان، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، سری لنکا اور بنگلہ دیش وغیرہ میں بھی کرونا وائرس سے متاثر ہ افراد کے کیس دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

بیجنگ ونٹر اولمپکس بھی منسوخ کی جا چکی ہیں۔ چین میں ہائی الرٹ ہے۔ مختلف ممالک کی حکومتیں چین میں موجود اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے جتن کر رہی ہیں۔ چینی شہر ووہان میں حکومت نے محض چھ دن میں کرونا وائرس ہسپتال قائم کر کے اس وبا کے خلاف لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جاپان نے چار سو سے زائد اور امریکہ نے اپنے دو سو چالیس شہری پہلے ہی چین سے نکال دیے ہیں جب کہ ہماری وزارت خارجہ اور چین میں موجود سفارت خانے کے عملے کو خطرہ کی سنگینی کا علم ہی نہیں۔

سیکڑوں پاکستانی طلبہ چین میں پھنسے ہیں جن میں سے پانچ اس مہلک وائرس سے متاثر ہیں۔ پاکستانی حکومت نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی روایتی سستی اور کاہلی بلکہ سفاکی کا مظاہرہ کیا اور زندگی موت کو اللہ تعالٰی کی مشیّت سے منسلک کر کے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ یہ وبا چین کے صوبے ہوبی کے شہر ووہان سے شروع ہوئی جس کی تمام علامات نمونیہ سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ مرض باآسانی ایک مریض سے دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق چین میں یہ وائرس سب سے پہلے چمگادڑوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا۔ اس کے علاوہ دیگر پالتو جانور بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ مرض انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔

چین کی حکومت، محکمہٕ صحت، نجی و سرکاری ادارے اور عوام اس موذی مرض سے نمٹنے کے لیے پر عزم ہیں۔ اگرچہ ووہان میں ایمر جنسی اور لاک ڈاٶن کی وجہ سے اشیائے خور و نوش کی قلت پیدا ہو گئی ہے مگر اس کے باوجود وہاں کے شہری حوصلے و ہمت سے کھڑے ہیں۔ امریکہ سمیت دنیا بھر کے صحت سے متعلقہ اداروں میں اس مرض سے مقابلہ کرنے کے لیے جدید ترین خطوط پر ریسرچ جاری ہے اور ہمیں قوی امید ہے کہ میڈیکل سائنس کے ماہرین بہت جلد کوئی دوا تیار کر کے اس کا سد باب کر لیں گے۔

ادھر ایک ہم ہیں کہ اس طرح کی آسمانی یا زمینی آفت کو اللہ کے عذاب، قسمت کے لکھے یا مذہب کے ساتھ جوڑ کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز نے پاکستانیوں کو اس وائرس سے بچنے کا یہ نسخہ بتایا ہے کہ وہ کثرت سے وضو کیا کریں۔ یہ ہمارے آج کے دور کے مسیحا اور چارہ گر ہیں جو میڈیل سائنس کی ترقی کے عروج کے زمانے میں خلاف حکمت بیماری کا تعلق بھی مذہب سے جوڑ کر ہمیں سستا لالی پاپ دے رہے ہیں۔ ان سے کہیں بہتر اپروچ تو تین ہزار سال قبل گزرنے والے بقراط کی تھی جس نے اس دور میں سب سے پہلے یہ کہا تھا کہ بیماری کا تعلق مذہب سے نہیں ہوتا۔

ہمارے ایسے ہی ضعیف العتقاد لوگوں نے پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر یہ جھوٹ پھیلایا تھا کہ آسٹریلیا کے جنگلوں میں لگنے والی آگ وہاں موجود مسلمانوں کی طرف سے ادا کی جانے والی نماز استسقا کے نتیجے میں ہونے والی بارش سے ٹھنڈی ہوئی تھی۔ ہمارے شعلہ بیان مقررین، جیّد علمائے کرام اور ”تاریخ ساز“ کالم نگار ویسے تو ہر وقت دل کے تمام عارضوں کے لیے عجوہ کھجور کی گٹھلیوں کا سفوف بتاتے رہے مگر جب ان کے اپنے قلب میں گڑ بڑ پیدا ہوئی تو علاج کے لیے ملک کے جدید ترین دل کے ہسپتال جا پہنچے۔ مذہب ہر انسان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور معتدل مذہبی سوچ و رویہ رکھنا بھی کوئی قابل اعتراض بات نہیں مگر یہ کیا کہ قوانین فطرت سے منہ موڑ کر ہر چیز کو مذہب کے زاویے سے دیکھا جائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *