خُدارا! غریب سے جینے کا حق نہ چھینیں


زیادہ پرانی بات نہیں جب لوگ اپنی کم علمی کو ڈنکے کی چوٹ پر تسلیم کرتے تھے، اہلِ علم سے سیکھتے تھے اور فخر سے اپنے اساتذہ کا نام لیتے تھے، کسی غیر متعلقہ موضوع یا شعبے سے متعلق حتمی رائے کا اظہار تو درکنار، اپنی سو فیصد معلومات کے باوجود اسے حرف آخر تصور نہیں کرتے تھے، کسرنفسی کا دور تھا نہ کہ بلند و بانگ دعوؤں کا۔ زمانے کے تغیّر نے نامعلوم کب ہر ایک کو ہر ایک موضوع پر استاد، عالم اور مفتی بنادیا۔ اب کم علمی کا احساس ناپید ہوچکا، ہر شخص کے پاس ہر سوال کا جواب ہے، اگر جواب نہیں تو جواب در جواب یا پھرجواباً ویسا ہی سوال موجود ہے، ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ کوئی کسی دوسرے کی دلائل سے بھرپور انتہائی منطقی بات بھی ماننے کو تیار نہیں۔ سونے پہ سہاگہ، سماجی ذرائع ابلاغ تک رسائی ہر شخص کو حاصل ہے، قطع نظر کسی موضوع کی حساسّیت یا نزاکت یا پھر ان متوقع نتائج کے جو پہلے سے ہی پِسے ہوئے طبقات کے لوگوں کے زخموں پہ نمک چھڑک سکتے ہیں، جس کے جی میں جو آتا ہے بغیر کسی غورو فکر کے کہہ دیتا ہے

ابھی کچھ روز قبل ایک بزرگ کو کہتے سنا کہ غربت سرے سے ہمارے ملک میں موجود ہی نہیں، ہم ہر لحاظ سے اپنے آباؤاجداد سے بہتر زندگی بسر کررہے ہیں، اس ضمن میں بظاہر انکے دلائل بڑے دلچسپ اورمنطقی تھے، مثلاً جب انہوں نے پرانے دور کی محدود سہولیات اور بے شمار تکالیف کا موازنہ موجودہ دور کی لامحدود آسائشوں اورآسانیوں کے ساتھ کیا تو ایک لمحے کے لیے یوں لگا جیسے وہ سچ کہہ رہے ہوں اور غربت محض ایک تصوراتی شے ہو اور اس کا حقیقت میں کوئی وجود ہی نہ ہو۔

کاش یہ بات کرنے سے پہلے زیادہ نہیں وہ محض اتنا جان لیتے کہ غربت محض دو یا دو سے زیادہ ادوار میں میّسرعمومی سہولیات اور آسائش کے تقابل کا نام نہیں بلکہ لوگوں کی ایک بڑی اکثریت کا ایک آرام دہ زندگی اور اسکے لیے لازم بنیادی ضروریات تک رسائی نہ ملنے کا نام ہے، محض کم آمدن ہونا غربت نہیں بلکہ غربت دراصل وہ سماجی، معاشی، اخلاقی اور سیاسی استحصال ہے جس کا اظہار آئے دن لوگ اپنے یا اپنے کسی لخت جگرکا گلہ دبا کرکرتے ہیں، جہاں موت کو زندگی پر ترجیح دی جاتی ہے۔

اگر وہ حالات سے تنگ آئے لوگوں ک اپنی اولادوں کو سر بازار فروخت کرنے، خود اپنے ہاتھوں سے ان کی جان لینے یا خودکشی کرنے والوں کا ایک تقابل بھی کرلیتے تو شاید مفلسی کی دردناک زندگی کوسمجھنے میں انہیں نہ صرف آسانی رہتی بلکہ غریب کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی بجائے اسکی داد رسی اور مداوے کے لیے آواز بلند کرتے۔ غربت پر تجزیے اورمفلسی کو محسوس کرنے کے درمیان ایک کٹھن، پرخار اور طویل راستہ ہے

Facebook Comments HS