ٹی وی شو میں بوٹ: عدالت نے فیصل واوڈا کے بارے میں حکم جاری کر دیا
اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں جوتا لانے کے معاملے پر عدالت نے متعلقہ تھانے کو حکم دیا ہے کہ اگر فیصل واوڈا کے خلاف مقدمہ بنتا ہے تو ایف آئی آر درج کی جائے۔
کراچی کی سیشن عدالت میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی جانب سے ایک ٹی وی شو میں فوجی بوٹ لے کر آنے کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے کراچی کے میٹھا در تھانے کو حکم دیا کہ وہ درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کریں اور اگر مقدمہ بنتا ہے تو پھر ایف آئی آر درج کر دیں۔
فیصل وواڈا کے خلاف درخواست پیپلزپارٹی کے رہنما قادر مندوخیل ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار کا موقف تھا کہ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے 14 جنوری کو نجی ٹی وی چینل کے شو میں سینٹر جاوید عباسی کے خلاف غیرپارلیمانی گفتگو کی اور شو کے دوران بوٹ بھی اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دیا۔ پیپلزپارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں ووٹ دینے پر پپلزپارٹی پر بے بنیاد الزامات لگائے۔ فیصل واوڈا نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ سیاسی سرگرمیوں کے پیچھے آرمی کا ہاتھ ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں ووٹ اپوزیشن نے دباؤ پر دیا ہے۔ فیصل واوڈا نے پیمرا رولز کی خلاف ورزی کی اور آرمی کا تقدس پامال کیا ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ پولیس کو درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرنے اور فیصل واوڈا کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔ اس سے قبل ایس پی ساوتھ کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی اور بتایا گیا کہ درخواست گزار نے اندراج مقدمہ کیلئے رابطہ نہیں کیا۔ جس پر عدالت نے ایس ایچ او کو حکم دیا کہ درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرے اور اگر بیان کے بعد مقدمہ بنتا ہے تو درج کیا جائے۔
خیال رہے کہ قادر خان مندوخیل نے فیصل واوڈا کے خلاف این اے 249 سے جنرل الیکشن میں حصہ لیا تھا۔


