جی ہاں! میں خواب دیکھتا تھا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے آج تک اپنے بارے میں ایک چیز چھپائی ہے۔ میں نے پانچویں جماعت کے بعد کسی قسم کی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی۔ آخری بار جب میں کسی جماعت میں رسمی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے بیٹھا تھا تو وہ راولپنڈی میں ایک اسکول تھا۔ پھر حالات، واقعات نے ایسی کروٹ بدلی کی میری زندگی پلٹ کر رہ گئی۔ یہ بات شاید فخر یا ملامت کا باعث ہو، لیکن شاید میرے اندر جو طوفان آج اٹھا ہے اس کو لکھے بغیر میں رہ نہیں سکوں گا۔

آج ہود بھائی کا ایک کالم ایک مشہور انگریزی روزنامے میں پڑھا تو دل بیٹھ سا گیا۔ ایک نامور ریاضی دان پاکستان چھوڑ کر جارہے ہیں۔ یہ سن کر دل میں چبھن اٹھی، چونکہ ان بیوروکریٹس، سیٹھوں، سیاست دانوں، فوجی جرنیلوں، مافیا کے بیچ کچھ بچے شاید اب بھی تعلیم اور علم حاصل کرنے کے شوقین ہیں، کچھ نوجوان آج بھی ترسی نگاہوں سے علم کے سمندر میں ڈوبنا چاہتے ہیں، کچھ قلم آج بھی کسی رہبر کے منتظر ہیں۔ کچھ سوالیہ نگاہیں آج بھی کسی استاد کو ترستی ہیں جو ان کے بیڑے کو منزل کی طرف دھکیل سکے، کچھ لوگ اپنے دل میں لئے سوالات تعلیمی شعبے جات میں علم کے چراغ کی لو ڈھونڈتے ہیں، کچھ لوگ آج بھی استادوں کی راہ تکتے ہیں۔ لیکن، اب تعلیم ایک عیاشی ہے، ایک کاروبار، ایک سند جو چند پیسے دے کر حاصل کی جاتی ہے اور ہمارے بالاتر طبقات پاکستان میں علم کی لو اور نوجوانوں کی سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی صلاحیتوں سے جتنا ڈرتے ہیں اس کا علم سب کو ہے۔

یہ تو چیدہ چیدہ قافلے ہیں جنہوں نے حقیقی علم کی لو جلائی ہوئی ہے، بس یہی ہمارا اثاثہ ہیں، ان میں سے ایک اور کم ہوگیا تو یقین مانیے اندھیرا یقینی طور پر بڑھا ہوگا۔

میں نے آج تک جو سیکھا ہے، وہ اپنے موبائل کی چھ انچ کی سکرین سے اور اپنی تھوڑی بہت سمجھ بوچھ جو میرے پاس ہے اس سے۔ گوگل میرا استاد ہے، جو میرے سوال کرنے پر غصہ نہیں ہوتا، جو میرے خوابوں کو کچلتا نہیں، جو مجھے آگے بڑھنے کے لئے ہمت اور راستے بتاتا ہے، وہ مشکل اور چبھتے سوالات پر سیخ پا نہیں ہوتا، جو مجھے ذلیل کیے بغیر سکھانے پر یقین رکھتا ہے۔ لیکن، گوگل کی بہرحال کچھ حدود ہیں اور یہاں میرا المیہ شروع ہوجاتا ہے، متعدد بار کوشش کرنے کے باوجود میں خود ساختہ تعلیم کے علاوہ کسی جامعہ کا حصہ نہیں بن سکا۔

علم اور تعلم کے لئے مجوزہ ضروریات میرے پاس نہیں اور نہ ہی میری دسترس میں ہیں۔ ہاں، میں نے خواب دیکھا تھا، ریسرچر بننے کا، کتب لکھنے کا، سیکھنے، سمجھنے کا اور شاید جب تک مجھ میں ہمت رہی اور سانس باقی رہی، میں کوشش کروں گا۔ میں نے کئی لوگوں کے لئے Ghost writerکے طور پر کام کیا ہے، متعدد نوجوانوں کی اسائنمنٹس کیں، کئی تھیسس اور فلموں کے لئے سکرپٹ لکھے، امیر زادوں کو ان جامعات میں جاتے دیکھا جہاں میں برسوں ای میلز، سکالر شپ آپشنز دیکھا کرتا تھا، ریسرچ پیپر، مقالے بھی لکھے کیونکہ میرا شمار ان کالے پیلوں میں ہوتا ہے جو پاکستان کے دوسرے درجے کے شہری ہیں اور ان کے لئے تعلیم فقط کلرکی کے لئے ہی مختص کی گئی ہے اور سے زیادہ سوچنا، سمجھنا، خواب دیکھنے کی گنجائش ہمارے لئے نہیں ہے۔

تو یقین مانیے، یہ پڑھ کر میرا دل ڈوب سا گیا۔ کیونکہ میرے لئے تو وقت شاید گزر گیا، لیکن کل شاید ایک اور نوجوان، آنکھوں میں خواب لئے جب تگ و دو کرے گا تو اس کے لئے ایک چراغ کم ہوگا۔ مجھے آج اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہم ایک مرتی ہوئی نسل ایک ایسے سماج میں زندہ ہیں جس نے تمام انسانی تصورات، احساسات، جذبات، علم، شعور، آزادیوں کو خیرباد کہہ کر ایذا پسندی، تشدد، رجعت پسندی پر مبنی مرتا ہوا ہجوم تیار کردیا ہے، جہاں علم ایک غیر ضروری بیماری، ایک چبھن ہے جس کو جڑ سے اکھاڑنا ہی مقصد ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *